سعودی عرب میں 37 سر قلم کر دیے گئے


سعودی عرب میں حکام نے سرکاری طور پر تصدیق کی ہے کہ دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام ثابت ہونے پر 37 شہریوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کر لیا گیا ہے۔


 سعودی عرب کی سرکاری خبر ایجنسی نے حکام سے منسوب ایک بیان میں کہا ہے کہ سزائے موت پانے والے افراد دہشت گرد میں ملوث تھے اور شدت پسندانہ خیالات رکھتے تھے جنہوں نے امن وامان خراب کرکے عدم استحکام پیدا کیا۔

کہا جاتا ہے کہ  37  افراد کو ایک دن سزائے دنیا میں نئی مثال ہے ۔ ان افراد کی سزاؤں پر دارالحکومت ریاض، مکہ، مدینہ اور شیعہ اقلیت والے مشرقی صوبے میں عمل درآمد کیا گیا ۔

سعودی عرب میں موت کی سزا عام طور پر گردن کاٹ کر دی جاتی ہے ۔

منگل کو سزا پانے والے ایک شخص کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کو موت کے بعد لٹکایا بھی گیا ۔ ایسا سنگین جرائم میں ملوث افراد کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔

سعودی عرب میں دہشت گردی، قتل ، ریپ، مسلح ڈکیتی اور منشیات سمگلنگ پر سزائے موت دی جاتی ہے ۔

 سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سعودی عرب میں اس سال کے آغاز سے اب تک 100افراد کو سزائے موت دی گئی ہے ۔

سعودی عرب کے بعدایران دوسرا ایسا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ سزائے موت دی جاتی ہے ۔ 

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سعودی عرب میں گذشتہ برس 149افراد کو سزائے موت دی گئی تھی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے