آخر صرف پولیو ویکسین ہی کیوں؟

اتنی بیماریاں ہیں، ہیپاٹائیٹس، شوگر، کینسر۔ آخر سارا زور پولیو پر ہی کیوں۔؟

  • کیونکہ پولیو کی ویکسین موجود ہے جبکہ شوگر کی موجود نہیں۔ ہیپاٹائٹس بی کی موجود ہے وہ پہلے ہی بچوں کے شیڈول میں شامل ہے۔ جبکہ ہیپاٹائٹس سی کی نہیں، نناوے فیصد کینسروں کی بھی نہیں۔ جس جس بیماری کی ویکسین موجود ہو اور رزلٹ اچھا ہو تو کوشش کر کےاس بیماری کو دنیا سے بالکل ختم کیا جا سکتا ہے (جیسے چیچک پوری طرح ختم کر دی گئی ہے) ۔
  • پولیو صرف تین ملکوں (پاکستان افغانستان اور نائیجیریا) میں باقی ہے، اس لیے پولیو پر زور دیا جا رہا ہے کہ یہاں سے ختم ہو گئی تواس کا دنیا سے مکمل صفایا ہو جائے گا ۔

• پولیو کی ویکسین مفت کیوں ہے؟ گورا آخر ہمارا دشمن ہو کر بھی ہم پر اتنا مہربان کیوں ہے۔؟

  • گورا آپ پر مہربان نہیں ہے۔ اس نے اپنے خطہ زمین سے بڑی کوشش اور بہت سرمایہ لگا کر اس بیماری کو صاف کیا ہے۔ جب تک دنیا میں ایک بھی کیس موجود ہے تب تک امکان موجود ہے کہ دنیا میں پولیو کی وبا دوبارہ پھوٹ سکتی ہے اور لوگ اس کا شکار ہو سکتے ہیں ۔
  • گورا بس اپنا لگا ہوا سرمایہ اور سر توڑ کوشش ضائع ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا۔ اسے اپنی نسلیں عزیز ہیں، وہ اپنا مستقبل (یعنی بچے) اپاہج ہونے کا خیال بھی ذہن میں نہیں لا سکتا ۔

ویسے بھی پاکستانی قوم زیادہ تر بھیک اور قرضے پر چل رہی ہے۔ بالفرض گورا مفت یا خیرات میں بھی آپ کو کچھ دے رہا ہو تو آپ کی غیرت جاگنے کا چانس نہ ہونے کے برابر ہے ۔

پولیو کی ویکسین پر اگر خودداری کا بخار چڑھ رہا ہے تو آپ ویکسین بنانے پر ہونے والی سرمایہ کاری اپنے بجٹ سے کر کے دکھا دیں ۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ پاکستان سے پولیو کے خاتمے کا فائدہ صرف گورے کا ہے، ہمیں اپنا بجٹ اس پر “ضائع” نہیں کرنا چاہیے، اور یہ کہ چند ہزار پاکستانی بچوں کو پولیو ہو بھی جائے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ’باقی بھی تو بیماریاں ہوتی ہی ہیں‘۔ تو آپ کو 2003 میں نائیجیریا میں تین صوبوں میں پولیو ویکسین کے بائیکاٹ کی کہانی پڑھنی چاہیے (پاکستان میں بھی اسی قسم کے بائیکاٹ کی فضا قائم ہو رہی ہے) ۔

اس بائیکاٹ کی وجہ سے سینکڑوں بچے پولیو وائرس کا شکار بنے اور 20 ممالک جہاں ماضی میں کامیاب کمپین سے پولیو وائرس نکال دیا گیا تھا وہاں بھی اس وائرس نے دوبارہ حملہ کر دیا۔ یعنی ایک ملک کے چند صوبوں کی ڈھٹائی اور جہالت نے پوری دنیا کا نقصان کیا ۔

• پولیو کی ویکسین ٹیسٹ کیوں نہیں ہوتی؟ اس کے نقصانات بارے عوام کو بتایا جائے۔ یہ بچوں کی تولیدی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔

  • اگر یہ تولیدی صحت پر اثر انداز ہوتی تو اب تک نتائج نظر آ چکے ہوتے۔ پاکستانی قوم بہت اچھی رفتار سے بچے پیدا کر رہی ہے۔ ویکسین پیے ہوئے بھی بہت اچھا پرفارم کر رہے ہیں۔

یہی اورل OPV ویکسین دنیا کے زیادہ تر ممالک نے پولیو خاتمہ مہموں میں اپنے یہاں استعمال کی ہوئی ہے۔ یہ محفوظ ترین سمجھی جانے والی ویکسین ہے۔ باقی دنیا میں بھی نہ عوام بانجھ ہوئے، نہ اس کی وجہ سے HIV کی وبائیں پھیلیں۔ اب تک کے نتائج پر غور کریں تو نائجیریا افغانستان اور پاکستان ہی کے باشندوں کو لگتا ہے کہ ان میں کوئی خاص بات ہے جو ان کی نسل گورا ختم کرنا چاہتا ہے۔

ان ملکوں نے پچھلے تیس سالوں میں دنیا کو کیا دیا ہے اس پر تحقیق کریں تو ہنسی آ جائے گی کہ انسان کچھ خِطوں میں کتنے خوش فہم ہوتے ہیں۔

جہاں تک ٹیسٹ ہیں، تو ٹیسٹ کروانے سے کسی نے ہمیں نہیں روکا نہیں ۔ موجودہ ریسرچ کو بھی پڑھنے سے ہمیں کسی نے نہیں روکا ۔ ہمیں بس سازشی تھیوریوں اور سنی سنائی افواہوں سے مزے آتے ہیں ۔ کہنے کو میں کہہ دوں کہ پیناڈول یا انسولین بھی ٹیسٹ کروائیں اس میں فلاں فلاں جراثیم ہیں جو جسم کو فلاں ڈھمکاں نقصان پہنچا سکتے ہیں تو شاید اس بات کو بھی سننے والے پاکستانی بھائی بہنیں تسلیم کر لیں (کیونکہ بدقسمتی سے زوال زدہ قوموں کا way of life ہی جہالت اور سنی سنائی بات ہوتا ہے، تحقیق کی نہ صلاحیت ہوتی ہے نہ چاہت)۔

• لوگوں کو ویکسین سے انکار کی آزادی کیوں نہیں؟ جس کی مرضی وہ بچوں کو دے، باقیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں ۔

  • لوگوں کو ٹیکس دینے سے انکار کی آزادی کیوں نہیں؟ جب ریاست کے زیر انتظام آپ رہتے ہیں تو آپ کی آزادی پر حد متعین ہوتی ہے: جہاں دوسرے کا نقصان ہونے کا امکان ہو گا وہاں آپ آزاد نہ رہیں گے۔ ہر وہ بچہ جسے ویکسین نہیں پلائی گئی اس کا جسم پولیو کے چھپنے کی جگہ ہے۔ وہ دوسروں تک اس بیماری کو پہنچا سکتا ہے۔ ریاست نے صرف آپ کے حقوق ہی نہیں باقیوں کے بھی حقوق کا خیال رکھنا ہے ۔

یہ تحریر ڈاکٹر عزیر سرویا کی فیس بک وال سے لی گئی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے