غداروں کی تحقیقات

عوامی جمہوریہ چین کو ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ اور اس کے اہم ترین حصہ سی پیک کی وجہ سے امریکی سی آئی اے اور اس کے بھارتی حلیف کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے ۔چینیوں کو پاکستان میں مستقبل قریب میں بہتری کی امیدیں ہیں ۔چینی دنیا کی حقیقی سپر پاور ہیں اور بہت خاموشی،صبر اور تحمل کے ساتھ صورتحال کو بہتر کرنے میں مصروف ہیں ۔

اس بات کے امکانات ہیں کہ غیر ملکی جاسوسی کے الزام میں جن اعلی فوجی افسران کو گرفتار کیا گیا تھا اور جن کا اعلان خلاف معمول ڈی جی آئی ایس پی آر نے کیا چینیوں نے ٹپس دی ہوں گی جنکی وجہ سے ملکی مفادات کے خلاف کام کرنے والے خوفناک جاسوسی نیٹ ورک پکڑا گیا ۔دنیا کے تمام خطوں میں چینیوں کے کارپوریٹ مفادات سے بندھے اہم لوگ چینیوں کو فیڈ بیک دیتے ہیں ۔چین کے خاموشی سے کام کرنے والے ادارے نے امریکی سی آئی اے میں نقب لگا لی تھی اور سی آئی اے میں اپنے مخبر کی سو فیصد درست اطلاعات پر ایک کامیاب آپریشن سے چین بھر میں سی آئی اے کے تمام ایجنٹ پکڑ کر مار ڈالے تھے ۔سی آئی اے نے بعد ازاں اپنی صفوں میں موجود اس ڈبل ایجنٹ کو تلاش کر لیا جو آجکل ٹرائل کا سامنا کر رہا ہے ۔

عوامی جمہوریہ چین کے پاس یقینی طور پر خلیجی ممالک میں بیٹھ کر پاکستان اور سی پیک کے خلاف سازش کرنے والے پاکستانی با اثر لوگوں کے۔ حوالہ سے شواہد اور اطلاعات موجود ہونگی جو مناسب موقع پر پاکستان کو فراہم کی جا سکتی ہیں ۔

پاکستان کے ایک وفاقی وزیر شیخ رشید بھی چینی ریڈار پر موجود ہو سکتے ہیں ۔کم قیمت ایل این جی کی درآمد کے معاہدے سے قطر مخالف سعودی عرب کو ہی سالانہ دو ارب ڈالر کا فرنس آئل کی درآمد کم ہونے سے نقصان نہیں ہوا پاکستان میں مہنگی بجلی بنانے والا آئی پی پی ایز مافیا کو بھی اربوں روپیہ سالانہ کا نقصان ہوا۔شیخ رشید نے جس طرح ایل این جی کے خلاف مہم چلائی اس کا ریکارڈ بھی کہیں پر موجود ہے ۔وفاقی وزیر ریلوے کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر موجود ہے سی پیک کو دفاعی راہداری نہیں بننے دیں گے لیکن حیرت انگیز طور پر ملکی سلامتی کے ذمہ دار اداروں نے اس کا نوٹس نہیں لیا ، تاہم اس بات کے امکانات موجود ہیں کہیں پر ملکی سلامتی کے تحفظ اور ملکی۔ معیشت کو جان بوجھ کر تباہ کرنے والے کرداروں کا تعین ہو رہا ہو ۔

اس بات کے بھی امکانات ہیں آئی ایم ایف سے کیا جانا والا معاہدہ جو اگلے 48 گھنٹے میں فائنل ہو جائے گا پر عملدرآمد ممکن نہ ہو سکے ۔گوادر پورٹ کا ٹھیکہ امریکی حمایت یافتہ سنگاپور پورٹ سے منسوخ کر کے چینی کمپنی کو دینے والی پاکستان پیپلز پارٹی اور سی پیک پر جنگی رفتار سے کام کا آغاز کرنے والی مسلم لیگ ن آئندہ مالی سال کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں ۔

اس بات کے واضح اشارے موجود ہیں بجٹ کی عدم منظوری سے حکومت کا آئینی جواز ختم ہو جائے اور سی پیک پر امریکہ چین کشمکش کا دوسرا مرحلہ چینی سبقت سے شروع ہو گا ۔ مارکیٹ میں افواہیں موجود ہیں تبدیلی میں معاونت کرنے والے اینکرز کو سخت سزائیں ملیں گی اور آئین اور قانون کی خلاف ورزی کا کوئی سابق اعلی عہدیدار اعتراف کر لے گا جس سے تبدیلی کے غبارے سے ہوا ہی نہیں نکلے گی ملک و قوم کی قسمت سے کھیلنے والے کردار بھی بے نقاب ہو جائیں گے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے