ٹینکوں کے سامنے کھڑا شخص کون تھا؟

اس تصویر کو 30 برس گزر گئے ۔ تصویر بنانے والے فوٹوگرافر کو اب ایک دنیا جانتی ہے ۔

گذشتہ صدی میں بنائی گئی چند مشہور ترین تصاویر میں چین کے ’تیاننمن سکوائر‘ میں فوٹو گرافر جیف وائڈنر کی یہ شاہکار شامل ہے ۔

30 برس گزرنے کے بعد بھی ٹینکوں کے سامنے کھڑے اس شخص کی شناخت نہیں ہوسکی کہ یہ کون تھا۔

فوٹوگرافر جیف وائڈنر کے مطابق وہ چینی فوج اور مظاہرین کے درمیان تیاننمن چوک میں پھنس کر رہ گیا تھا ۔ اس دوران وہاں سے ٹینک گزرنے لگے تو سودا سلف اٹھائے یہ شخص سڑک پار کر رہا تھا ۔

جیف کے مطابق یہ شخص ٹینکوں کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا تو سڑک پر ٹینکوں کی لائن لگ گئی اور فضا میں ان کی آوازوں کی ارتعاش کی جگہ بریکوں کی چیخوں نے لے لی ۔

اس تصویر اور اس شخص کو اب عالمی طور پر ‘ٹینک مین‘ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔

جیف وائڈنر وہ واحد فوٹوگرافر نہیں تھا جس نے یہ منظر کشی کی مگر ٹائم میگزین کی دنیا کی سو متاثر کن تصاویر میں جیف کی اس تصویر کو شامل کیا گیا ہے ۔

خیال رہے کہ چین کے تیاننمن سکوائر میں فوج نے جمہوریت کے لیے آواز بلند کرنے والے ہزاروں افراد کا قتل عام کیا تھا ۔

فوٹو گرافر جیف نے یہ تصویر پانچ جون 1989 میں لی تھی ۔ اس بارے میں اپنی یادیں ٹٹولتے ہوئے انہوں نے اخبار آبزرور کو بتایا کہ ’یہ سب بس اتفاقی اور قسمت سے تھا‘ ۔

جیف وائڈنر کے مطابق ایک رات قبل ان کی طبیعت سخت خراب تھی ۔ اس وقت وائڈنر ایسوسی ایٹڈ پریس سے وابستہ تھے ۔

جیف وائڈنر نے بتایا کہ خراب طبیعت کی وجہ سے ان کا ایک کیمرہ بھی رات کو ہی ٹوٹ گیا تھا ۔ اگلی صبح ان کے پاس فلم رول بھی نہ تھا ۔ جیف نے چین میں ایک امریکی طالب علم سے فلم رول لیا ۔ وائڈنر نے بتایا کہ ’وہ امریکی طالب علم بھی اسی ہوٹل میں مقیم تھا جس کی بالکونی سے میں کام کر رہا تھا۔‘

جیف وائڈنر کے مطابق سب کچھ ان کے خلاف جا رہا تھا مگر پھر بھی یہ تصویر بن گئی اور دنیا بھر میں مشہور ہوئی ۔ جیف کا کہنا تھا کہ جس وقت ٹینک میں شاپنگ بیگ اٹھائے سڑک پر آیا وہ اپنے کیمرے کا لینز بدل رہے تھے ۔

’میں نے جلدی میں تین تصاویر بنائیں۔ دو کا فوکس اچھا نہ تھا ۔ خوش قسمتی سے تیسری واضح اور ہائی ریزولوشن بھی بن گئی۔‘

جیف نے کہا کہ دیگر فوٹو گرافرز نے بھی ٹینک مین کی تصاویر لیں مگر زاویے اور ریزولیشن کا فرق رہ گیا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے