مریم نواز اب قانونی عہدیدار ہیں

پاکستان کے سابق وزیر اطلاعات اور ن لیگی رہنما پرویز رشید نے کہا ہے کہ پارٹی کے سیاسی قائد نواز شریف ہی ہیں اور مریم نواز پہلے عملا اور اب قانونا عہدیدار بن گئی ہیں ۔

صحافی مطیع اللہ جان کے ایم جے ٹی وی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے تمام نئے عہدیدار فی الوقت وزیر بے محکمہ ہیں ۔ ن لیگ کی تنظیم نو شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاسوں میں زیر بحث رہی اور پارٹی عہدیداروں کی فہرست لندن میں شہباز شریف کے دستخطوں سے جاری ہوئی۔

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ شریف قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے قبل پاکستان میں ہوں گے ۔ ”بطور اپوزیشن لیڈر مصروفیات باعث شہباز شریف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ٹائم نہ دے سکتے تھے اس لیے کمیٹی کے نئے سربراہ کا نام ن لیگ نے دوسری جماعتوں سے باہمی مشاورت کے بعد دیا۔“

انہوں نے کہا کہ مریم نواز دو سال سے ن لیگ کی ”de-facto “ (عملا) عہدیدار تھیں اور اب “de-jure”  (قانونا) ہو گئیں ہیں مریم نواز نے سونپی گئی ۔ ”ذمے داریوں کے علاوہ حکومتی یا پارٹی کے معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی ۔ شہباز شریف ن لیگ کے آئینی اور نواز شریف سیاسی سربراہ ہیں۔“

 پرویز رشید نے کہا کہ ن لیگ نے عدالت، پارلیمنٹ، عوام اور میڈیا کے علاوہ کسی فورم پر داد فریاد نہیں کی ۔ ڈیل اور اس کے نتائج کا الزام لگانے والے غلط ثابت ہو گئے ۔ ”نواز شریف کو علاج اور مناسب ماحول نہیں ملے گا تو ان کی صحت کو خطرہ رہے گا، لوگ بھی نواز شریف کو علاج کی سہولت دے سکتے ان سے درخواست ہے کہ سہولت دیں۔“

انہوں نے کہا کہ ایم ایف کے معاہدے سے سرمایہ کاری متاثر ہو گی، سرمائے کا اخراج ہو گا، غربت اور بیروزگاری میں اضافہ ہو گا۔ ”میز کے دونوں طرف آئی ایم ایف بیٹھی ہوئی تھی، شرطیں بتانے اور ماننے والے دونوں ہی آئی ایم ایف سے تھے، پاکستان کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں بہت ہی سستے داموں فروخت کیا گیا ہے۔“

ان کا کہنا تھا کہ لیگ ن کی حکومت نے ۲۰۱۶ میں آئی ایم ایف کو خیر آباد کہہ دیا تھا۲۰۱۸ کے سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں ہماری معاشی گراوٹ کا آغاز ہوا۔ ن لیگ کی تکالیف کی وجہ یہ ہے کہ اس نے پاکستان کے عوام کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ ملکی صورت حال کا ذمے دار کوئی ایک شخص نہیں بلکہ ایک سوچ ہے جس کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔ ”یہ سوچ کبھی ضیا الحق، ایوب خان اور کبھی جنرل مشرف کی شکل میں نظر آتی ہے۔ یہ آمریت کی سوچ ہے اور اب یہ عمران خان کی شکل میں نمودار ہوئی ہے۔ عمران خان جب کہتے ہیں این آر او نہیں دوں گا، چھوڑوں گا نہیں تو لگتا ہے عدالت بھی وہ خود ہی ہیں۔“

پرویز رشید نےکہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق میں میڈیا پر گفتگو نہیں کرنا چاہوں گاشاہد خاقان کے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع متعلق بیان میں میری آواز شامل کر لیں ۔ ”مریم نواز اور حمزہ شہباز دونوں نے پارٹی کی خدمت کی ہےراستہ کس کا چنا جائیگا، نواز شریف کا یا شہباز شریف کا؟ یہ وقت اور حالات کے مطابق فیصلہ ہوتا ہے۔ پارٹی فیصلوں پر عملدرآمد سب کرتے ہیں، ن لیگ میں تقسیم کی باتیں غلط ثابت ہوئیں۔“

ان کا کہنا تھا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے مطالبات جائز ہیں اور ان کی حمایت کرنی چاہئیے۔ پوری قوم چاہتی ہے کہ جنرل مشرف کے خلاف مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ اگر جنرل مشرف سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں ہو رہا تو سپریم کورٹ کو چاہئیے کہ پانامہ کی طرز پر نگران جج مقرر کر دے۔ ”جنرل مشرف کی زندگی کے لئیے دعا گو ہوں، اللہ تعالی ان کو صحت بھی دے اور طویل عمر بھی دے۔“

سوال کہ جنرل مشرف کو بیماری کے ہاتھوں شکست ہوتی ہے تو کیا آخری رسومات فوجی اعزاز کے ساتھ ہونی چاہئیے؟ اس کے جواب میں کہا کہ وقت پر رد عمل دوں گا کسی مفروضے پر نہیں-

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے