عمران خان کا جغرافیہ ’کمزور‘ ہے

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے جغرافیہ کس سکول یا یونیورسٹی سے پڑھا ہے اور پڑھا بھی یا نہیں مگر اب سوشل میڈیا کے صارفین ان کے مداحوں کو دنیا کا جغرافیہ نقشے پر لکیریں بنا کر پڑھا رہے ہیں ۔

اپنے حالیہ ایرانی دورے میں وزیراعظم عمران خان کی ایک تقریب میں خطاب کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں نے انہوں نے پڑوسی ملکوں کے تجارتی تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے یورپی ملک جرمنی اور ایشیائی ملک جاپان کی مثال دے کر دونوں ملکوں کو ہمسائے قرار دے دیا ۔

اپنی تقریر میں عمران خان نے ایران کے تاجروں کے ’علم میں اضافہ‘ کرتے ہوئے کہا کہ ’جتنی زیادہ آپ تجارت کریں گے آپ کے تعلقات اتنے ہی مضبوط ہوں گے۔ جرمنی اور جاپان نے آپس کی جنگوں میں لاکھوں شہریوں کو ہلاک کیا۔ پھر دوسری جنگِ عظیم کے بعد انھوں نے فیصلہ کیا اور جاپان اور جرمنی کی سرحد پر مل کر صنعتیں لگائیں۔ اب ان کے درمیان خراب تعلقات کا کوئی سوال ہی نہیں کیونکہ ان کے اقتصادی مفادات ایک ہیں۔‘

اب سوشل میڈیا پر بعض صارفین عمران خان پر طنز کرتے ہوئے ان کو دنیا کا جغرافیہ تبدیل کرنے والا عالمی رہنما قرار دے رہے ہیں تو کوئی سوال پوچھ رہا ہے کہ جب دوسری جنگ عظیم میں جرمنی اور جاپان اتحادی تھے تو پھر ایک دوسرے کے لاکھوں شہریوں کو کیسے ہلاک کیا؟

ایک صارف نے دنیا کے نقشے پر لکیر لگا کر پوچھا ہے کہ ’ہزاروں میل دور واقع یہ دو ملک ایک دوسرے کے ہمسائے کیسے ہو سکتے ہیں۔‘

بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کے اس بیان پر تعلیمی ادارے آکسفورڈ یونیورسٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔

انہوں نے ٹویٹ کیا کہ ”ہمارے وزیراعظم کا خیال ہے کہ جرمنی اور جاپان مشترکہ سرحد رکھتے ہیں۔ کتنی شرمناک صورتحال ہے، جب آکسفورڈ یونیورسٹی کسی کو محض کرکٹ کھیلنے کی بنیاد پر داخلہ دے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔“

تاہم وہ عمران خان اور ان کے سوشل میڈیائی فوجی ہی کیا جو ہار مان جائیں ۔

علی سلمان علوی اور دیگر کئی نامی گرامی تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کے ایکٹیوسٹ عمران خان کے دفاع میں ہمیشہ کی طرح ڈٹے ہوئے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے