اپنی نفرت کو برف پر لکھو

اپنی نفرت کو برف پر لکھو !
( مارکیز کا دُنیا کے لیے ای میل پیغام )
مترجم : لطیف قریشی

کولمبیا کا شُہرہء آفاق ادیب گبرئیل گارشیا مارکیز (Gabrial Garcia Marquiz) "تنہائی کے سو سال "جیسی بے مثال کہانی (جس پر اُسے نوبل انعام سے نوازا گیا ) اور ایسی دیگر بہت سی کہانیوں کا خالق ہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی وہ بہت کچھ ہے ۔ وہ ایک بہت بڑا انسان ہے اور اس نے یہ بات انٹرنیٹ پر دیے گئے اپنے الوداعی پیغام میں بدرجہ اولٰی ثابت کی ہے ۔ گارشیا کچھ عرصے سے کینسر جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہے ۔ اور شاید اب طبیعت زیادہ بگڑنے پر اُس نے موت کو ایک حقیقت تسلیم کرتے ہوئے اپنے ساتھی انسانوں کو وہ پیغام دیا ہے جس میں زندگی کی خُوبصورتیوں سے تمام تر انکسار کے ساتھ مستفیض ہونے کا درس دیا ہے ۔ پیغام اس قدر خُوبصورت ہے کہ مجھے اسے اُردو زبان میں منتقل کرتے ہوئے فخر محسوس ہورہا ہے ۔

”اگر خدا مجھے دوبارہ زندگی دے تو میں جو کچھ سوچتا ہوں، اسے کہنے کے بجائے جو کچھ کہتا ہوں اس کے بارے میں سوچوں گا ۔ میں چیزوں کی قدر ان کی قیمت سے نہیں بلکہ اُن کے بامعنی ہونے سے کروں گا ۔ میں کم سوؤں گا اور جاگتے میں خواب دیکھوں گا ۔ کیونکہ مجھے معلوم ہوگیا ہے کہ ہر اس منٹ جب ہم آنکھیں بند کرتے ہیں، ہم پورے ساٹھ سیکنڈ روشنی سے محروم ہوجاتے ہیں ۔

جب دوسرے رُک جائیں گے میں چلتا رہوں گا ۔ جب دوسرے سوئیں گے میں جاگوں گا ۔ دوسرے بولیں گے میں سُنوں گا ۔ میں اچھی اچھی چاکلیٹ کھاؤں گا ۔ اگر خدا مجھے دوبارہ زندگی دے تو میں اچھے کپڑے پہنوں گا ۔ دھوپ تاپوں گا ۔۔۔۔۔ فقط اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی رُوح تک اس کی تپش پہنچاؤں گا ۔ اے خدا ! اگر میں دل گرفتہ ہوں گا تو اپنی نفرت کو برف پر لکھوں گا ۔ اور سُورج نکلنے کا انتظار کروں گا ۔ تاکہ برف کے ساتھ میری نفرت بھی پگھل کر بہہ جائے ۔میں وین گاگ ( Van Gogh ) کی طرح ستاروں پر نظمیں لکھوں گا اور چاند کے لیے محبت کے گیت گاؤں گا ۔ میں اپنے آنسوؤں سے گُلابوں کو سیراب کروں گا اور کانٹوں کا درد اور گُلابی پنکھڑیوں کا لَمس محسوس کروں گا ۔

اَے میرے خدا ! مجھے دوبارہ زندگی ملے تو میں کوئی دن ایسا نہیں گُزاروں گا جب لوگوں کو یہ پیغام نہیں دوں گا کہ مجھے اُن سے پیار ہے ۔ میں ہر مرد اور عورت کو بتاؤں گا کہ وہ مجھے محبوب ہیں ۔ میں پیار سے پیار کروں گا ۔ میں لوگوں کو بتاؤں گا کہ وہ غلط سمجھتے ہیں کہ جب وہ بُوڑھے ہوجاتے ہیں تو محبت نہیں کرسکتے ۔ انہیں نہیں معلوم کہ جب وہ محبت کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو بُوڑھے ہوجاتے ہیں ۔ میں بچوں کو پَرِ پرواز دوں گا لیکن اُنہیں خود اُڑنے کی کوشش کرنے دوں گا ۔ میں بُوڑھوں کو بتاؤں گا کہ موت بڑھاپے سے نہیں آتی بلکہ یہ سب کچھ بُھول جانے سے آتی ہے ۔ اَے انسان ! میں نے تم سے بہت کچھ سیکھا ہے ۔

میں نے یہ بھی سیکھا ہے کہ ہر کوئی پہاڑی چوٹی پر رہنا چاہتا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ اصل خوشی اس بات میں ہے کہ چوٹی پر پہنچا کیسے گیا ۔ میں نے یہ بھی جانا ہے کہ جب ایک نومولود بچہ اپنے باپ کی اُنگلی پکڑتا ہے تو وہ پاپ کو ہمیشہ کے لیے اپنی محبت میں قید کرلیتا ہے ۔ میں نے یہ بھی جانا ہے کہ انسان کو نیچے کی طرف صرف اُس وقت دیکھنا چاہیے جب اُسے کسی دوسرے انسان کو اُوپر اُٹھانا ہو ۔ اَے انسانو ! میں نے تم سے بہت کُچھ سیکھا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ میں اگر اس سب کو اپنے سینے میں لے کر مَرجاؤں تو یہ بدقسمتی کی موت ہوگی "۔


اور آخر میں وہ مختصر نظم جو میں نے گارشیا کے اس پیغام سے متاثر ہوکر لکھی ۔ یہ نظم میں گارشیا کے نام کرتا ہوں ۔

اپنی نفرت کو برف پر لکھو
جب بھی اُلفت کی دُھوپ نکلے گی
برف پگھلے گی
اور اس کے ساتھ نفرت بھی !

متعلقہ مضامین