نوکری یا کاروبار؟ جدید تحقیق سامنے آ گئی

ایک تحقیق کے مطابق نوکری پیشہ لوگ ذہنی طور پر غلام بن جاتے ہیں جبکہ اپنا کاروبار کرنے والے ہمیشہ سوچتے اور دماغ سے کام لیتے ہیں ۔

ثنا اللہ گوندل ایڈووکیٹ کی اس تحقیق کو فیس بک پر موجود بعض صارفین مذاق یا لطیفہ قرار دیتے ہیں ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے یہ تحقیق فیس بک پر ہی شائع کی ہے ۔

ثنا اللہ گوندل ایڈووکیٹ کی تحقیق کے مطابق انہوں نے ”ایک سرکاری نوکر سے پوچھا آپ لوگ کام کیوں نہیں کرتے؟ بولا کام کرنا ہوتا تو سرکاری نوکری کیوں کرتا؟“

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری ملازم نے ان کے سوال پر ”ایک لطیفہ سنایا کہ کسی نے ایک نابینا سے پوچھا حافظ جی حلوہ کھائیں گے۔
تو آپ کے خیال میں میں نابینا رویت ہلال کمیٹی کی چیئرمینی کے لیے ہوا ہوں؟ نابینا نے جواب دیا ۔“

تحقیق کار کا کہنا ہے کہ ”مرزا صاحب فرماتے تھے کہ نوکری کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اپنے طور پر زندہ رہنے یا روزی کمانے کا حوصلہ یا صلاحیت نہیں رکھتے ۔ (خود مرزا صاحب بھی نوکری کرتے ہیں) ۔“

ثنا اللہ گوندل لکھتے ہیں کہ ”اپنا کام کرنے والے چاہے دکاندار ہوں، سرمایہ دار ہوں یا پنکچر لگانے والے۔ انھوں نے خود سوچنا ہوتا ہے، کرنا ہوتا ہے، اپنی چھٹی، اوقات کار اور دھندے کی تمام منصوبہ بندی خود کرنی ہوتی ہے۔ جبکہ نوکری والے مزاجا وہ کرنے والے ہوتے ہیں جو انھیں بتایا جائے۔“

تحقیق کے نتائج نہایت ہولناک ہیں جس کے مطابق ”وہ سول یا سویلائزڈ سرکاری نوکر جو خود اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرنے کی تکلیف سے بچنے کے لیے نوکری کرتے ہیں وہ سیاستدانوں اور تاجروں و صنعتکاروں کو بذریعہ سرکاری اختیارات بتاتے، سمجھاتے اور سکھاتے ہیں کہ سیاست یا دھندہ کیسے کرتے ہیں۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔“
محقق ایڈووکیٹ لکھتے ہیں کہ ”ہمارے ہاں ریاست آپ کے برے دنوں میں مدد نہیں کرتی لیکن اچھے دنوں میں ٹیکس لینے، لائسنس چیک کرنے، قانون لاگو کرنے پہنچ جاتی ہے۔“

ادارے کا اس تحقیق سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button