عمران خان کے دفاع میں

خان صاحب نے پیر ۲۲ اپریل کو تہران میں ایک کانفرنس میں کہہ دیا کہ جرمنی اور جاپان آپس میں دشمن تھے اور جب انہوں نے اپنی سرحد پہ مل جل کر کاروبار شروع کئے تو معاشی مفادات کی وجہ سے ان کی دشمنی باہمی دوستی میں بدل گئی۔

کچھ پٹواری صفت لوگ نقشے کھول کر بیٹھ گئے اور ثابت کرنے لگے کہ خان صاحب کو نہ جغرافیے کا پتہ ہے اور نہ تاریخ کا۔ ان کے بقول جاپان اور جرمنی دونوں عظیم جنگوں میں ایک دوسرے کے دشمن نہیں اتحادی تھی۔ دوسرا اعترض ان بد باطنوں کو یہ ہے کہ دونوں ممالک کی سرحدیں ایک دوسرے سے نہیں ملتیں بلکہ ان کے بیچ میں میں ہزارہا کلومیٹر کا فاصلہ حائل ہے۔

ہم ان کھوتا خور پٹواری، دانش گردوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ خان صاحب نہ صرف تاریخی بلکہ جغرافیائی شعور سے بھی مالا مال ہیں۔ ان کی تسلی کے لئے ہم اپنی تحقیق شئیر کئے دیتے ہیں۔

مشہور مسلمان جغرافیہ دان البیرونی نے اپنی مشہور تصنیف "تحدید نہایۃ الاماکن تصحیح سافات المساکن” میں لکھا ہے کہ "تاریخ میں جابانیہ اور اور جرمانیہ نام کی دو ریاستیں ایک دوسرے کے ہمسایہ تھیں اور ان میں ہر وقت جنگ رہتی تھی”۔

ستر قبل مسیح کے مشہور یونانی تاریخ دان ٹالمی (Ptolmy) کا تحقیقی کام جو موجودہ سائینسدانوں کے ہاتھ لگا ہے، اس میں لکھا ہے ” ایک عجیب ملک ہے جس کے لوگوں کی ناک چپٹی ہے دوسرا ملک جس کے لوگ گورے ہیں ایک دوسرے کے ہمسائے ہیں”۔

ایم آئی ٹی کے ماہرین نے مشہور چرنوبل انعام یافتہ جغرافیہ دان ڈاکٹر ڈونل ڈک کی قیادت میں ان مخطوطوں پر مزید تحقیق کی تو پتہ چلا کہ جابانیہ اصل میں جاپان کا پرانا نام ہے اور جرمانیہ اصل میں جرمنی ہے۔ ڈائنوسارس کے زمانے میں دونوں خطے اکٹھے ہی ہوتے تھے اور وہاں ڈائنوسارس کی جنگیں وقوع پزیر ہوا کرتی تھیں۔

دونوں ممالک میں دریافت ہونے والے ڈائنوسارسز کے فوسلز کا نیوکلیائی ڈی این اے کیا گیا تو پتہ چلا کہ وہ ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ماہرین نے جب اس سوال پر غور کرنا شروع کیا کہ یہ خطے اگر اکٹھے تھے جیسا کہ تاریخی مخطوطوں میں درج ہے اور تحقیق سے ثابت ہوتا ہے تو یہ الگ کیسے ہو گئے ۔

اس سوال کا جواب ڈھونڈنے میں سائینسدانوں کی ایک دہائی خرچ ہو گئی۔ اسی تحقیق پر ڈاکٹر ڈونل ڈک کو چرنوبل انعام سے نوازا گیا۔ ان کی تحقیق کے مطابق لاکھوں سال قبل کرہ ارض پہ ایک سونامی آیا تھا ۔۔ جس کی وجہ سے زلزلے برپا ہونے شروع ہوئے ۔ جو دونوں ممالک کی ٹیکٹیکل پلیٹس کو ایک دوسرے سے دور کرنے کا باعث بنے اور کئی صدیوں میں دونوں خطے آہستہ آہستہ موجودہ مقام پر پہنچ گئے۔ یہ سفر آج کل بھی جاری ہے۔

انہی ٹیکٹکل پلیٹس کی وجہ سے جاپان میں ہر وقت چھوٹے بڑے زلزلے آتے رہتے ہیں۔ جاپان ٹیکنالوجی کے بعد زلزلوں کے لئے مشہور ہے۔ کچھ سکالرز کا خیال ہے یہ تاریخی سونامی طوفانِ نوحؑ ہو سکتا ہے لیکن اس کا کوئی سائیسی ثبوت نہیں مل سکا۔ ناقدین کا خیال ہے طوفانِ نوحؑ کے وقت کرہ ارض پر ڈائنوسارس نہیں پائے جاتے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

سائینسدان اور مورخ اس امر میں خاموش ہیں کہ دونوں ممالک نے سرحدوں پر کس کاروبار کو شروع کیا تھا جس سے انکی لڑائی ختم ہو گئی تھی۔ ممکن ہے ڈائنوسارس کو سدھانے کا کوئی کاروبار ہو۔ لگتا ہے کہ خانصاحب نے کسی تازہ تحقیق کا مطالعہ کیا ہو جو میری نظر سے نہیں گزر سکا۔

ہم پٹواریوں کو خبردار کرتے ہیں کہ ہمارے عظیم کپتان کے خلاف پراپیگنڈہ بند کریں۔ پراپیگنڈہ کرنے سے پہلے تاریخ اور جغرافیے کی معلومات حاصل کریں، اس کے بعد بات کریں۔ اپنے کپتان کے دفاع کے لئے ہم ہر وقت تیار ہیں۔ عالمی میڈیا جو ان کے بارے میں مزاحیہ خبریں دے رہا ہے، ان شاءاللہ ان کے خلاف بھی ہم کاروائی کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر ڈونل ڈک کی تحقیق ان ناقدوں کا منہ بند کرنے کے لئے کافی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے