پاکستان افغان امن عمل سے علیحدہ ہو گیا

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے دفتر سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان افغانستان کے کسی بھی اندرونی تنازع میں فریق نہیں بنے گا۔

جمعرات کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان افغان امن عمل بشمول افغانوں کے مابین بات چیت کی حمایت کرتا ہے تاکہ ’افغان اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ خود کرسکیں ۔‘

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد امن عمل کے لیے بین الاقوامی حمایت کے حصول کی خاطر خطے کے دورے پر ہیں۔

بیان میں عمران خان نے مزید کہا ہے کہ 40 سال سے جاری افغان تنازع سے افغانستان اور پاکستان کی عوام شدید متاثر ہوئے ہیں ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اب ایک طویل انتظار کے بعد افغان امن عمل نے خطے میں تاریخی امن کے قیام کا موقع فراہم کیا ہے اور پاکستان اس کی مکمل حمایت کرتا ہے۔‘

وزیراعظم عمران خان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں تمام فریقین کی طرف سے تشدد کی کارروائیوں میں اضافے پر افسوس ہے۔

بیان کے مطابق یہ حملے قابلِ مذمت ہیں جو امن عمل کو کمزور کریں گے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’طاقت کے زور پر مذاکرات میں برتری حاصل کرنا کسی طور مناسب نہیں۔‘ بیان کے مطابق ’پاکستان تمام فریقین کو موقع کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دے گا۔‘

خیال رہے کہ اپریل کے آغاز میں افغان طالبان نے سرکاری فورسز کے خلاف نئے حملوں کا اعلان کیا تھا۔ افغان سکیورٹی فورسز نے بھی عسکریت پسندوں کے خلاف ملک گیر مہم شروع کر رکھی ہے۔

عمران خان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب روس افغان امن عمل سے متعلق سہ فریقی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے جس میں روس کے علاوہ چین اور امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد شریک ہوں گے ۔

خیال رہے کہ زلمے خیل زاد گزشتہ چند ماہ کے دوران طالبان سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں متعدد ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے