صوبائی وزیر صحت اور ڈاکٹروں کی مار کٹائی

عظمت گل / نمائندہ خصوصی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں وزیر صحت اور ینگ ڈاکٹرز نے ایک دوسرے کے ساتھ مار پیٹ کی گئی جس میں کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں ۔

وزیراعلی خیبر پختوانخوا محمود خان نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے ۔

پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان اور ڈاکٹر نوشیروان برکی اور ینگ ڈاکٹرز کے درمیانی ہاتھا پائی کے بعد فریقین نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے ہیں ۔

حکام کے مطابق وزیر صحت اور ڈاکٹر نوشیروان برکی خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں مریضوں کو دی گئی سہولیات کو جانچنے کے لیے دورے پر پہنچے تھے۔

حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز نے پہلے ڈاکٹر نوشروان برقی پر حملہ کیا، وزیر صحت خیبر پختونخوا ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان معاملات کو کنٹرول کرنے کے لئے ینگ ڈاکٹرز کے ساتھ مذکرات کر رہے تھے مگر کچھ ینگ ڈاکٹرز نے وزیر صحت پر بھی حملہ کیا۔

وزیر صحت خیبر پختونخوا ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان بھی واقعہ میں زخمی ہوئے ہیں اور گارڈز نے وزیر صحت کو بمشکل بچایا ۔

وزیر صحت نے کہا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز قانون کو ہاتھ میں مت لیں ۔

ڈاکٹر ہشام کا کہنا تھا کہ واقعہ پر بہت دکھ اور افسوس ہوا، چند ڈاکٹرز حضرات اس مقدس شعبے کو بد نام کر رہے ہیں، خود بھی ڈاکٹر ہوں ڈاکٹروں کے لئے برا کیسے سوچ سکتا ہوں ۔

ڈاکٹر ہشام نے کہا کہ وزارت آنی جانی چیز ہے کل میں نے انہیں ڈاکٹر میں جانا ہے، سیاست کی بجائے عوام کی خدمت کریں ۔

ادھر ینگ ڈاکٹر نے صوبائی وزیر صحت پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اپنے گارڈز کے ذریعے ڈاکٹرز پر تشدد کرایا اور اب پورے ملک میں اس پر ردعمل ہوگا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے