عالمی مارکیٹ میں تیل کیوں مہنگا ہوا؟

عالمی مارکیٹ میں تیل کی فی بیرل قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہ سنہ 2019 کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں ۔ 

تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل خریدنے والے ملکوں پر پابندی عائد کیے جانے کے اعلان کے بعد ہوا ہے۔ 

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق منگل کو امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل کے خریداروں پر پابندیوں کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں چھ ماہ کی بلند سطح پر پہنچیں ۔  

ٹرمپ انتظامیہ نے کہا تھا کہ اب وہ ایسے کسی بھی ملک کو پابندیاں عائد کرنے سے استثنا نہیں دیں گے جو ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھے گا۔ 

سعودی عرب نے امریکی اعلان کا خیرمقدم کیا ہے ۔ 

پیر کو سعودی وزیر توانائی خالد الفالیح نے کہا تھا کہ ان کا ملک تیل پیدا کرنے والے دیگر ملکوں کے ساتھ مل کر اقدامات کرے گا تاکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی طلب و رسد کا توازن یقینی بنایا جا سکے۔

امریکہ نے گذشتہ برس نومبر میں ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد اس سے تیل خریدنے والے ممالک کو چھ ماہ تک استثنا دیا تھا جو دو مئی کو ختم ہو جائے گا ۔


امریکی خبررساں ادارے کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کی وجہ سے ایران کی 50 ارب ڈالر کی آمدن ختم ہو جائے گی جو امریکی الزام کے مطابق ایران مشرق وسطی اور خطے میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے خرچ کرتا ہے۔ 

خیال رہے کہ اس وقت چین، انڈیا، جاپان، جنوبی کوریا اور ترکی ایرانی تیل کے بڑے خریدار ہیں ۔ 


کہا جا رہا ہے کہ اگر ایران پر امریکی پابندیوں کا اثر پڑا تو عالمی مارکیٹ میں روزانہ 12 لاکھ بیرل تیل کی کمی ہوجائے گی ۔

دوسری جانب یہ بات بھی اہم ہے کہ کتنے ممالک امریکی اعلان کے باوجود ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھتے ہیں ۔ 


ادھر امریکی فیصلے کو یورپی یونین پہلے ہی تنقید کا نشانہ بناچکا ہے۔

یورپین کمیشن کے ترجمان ماجا کوسیجانسیک نے امریکی فیصلے کو افسوسناک قرار دیا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اس فیصلے سے ایران کے ساتھ کیے جوہری معاہدے کو مزید نقصان پہنچے گا۔’

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے