مشرف اکاؤنٹس پر استغاثہ غائب، عدالت بے بس

یاسر حکیم / صحافی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کی جائیداد اور بنک اکاؤنٹس کی نئی تفصیلات پیش کرنے کے بجائے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے افسر اور سرکاری وکیل عدالت میں حاضر نہ ہوئے ۔ جج محمد اصغر نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے سماعت 17 جون تک ملتوی کر دی ۔

خیال رہے کہ بے نظیر قتل کیس میں نامزد پرویز مشرف کی جائیداد ضبطی کے دوران عدالت کو بتایا گیا تھا کہ ملزم کے منجمد اکاؤنٹس میں سے بھی رقم نکال لی گئی ہے جس پر گذشتہ سال نومبر میں ایف آئی اے کو اس کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا تھا ۔

قبل ازیں 15 جنوری اور پھر 15 فروری کو سماعت کے دوران بھی ایف آئی اے نے عدالت سے مشرف کے اکاؤنٹس کی تازہ تفصیلات فراہم کرنے کے لیے مہلت طلب کی تھی جب عدالت کے علم میں لایا گیا کہ سابق صدر کے منجمد اکاؤنٹس میں موجود رقم میں اچانک غیر معمولی کمی دیکھی گئی ہے ۔ 

یاد رہے کہ گذشتہ برس 15 دسمبر کو عدالت نے مشرف کے اثاثوں کی تفصیلات پیش نہ کرنے اور سماعت سے غیر حاضر رہنے پر ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر خواجہ امتیاز اور تفتیش کرنے والے ایف آئی اے کے ایس ایچ او عظمت محمود کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے تھے ۔ دونوں نے اگلی سماعت پر پیش ہو کر معافی مانگ لی تھی۔

بدھ کو عدالت نے سماعت کی تو سپیشل پبلک پراسیکیوٹر خواجہ امتیاز اور تفتیشی افسر دونوں پیش نہ ہوئے ۔

یاد رہے کہ گذشتہ سماعت پر 15 فروری کو پرویز مشرف کی بے نظیر قتل کیس میں مفرور ہونے کے بعد جائیداد ضبطگی کی کارروائی کی سماعت انسداد دہشگردی کی خصوصی عدالت کے جج محمد اصغر خان نے کی تھی تب بھی ایف آئی اے عدالت کے حکم پر مشرف کے 2016 میں منجمد کئے بنک اکاؤنٹس میں موجود رقم میں نمایاں کمی پر جواب داخل نہ کرا سکی ۔

ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا تھا کہ مشرف کے اکاؤنٹس میں رقم کم ہونے پر غیر ملکی بنک کی متعلقہ برانچ سے معلومات حاصل کر رہے ہیں ۔

پراسیکیوٹر نے بتایا تھا کہ ایک ماہ قبل سابق صدر کے فارم ہاؤس، 5 پلاٹوں اور 8 سے زائد بنک اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں پیش کی تھیں، عدالت سابق صدر کی جائیداد کی تفصیلات کے لئے مزید وقت فراہم کرے ۔

عدالت نے ایف آئی اے کی مہلت کی استدعا منظور کرتے ہوئے 15 مارچ تک ملزم مشرف کے اکاؤنٹس کی نئی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد سماعت نہ ہو سکی تھی ۔

خیال رہے کہ بے نظیر بھٹو قتل کیس میں پرویز مشرف کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پیش نہ ہونے پر مفرور قرار دیا تھا جس کے بعد ان کی جائیداد ضبطی کی کارروائی جاری ہے ۔ 

پرویز مشرف کی جائیداد ضبطی کی کارروائی آرٹیکل 6 کے تحت ان کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ چلانے والی خصوصی عدالت کے حکم پر بھی شروع کی گئی تھی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے