ایرانی سرحد سے اورماڑہ کتنی دور ہے؟

پاکستان کی قومی اسمبلی میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما اختر مینگل نے اورماڑہ میں قتل عام کا الزام ایرانی سرحد سے آنے والے دہشت گردوں پر لگانے پر تعجب ظاہر کیا ہے۔


اختر مینگل نے کہا کہ کوئٹہ ہزار گنجی میں بے گناہوں لوگوں کے مارے جانے پر دل رنجیدہ ہے۔ ‘اوراماڑہ میں بے گناہ لوگوں کو گاڑیوں سے اتار کر ان کی شناخت دیکھ کر ہاتھ پیچھے باندھ کر مارا گیا۔ یہ ظلم ہے۔’
تاہم بلوچ رہنما نے اس واقعہ میں ایران سے آنے والے دہشت گردوں کے ملوث ہونے کے الزام پر سوال اٹھائے ۔


انہوں نے کہا کہ ‘ہمارے وزیر خارجہ کو بلوچستان کے جغرافیے کا پتہ ہی نہیں، اورماڑا جہاں پر دہشت گردی کا واقعہ ہے ایران سے چار سو کلومیٹر دور ہے جبکہ وزیر خارجہ کہہ رہے ہیں اورماڑا حملے کے لیے ایران سے دہشت گرد آئے اور کرکے چلے گئے ۔’

اختر مینگل نے کہا کہ ‘اب ہم ایران پر الزام لگا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟۔ بھارت، افغانستان سمیت ہم سب سے لڑ رہے ہیںایک سمندر رہ گیا ہے پتہ نہیں کب سونامی بہا لے جائے۔’

قومی اسمبلی اجلاس میں اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان میں قدرتی آفتیں، ریاستی آفتیںاور دہشت گردی کے واقعات زیادہ ہو گئے ہیں۔’ہزارہگنجی کے علاقوں میں صورتحال بہت خراب ہے۔ ہزارہگنجی کے لوگ عبادت بھی سیکورٹی میں کرتے ہیں پھر بھی محفوظ نہیں۔’


ان کا کہنا تھا کہ ہزارہ سمیت بلوچستان کی تمام قومیں مصیبتوں میں ہیں۔’ہم کہاں جائیں کیا کریں بتایا جائے میرے ساتھ حکومت نے چھ نکات طے کیے تھے ان کا کیا ہوا۔’

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے