چین میں عمومی زندگی

خرم امتیاز کا ہلکا پھلکا تازہ سفرنامہ

دورہءِ چین میں ایک انوکھے چینی قانون سے آشنائی ہوئی، جو یقینا آپکو چینی مائنڈسیٹ سمجھنے میں مددگار ثابت ہو گا اور وہ یہ کہ چین میں کسی بھی علم کے ذریعے مستقبل کا حال بتلانا صریحاً غیرقانونی ہے، ایسا کرنے والا سیدھا جیل جاتا ہے یعنی نجومی، پیر فقیر اور عامل بابا وغیرہ سب کا دھندہ چوپٹ۔ اِس قانون کی وجہ ایسی کسی بھی سوچ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے جو انسان کو کام اور محنت سے رُکنے کی طرف مائل کرے۔


چینی متحرک ہیں، یہ بہت شارپ تو نہیں مگر یہ عموما بہت فوکسڈ اور محنتی ہیں۔ دہائیوں تک ‘وَن چائلڈ پالیسی’ پر عمل پیرا رہنے کے بعد اب آپکو سڑکوں پر جو کوئی بھی فیملی دکھائی دیتی ہے اُن کے ساتھ عموما ایک ہی بچہ نظر آتا ہے۔


ٹیکنالوجی کی بہتات بھی انہیں ورزشی اوقاتِ کار سے دور نہیں رکھ پائی۔ یہ اپنی عام روٹین میں بہت پیدل چلتے اور بائیسکل چلاتے ہیں۔ سڑکوں پر آپکو کثرت سے (بزرگوں سمیت) ہر عمر کے لوگ پیدل یا بائیسکل چلاتے دکھائی دیں گے۔ یہاں شہروں میں اکثریت اپنی صحت، لباس، ظاہری وضع قطع کو لے کر سنجیدہ دکھائی دیتی ہے۔ شہری قوانین کے احترام کو یہاں تقریبا تقریبا کلچر کا درجہ حاصل ہے۔


ہمیں ہر جگہ خواتین صحیح معنوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی دکھائی دیں۔ باوجود ڈھونڈنے کے صرف ٹرک ڈرائیور کوئی خاتون دکھائی نہ دی اس کے علاوہ شاید ہی کوئی شعبہ ہوجہاں عورت کام نہ کر رہی ہو۔


ایتھیسٹ عوام کی اکثریت ہونے کے باوجود بُدھ مت یہاں کا پاپولر مذہب ہے, اسکے علاوہ ایک لوکل چائنیز رسومات اور روایات پر مبنی مذہب بھی ہے، کئی ٹیمپل بھی ہم نے دیکھے، عیسائیت تیسرا اور اسلام چوتھا بڑا مذہب ہے، مگر یہاں زندگی کے تقریبا ہر معاملے میں مذہب ثانوی سے بھی کمتر حیثیت رکھتا ہے۔


ماحول اوورآل لبرل ہے، یہاں فیملی میں شادی کا کوئی کانسیپٹ نہیں، یورپ کی طرح یہاں بیشمار جوڑے سرِعام رومانٹک انداز میں بانہوں میں بانہیں ڈالے دکھائی دیے۔ البتہ پوری کوشش کے باوجود ہم سرعام کوئی بوس و کنار کے مناظر ڈھونڈنے میں ناکام رہے ( ۔ مگر یورپ کے برعکس حیران کن طور پر یہاں مشرقی فیملی سسٹم ابھی بھی فعال ہے یعنی والدین ہر ممکن عمر تک بچوں کو فنانشلی سپورٹ کرتے ہیںِ اور بچے شادی کے بعد بھی والدین کیساتھ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔


یہاں گورنمنٹ بہت زیادہ مظبوط ہے۔ دہائیوں سے کمیونسٹ پارٹی برسراقتدار ہے۔ آپ کسی بھی فورم پر حکومت کیخلاف بات نہیں کر سکتے۔ جب کوئی اپوزیشن نہیں ناں کوئی احتجاج، ناں ہی کسی دوسری جماعت اور مائنڈسیٹ کے حکومت میں آنے کا کوئی چانس ہے تو اِس سوچ کیساتھ کہ اگلے پانچ، دس اور بیس برس بعد بھی اپنی ہی اجارہ داری ہو گی، ایسے میں حکومت کو لانگ ٹرم پالیسیاں تشکیل دینے اور انھیں عملی جامہ پہنانے سے روکا نہیں جا سکتا۔ کمیونسٹ پارٹی کی حکومت نے البتہ جو سب سے اچھا کام کیا وہ یہ کہ سول اداروں کو انتہائی مظبوط بنا دیا۔


ہمارا جتنے بھی ڈیپارٹمنٹس کے ساتھ واسطہ پڑا غالبا ہم نے وہاں لوگوں کو اپنی آن ڈیوٹی ذمے داریوں کیساتھ مخلص ہی پایا۔ مثلا کسی گلی میں کھلے چھوٹے سے ریسٹورانٹ کے معاملات کا جائزہ لینے کیلئے بھی فوڈ، ہیلتھ وٖغیرہ کے ڈیپارٹمنٹ سے ہر چار دن بعد کوئی چیکنگ کیلئے ضرور آتا ہے۔ یہاں تقریبا ہر کسی کو گورمنٹ کی سخت پالیسیوں کا گلہ ہوتا ہے۔ مگر گورمنٹ ہی کی مہیا کردہ بیشمار سہولتوں کو یوٹیلائز کرتے ہوئے یہ گلہ کہیں دب جاتا ہے۔


یہاں کسی بھی سرکاری ادارے کا ملازم اکڑ کر پھرتا ہے۔ کاروباری شخص اور کمپنیاں اپنی بڑائی اور مستحکم پوزیشن کو بیان کرتے ہوئے یہ بتلا کر اپنے مخاطب مرعوب کرتی ہیں کہ اُنکے چائنیز گورنمنٹ کیساتھ اچھے تعلقات ہیں۔


ہمارے ہاں کے چیدہ چیدہ مسائل کسی ناں کسی صورت چائنہ میں بھی پائے جاتے ہیں مثلاً سرکاری اداروں میں کرپشن اور ‘کِک بَیکس’ کی شکایت یہاں بھی موجود ہیں، اقربا پروری، سفارش وٖغیرہ یہاں بھی بہت زیادہ ہے۔ سرکاری سکولوں، کالجوں کی تعلیم اور ہسپتالوں کے بے جا اخراجات پر یہاں بھی عدم اطمینان پایا جاتا ہے۔ یہ تاثر عام ہے کہ پبلک سکولوں سے تعلیم یافتہ کبھی بھی بڑے عہدوں پر نہیں پہنچ پاتے۔ یہاں کی اشرافیہ اپنے بچوں کو پرائیویٹ ایلیٹ سکولوں یا پھر بیرون ملک جنوبی کوریا، سنگاپور، ہانگ کانگ وغیرہ بھیجنے کو ترجیح دیتی ہے۔


یہاں پرنٹ، الیکٹرانک و سوشل میڈیا مکمل کنٹرولڈ ہیں۔ انڈیا پاکستان جیسے رنگ برنگے سنسنی پھیلانے والے نیوز چینل بھی کہیں دکھائی نہیں دیے۔ نیوز چینل کی پرائمری ترجیح صرف ‘بزنس’ ہے۔ سنیما میں زیادہ چائنیز فلمیں چلتی ہیں جن میں شاید ہی کوئی بین الاقوامی معیار کی ہو، چیدہ چیدہ انگریزی فلمیں یہاں چائنیز ‘سب ٹائٹلز’ کے ساتھ سینیما میں لگتی ہیں۔

متعلقہ مضامین