قومی اسمبلی: ’چین ہمارا نقصان کر رہا ہے‘

پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن نے پڑوسی ملک چین سے تجارت میں ملکی نقصان پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔

حیدر آباد سے منتخب رکن حسین طارق نے وقفہ سوالات کے دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مسلم لیگ ن کے دور میں چین سے کیے آزاد تجارتی معاہدے سے پاکستان کو 12 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔‘

رکن قومی اسمبلی حسین طارق نے سوال کیا کہ ’بتایا جائے ہم پاکستان کے لئے کام کر رہے ہیں یا چین کے لئے۔؟ سید حسین طارق نے کہا کہ ن لیگ کے بعد اب تحریک انصاف کی حکومت چین کو آزدانہ تجارت میں رعایات دینے جا رہی ہے ۔

سید حسین طارق کے سوال پر وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے اعتراف کیا کہ چین کے ساتھ ن لیگ دور میں ہونے والا آزاد تجارت کا معاہدہ غیر متوازن تھا ۔ وزیراعظم کے مشیر نے تسلیم کیا کہ ’اس معاہدے کی وجہ سے 12 نہیں 14ارب ڈالر کا نقصان ہوا ۔‘

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے چین سے آزاد تجارت کا معاہدہ متوازن کرلیا ہے ۔ اب پاکستان کو بھی چین سے تجارت میں آسیان ممالک جیسی سہولتیں حاصل ہوگئی ہیں ۔

مشیر تجارت نے کہا کہ پاکستان کی 313 اشیا کو چین نے ڈیوٹی فری قرار دے دیا گیا ہے ۔

انہوں نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ یکم جولائی سنہ 2018 سے اب تک درآمدات میں ساڑھے تین ارب ڈالرز کی کمی آئی ۔ رزاق داؤد نے کہا کہ تجارتی خسارے میں کمی آئی ہے اور جون تک پانچ سے چھ ارب ڈالر تک درآمدات میں کمی ہو جائے گی ۔

وزیراعظم کے مشیر نے تسلیم کیا کہ ’یہ بات درست ہے کہ برآمدات نہیں بڑھ سکیں۔ امید ہے کہ برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔‘

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے