صحافی نے عمومی بات کی، جج

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سینئر صحافی شاہ زیب جیلانی پر مقدمے کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے ۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے سینئر صحافی کے خلاف ٹی وی پروگرام میں رائے دینے پر سائبر کرائم کا مقدمہ درج کیا ہے ۔

بدھ کو صحافی شاہ زیب جیلانی عدالت میں پیش ہوئے تاہم ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر عدالت نہ پہنچے ۔

جج نے ریمارکس دیے کہ صحافی نے عمومی بات کی ۔ ڈان نیوز سے وابستہ صحافی مبشر زیدی جو عدالت میں موجود تھے، نے ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ’جج نے آبزرویشن دی کہ جو کچھ شاہ زیب جیلانی نے اپنی ٹویٹ میں کہا وہ ایک عمومی بات تھی اور یہ ہر طرف ہر کوئی کہہ رہا تھا۔‘

پراسیکیوٹر کے پیش نہ ہونے پر مقدمے کی سماعت 27 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ۔

خیال رہے کہ صحافی پر مقدمہ مولوی اقبال حیدر نامی ایک وکیل کی درخواست پر کراچی میں درج کیا گیا ۔ مقدمے میں دنیا ٹی وی کے پروگرام ’آج کامران خان کے ساتھ‘ کے کو آرڈی نیٹر سینئر صحافی شاہ زیب جیلانی کو ملزم نامزد کیا گیا ۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2017، 2018 اور گزشتہ ماہ کی 18 تاریخ کو شاہ زیب جیلانی نے اس پروگرام میں بطور مہمان شرکت کر کے فوج اور پاکستان کی ریاست کے خلاف باتیں کیں ۔

ایف آئی اے کے سب انسپکٹر اکبر خان محسود کی دستخط شدہ دو صفحات کی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزم کے خلاف ابتدائی انکوائری میں یہ بات سامنے آئی کہ اس نے آٹھ دسمبر کو پروگرام کے میزبان مسعود رضا کے ساتھ گفتگو میں فوج پر پولیٹیکل انجینئرنگ کا الزام لگایا ۔

مقدمے کے انکوائری افسر کے نوٹ کے مطابق ’ملزم نے پروگرام میں مجرمانہ نیت کے ساتھ فوج، آئی ایس آئی، الیکشن کمیشن اور آرمی چیف کے خلاف طنزیہ اور تضحیک آمیز گفتگو کی ۔‘

خیال رہے کہ درخواست گزار مولوی اقبال حیدر ایک طویل عرصے کے بعد اس مقدمے کے ذریعے منظرعام پر آئے ہیں ۔ ان کی شہرت عدالتوں میں غیر ضروری درخواستیں دائر کرنے والے وکیل کی ہے اور سپریم کورٹ میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی تھی ۔

مولوی اقبال حیدر ماضی میں بھی ایسے مقدمات اور درخواستوں کی وجہ سے میڈیا کی زینت بنتے رہے ہیں ۔

صحافی مبشر زیدی کی ٹویٹ

Attended the trial of prominent journalist @ShahzebJillani who’s facing charges of cyber terrorism. Judge observed that what was said in his tweet was a general discourse & is being said everywhere. The hearing is adjourned till 27th as the FIA prosecutor didn’t turn up— Mubashir Zaidi (@Xadeejournalist) April 24, 2019

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button