سپریم کورٹ میں سپیشل گیسٹ

پاکستان کی سپریم کورٹ اب بھی روزانہ کی بنیاد پر خبروں کا مرکز ہے ۔ روز کوئی اہم شخصیت کسی مقدمے میں حاضر ہوتی ہے اور کسی کو غائب رہنے پر نوٹس کر کے بلا لیا جاتا ہے ۔

وزیراعظم عمران خان کی رہائش گاہ والے علاقے بنی گالہ میں تجاوزات کے کیس میں جسٹس گلزار احمد سے سخت سرزنش کروانے اور ایک ماہ میں مسئلہ حل کرانے کی مہلت لینے والے اسلام آباد کے چیف کمیشنر اسلام آباد عامر علی احمد خوش قسمت رہے ۔

ہوا یوں کہ وہ عدالتی حکم پر عمل کر کے سرخرو ہونے سے ایک ماہ سے قبل ہی سپریم کورٹ میں منعقدہ تقریب میں ”اسپیشل گیسٹ“ کے طور پر جلوہ افروز ہو گئے ۔


بنی گالہ تجاوزات کیس میں شدید غفلت کے مرتکب ہونے پر جسٹس گلزار نے چیف کمشنر کو کہا تھا کہ ”آپ زمہ داریاں نہیں نبھا سکتے تو یہ عہدہ چھوڑ دیں۔ آپ نے پہاڑوں کے پہاڑ اور جنگلوں کے جنگل بیچ دیے۔ پورے اسلام آباد کو کچی بستی بنا رکھا ہے۔ اگر کام نہیں کرنا تو عہدہ چھوڑ کر چلے جائیں ۔“


یہ سب سننے کے بعد چیف کمشنر نے معاملات میں بہتری لانے کے لیے عدالت سے ایک ماہ کی مہلت لی لیکن اس سے قبل ہی سپریم کورٹ میں منعقدہ تقریب میں “سپیشل گیسٹ “ کے طور پر نمودار ہو گئے۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ منتظمین چیف کمشنر کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کرنا چاہتے تھے لیکن چیف کمشنر کے اصرار پر انھیں ”سپیشل گیسٹ “ کا سٹیٹس دیا گیا۔


تقریب کا اہتمام پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ ”پاس” کی نو منتخب باڈی نے کیا تھا ۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ مہمانوں کی فہرست چیف جسٹس کو فراہم کی گئی تو انہوں نے چیف کمشنر اور وفاقی وزیر فواد چوہدری کے بھائی فیصل چودھری ایڈووکیٹ کے ناموں پر اعتراض بھی کیا تاہم نو منتخب عہدیداران کے اصرار پر چیف جسٹس خاموش ہو گئے ۔

عہدیداران کا موقف تھا کہ ان دونوں ممبران نے ایسوسی ایشن کو رجسٹرڈ کرانے میں ان کے ساتھ تعاون کیا ہے۔

بعد ازاں اس تقریب میں آف دی ریکارڈ کے وعدے کو بھی توڑ دیا گیا اور چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ازراہِ تفنن کہے گئے جملے کے ”سابق دور کی طرح اب سپریم کورٹ خبریں بنانے کا مرکز نہیں “
کو بھی نشر کر دیا گیا جس پر چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے ۔

زرائع کا دعوی ہے کہ چیف جسٹس نے اس معاملے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے آئندہ پاس کے کسی بھی ایونٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ پاس کے بلا مقابلہ منتخب ہونے والے ارکان پیٹرن ان چیف عمران وسیم، صدر عقیل افضل اور سیکرٹری ذولقرنین جو چیف جسٹس ثاقب نثار کے بھی بہت قریب سمجھے جاتے رہے ہیں ۔ عمران وسیم، ذوالقرنین اور چند دوسرے رپورٹرز نے سابق چیف جسٹس کے وفد میں شامل ہو کر لندن کا دورہ بھی کیا تھا ۔

سپریم کورٹ کے بعض رپورٹرز کا خیال ہے کہ تین رپورٹر کہتے ہیں کہ وہ موجودہ جوڈیشری کے بھی قریب ہیں۔

اس حوالے سے پریس ایسوسی ایشن کے صدر عقیل افضل سے رابطہ کیا گیا تو پہلے انہوں نے چیف کمشنر اسلام آباد کی عدالتی سرزنش سے لاعلمی کا اظہار کیا ۔ بعد ازاں اس نمائندے کے یاد کرانے پر انہوں نے اعتراف کیا کہ چیف کمشنر کی سرزنش کی گئی تھی۔

عقیل افضل نے کہا عدالت سے سرزنش ہونا معمول کی بات ہے عدالت نے انہیں سزا نہیں سنائی تھی۔

متعلقہ مضامین