عمران خان کے ”اعتراف“ پر تنازع

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے ایران کے دورے میں صدر حسن روحانی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہے گئے ایک جملے کو ”اعتراف“ قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھائے ہیں ۔

پریس کانفرنس کے دوران پاکستانی وزیراعظم نے ایک موقع پر کہا کہ ”ہم جانتے ہیں کہ ایران بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا اور ایسے گروپ کی جانب سے جو پاکستان کی سرزمین سے کام کرتے ہیں۔“

اس پریس کانفرنس میں دونوں ملکوں نے سرحدی علاقے میں سیکیورٹی اقدامات کو بہتر بنانے کے لئے مشترکہ ریپڈرسپانس فورس تشکیل دینے کے فیصلہ کا بھی اعلان کیا ۔

پیر کو  تہران میں پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سیکیورٹی اقدامات بہتر بنانے پر اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ’ کوئی تیسرا ملک پاک ایران تعلقات پر اثرانداز نہیں ہو سکتا۔’ایران کے صدر نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کو دس گنا زیادہ بجلی فراہم کرنے کو تیار ہے۔  


پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔دونوں ممالک دہشت گردی سے متاثر ہیں، اسی لئے وہ ایران کے دورے پر آئے ہیں۔’ پاکستان اپنے ملک سے تمام عسکریت پسند گروپوں کا خاتمہ کر رہا ہے۔’


عمران خان نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں نے ہمارے 14 جوانوں کو قتل کیاجبکہ مجموعی طور پر 70 ہزار سے زائد افراد دہشت گردی کی جنگ میں مارے جاچکے ہیں۔


پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اپنے وفد کے ہمراہ پہلے دورہ ایران پر اتوار کو مشہد پہنچے تھے جہاں گورنر مشہد نے ان کا استقبال کیا۔وزیراعظم عمران خان کواس دورے کی دعوت صدر روحانی نے دی ہے۔


پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات میں زیادہ گرمجوشی نہیں رہی بلکہ سرحدی امور پر دونوں ممالک میں تنازع رہا ہے۔   
واضح رہے کہ 18 اپریل کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے 14 اہلکاروں کو بسوں سے اتار کر مارا گیا۔

پاکستان نے اس واقعہ کا الزام ایران میں موجود ایک دہشت گرد گروپ پر عائد کیا اور سلسلے میں دفتر خارجہ نے ایرانی سفارتخانے سے سخت احتجاج کرتے ہوئے مراسلہ بھیجا۔

ایران میں رواں برس 13 فروری کو کار دھماکے میں 27 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد ایران نے الزام عائد کیا تھا کہ اس حملے کے لئے القاعدہ کے دہشت گرد گروپوں نے پاکستان کی سرزمین استعمال کی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے