سری لنکا نے امریکی مصنفہ کو غلطی سے حملہ آور بنا دیا

سری لنکن پولیس نے غلطی سے امریکی خاتون مصنفہ کو مشتبہ حملہ آوروں میں شامل کرتے ہوئے تصویر جاری کر دی جس کے بعد معافی مانگنا پڑی ہے ۔


امریکی ریاست میری لینڈ کی یونیورسٹی میں پڑھنے والی مصنفہ اور سوشل ایکٹیوسٹ عمارہ مجید نے کہا ہے کہ جمعرات کی صبح بیدار ہونے پر انہوں نے انٹرنیٹ پر اپنی تصویر ان حملہ آوروں میں دیکھی جن کو سری لنکن پولیس نے اتوار کو گرجا گھروں پر حملہ کرنے والے شدت پسندوں کا ساتھی قرار دیا تھا ۔ 


عمارہ مجید نے ٹویٹ کیا کہ ‘سری لنکن پولیس نے جھوٹے طور پر مجھے داعش کے ان دہشت گردوں میں سے ایک قرار دیا ہے جنہوں نے ایسٹر کے موقع پر حملے کیے۔“


پولیس کے مطابق اتوار کو ہونے والے حملوں کے شبے میں اب تک تحقیقات کے دوران 76 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

اس سے قبل پولیس نے حراست میں لیے گئے ایک مشتبہ شخص سے چھ پاسپورٹ، پارلیمان ہاؤس کے دو نقشے، ہتھیاروں کی تصاویر، ایک ٹیب کمپیوٹر، دو سم کارڈ اور دو موبائل فون برآمد کیے تھے۔


پولیس ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری خبروں پر یقین کریں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں پر کان نہ دھریں۔

دوسری جانب سری لنکا کے وزیر صحت کے مطابق گذشتہ اتوار کو ہونے والے حملوں میں 359 نہیں بلکہ تقریبا 253 لوگ ہلاک ہوئے تھے۔وزارت صحت کے بیان میں مرنے والوں کی تعداد کو اعدادوشمار کی غلطی بتایا گیا ہے۔


سری لنکا میں حملوں کے بعد سکیورٹی انتہائی سخت ہے اور کولمبو کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں چھاپوں اور تلاشیوں کا سلسلہ جاری ہے۔


جمعرات کو پولیس نے کولمبو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے بندرانائیکے انٹر نینشل ایئرپورٹ کو جانے والے شاہراہ بھی عارضی طور پر بند کر دی گئی تھی۔

سری لنکن پولیس کی جانب سے اتوار کے دہشت گردانہ حملوں میں ملوث مشتبہ افراد کی تصاویر جاری کرتے ہوئے عوام سے ان کی شناخت میں مدد کی اپیل کی تھی جس میں عمارہ مجید کی تصویر پانچویں نمبر پر لگا کر ان کا نام ‘عبدالقادر فاطمہ’ لکھا گیا ۔

دیگر مشتبہ افراد کی تصاویر کے ساتھ ناموں میں محمد لوہیم صادق، فاطمہ لطیفہ، محمد لوہیم شہید، پولستھینی راجندرن اور محمد قاسم کی شناخت کے لیے عوام سے اپیل کی گئی ہے ۔ 

پولیس ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر اور ناموں کے ساتھ عوام کو رابطہ نمبر بھی دیے گئے ہیں جن پر وہ ان افراد کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔  


پولیس ترجمان نے اپیل کی ہے کہ عوام صرف سرکاری خبروں پر یقین کریں اور سوشل میڈیا کی معلومات کو نظرانداز کریں ۔


متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button