سپریم کورٹ: صحافیوں کی سزا برقرار

میانمارمیں روہنگيا قتل عام کی جانچ کرنے والے صحافیوں کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی گئی ہے ۔

میانمار کی سپریم کورٹ نے خبررساں ادارے روئٹرز کے دو صحافیوں کی ملکی رازوں سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی ہے۔

میانمار کی مقامی عدالت نے گزشتہ سال ستمبر کے مہینے میں روئٹرز سے وابستہ صحافی وا لون اور کیاواو کو روہنگیا کے قتل عام کی جانچ کے دوران  ملکی رازوں سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کرنے پر سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔

صحافیوں پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے روہنگیا کے خلاف تشدد کی جانچ کے دوران ملکی راز کی خلاف ورزی کی ہے۔

منگل کے روز دارلحکومت میں سپریم کورٹ کے جج سوئی نینگ نے اپنی رولنگ میں کہا، ‘انہیں سات سال قید کی سزا دی گئی تھی اور یہ فیصلہ برقرار رہے گا، ان کی اپیل مسترد کی جاتی ہے۔”

روئٹرز کے مطابق عدالت نے اپیل مسترد کرنے کی وجوہات نہیں بتائی۔

  33 سالہ وا لون اور 29 سالہ  کیاو او 16 مہینے سے جیل میں ہے۔ صحافیوں کو دسمبر 2017 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ 10 روہنگیا مسلمان مردوں اور بچوں کے قتل کی جانچ کر رہے تھے۔

صحافیوں کے وکلا نے سزا کے خلاف سپریم کورٹ دائر اپیل میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے ثبوتوں کی عدم موجودگی کے باوجود سزا دینے کی نشاندھی کی تھی۔

صحافی وا لون اور کیاو او کو سرکاری دستاویزات کے ساتھ گرفتار کیا گیا جو انھیں کچھ دیر قبل پولیس افسروں نے دی تھیں۔

گزشتہ سال ٹرئل کے دوران ایک پولیس اہلکار نے مقامی عدالت کو بتایا تھا کہ پولیس نے صحافیوں کو دستاویزات انہیں جال میں پھنسانے کے لیے دی تھی ۔

اس معاملے کو ملک میں وسیع پیمانے پر میڈیا کی آزادی کے لیے امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

32 سالہ وا لون اور 28 سالہ کیاو سیو او شمالی رخائن کے گاؤں اندن میں فوج کے ہاتھوں دس افراد کے قتل کے متعلق شواہد اکٹھا کر رہے تھے۔

روئٹرز کے مطابق جانچ کے دوران انھیں دو پولیس افسروں نے دستاویزات پیش کیں تھی لیکن پھر ان دستاویزات کے ان کی تحویل میں ہونے کے جرم میں انھیں فورا گرفتار کر لیا گيا۔

اس کے بعد حکام نے اس گاؤں میں ہونے والے قتل کے معاملے میں اپنی جانچ کرائی اور تسلیم کیا کہ وہاں قتل عام ہوا تھا اور پھر یہ وعدہ کیا کہ اس کے مرتکبین کے خلاف کارروائی کی جائے گي۔

خیال رہے صحافیوں کی گرفتاری کی آزادی صحافت کے لیے کام کرنے والے اداروں اور کارکنان، مغربی سفارتکار اور عالمی رہنماؤں نے مذمت کی تھی۔

روہنگیا مسلمانوں کے قتل کی جانچ کی جس سٹوری پر وا لون اور کیاو سیواو کام کر رہے تھے، اسے ان کے ساتھی صحافیوں نے مکمل کی تھی۔ مذکورہ سٹوری 2018 میں چھپ گئ تھی جسے گذشتہ ہفتے پلٹزر پرائز سے نوازا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے