’عالمی پریس فریڈم کا 71 واں ہیرو‘

پاکستان کے معروف صحافی و کالم نگار سرل المیڈا کو عالمی پریس فریڈم کے 71 ویں ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے ۔

بدھ کو عالمی پریس انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کے ڈان اخبار سے وابستہ ایڈیٹر اور کالم نویس سرل المیڈا کو انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ 71 واں عالمی پریس فریڈم ہیرو نامزد کرتا ہے۔‘

ویانا میں واقع عالمی پریس انسٹی ٹیوٹ کے بیان کے مطابق ’سرل المیڈا کو عسکریت پسند گروہوں کو پاکستان کی ریاستی سرپرستی کی خبریں دینے پر غداری کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔‘

سنہ 2018 میں اپنی خبر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کا انٹرویو کرنے کے بعد سخت دباؤ، دھمکیوں اور مقدمے کا سامنا کرنے والے سرل المیڈا نے ایوارڈ کے لیے نامزدگی کے بعد ٹویٹ میں اس کو ڈان اخبار کے ایڈیٹر ظفر عباس کے نام کیا ۔

سرل نے لکھا ہے کہ ’سچ یہ ہے کہ ڈان کے ایڈیٹر ظفر عباس ہیرو ہیں جنہوں نے سخت دباؤ، جبر، ڈرانے اور دھمکیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے اخبار اور سٹاف کے لیے جنگ لڑی۔‘

سرل کی ٹویٹ کے مطابق جتنا لوگوں کو معلوم ہے اس سے زیادہ ڈان کا ایڈیٹر ظفر عباس نے سامنا کیا ۔

انہوں نے لکھا ہے کہ ’پاکستان سب کا ہے۔‘

🙏🏻 In truth, the hero is Zaffar Abbas, Editor, Dawn, @abbasz55 who has unflinchingly fought for his paper and his staff in the face of significant coercion, intimidation and threats- much more so than is publicly known. Keep up the good fight, Ed sb. Pakistan belongs to everyone. https://t.co/ZzpgFDpE7j— cyril almeida (@cyalm) April 24, 2019

عالمی پریس انسٹی ٹیوٹ کے بیان کے مطابق ’ایوارڈ ایسے صحافیوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے ذاتی خطرات مول لیتے ہوئے صحافت کی آزادی کو آگے بڑھایا ہو۔‘

سرل المیڈا رہوڈز اسکالر ہیں اور انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

انہوں نے صحافت میں آنے سے قبل پاکستان میں کچھ عرصہ بطور وکیل بھی کام کیا ہے ۔

سرل المیڈا پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی روزنامے ڈان سے وابستہ ہیں جہاں وہ ہفتہ وار کالم بھی لکھتے رہے جس کی اشاعت جنوری میں ’نامعلوم وجوہات‘ کی بنیاد پر روک دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button