میشا اور علی ظفر کو سپریم کورٹ کا حکم

رضوان عارف

پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسٰی پر مشتمل دو رکنی عدالتی بنچ نے اداکار علی ظفر اور گلوکارہ میشا شفیع کو حکم دیا ہے کہ وہ ٹرائل کورٹ میں اپنے گواہوں کے بیانات جلد قلمبند کرائیں اور مقدمے کو جلد سمیٹنے کے لیے غیر ضروری درخواستیں دائر نہ کریں ۔

سپریم کورٹ میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف گلوکارہ میشا شفیع کی اپیل کی سماعت مکمل ہونے پر ہائیکورٹ کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف دیا گیا فیصلہ کالعدم قرار دیا گیا ہے ۔

یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ نے میشا شفیع کی درخواست پر گواہوں سے جرح موخر کرنے کی اجازت نہیں دی تھی اور ہائی کورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا ۔  

عدالت عظمی نے علی ظفر کے وکیل کو گواہوں کی فہرست جمع کرانے اور میشا شفیع کے وکیل کو جرح کے لیے تیاری ایک ہفتے میں کرنے کا حکم دیا ہے ۔

عدالت عظمی میں میشا کے وکیل کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ٹرائل کورٹ نے حکم دیا تھا کہ ہر گواہ پر جرح اس کا بیان ریکارڈ کرنے کے فوری بعد ہوگی جبکہ وہ چاہتے تھے کہ پہلے تمام گواہوں کے بیانات قلمبند کرائے جائیں اس کے بعد جرح کرنے کی اجازت دی جائے ۔

علی ظفر ایک کنسرٹ میں پرفارم کرتے ہوئے
تصویر کریڈٹ علی ظفر فیس بک

جسٹس قاضی فائز نے پوچھا کہ اب کیا مسئلہ ہے جو ٹرائل کا تاخیر کا شکار ہے اور یہاں آئے ہیں؟ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میشا شفیع کا کہنا ہے کہ وہ علی ظفر کے گواہوں کو نہیں جانتی، ان گواہوں میں علی ظفرکے ملازمین شامل ہیں ۔ علی ظفر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایک بھی گواہ علی ظفر کا ملازم نہیں ۔

جسٹس قاضی فائز عيسی  نے علی ظفر کے وکیل سے پوچھا کہ ان کو میشا شفیع کی درخواست پر کیا اعتراض ہے؟ علی ظفر کے وکیل کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق جس گواہ کا بیان قلمبند ہو اسی وقت جرح کی جاتی ہے ۔

میشا شفیع کے وکیل نے کہا کہ اگر گواہوں کی فہرست مل جائے تو ایک روز میں جرح کرلیں گے ۔

سپریم کورٹ نے گواہوں کا بیان قلمبند کرنے کے فوری بعد جرح کرنے کا ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا ہے ۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ایک ہی دن گواہوں پر جرح مکمل کرنے کی کوشش کی جائے اور ٹرائل کورٹ غیر ضروری التوا نہ دیتے ہوئے جلد فیصلہ کرے ۔

عدالت نے ٹرائل کورٹ میں علی ظفر کے گواہوں کے بیان حلفی جمع کرانے اور میشا شفیع کے وکیل کو ان پر جرح کرنے کی تیاری کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا ہے ۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال میشا کی جانب سے ہراسایت کا الزام لگائے جانے کے بعدعلی ظفر نے ان پر ہتک عزت کا دعویٰ کر رکھا ہے ۔ میشا شفیع کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی درخواست بھی ہائیکورٹ میں ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے