بلے باز چل گئے تو گیند باز کیوں نہ چلے؟

برطانیہ کے شہر برسٹل میں تیسرا ون ڈے متوقع نتیجے کے مطابق اختتام پذیر ہوا ۔ انگلینڈ کے دورے میں پاکستانی ٹیم کی یہ تیسری شکست تھی۔ حیران کن طور پر ہمیشہ سے کمزور سمجھی جانے والی بیٹنگ نے دو میچوں میں ساڑھے تین سو سے زائد رنز سکور تو کیے لیکن پاکستان کی مضبوط ترین باؤلنگ کے بلند و بانگ دعوے درست ثابت نہ ہو سکے۔

پاکستان ٹیم کے ورلڈ کپ سکواڈ کے اعلان کے ساتھ ہی تجزیہ نگاروں، سابق کھلاڑیوں اور عام لوگوں کی جانب سے اس سکواڈ کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

عابد علی نامی نوجوان بلے باز کو ٹیم میں شامل تو کیا گیا لیکن سائیڈ میچز سمیت انھیں ابھی تک کسی میچ میں کھلایا نہیں گیا شاید کوچ اور مینجمنٹ کو ان کا پانی لانے لے جانے کا ٹیلنٹ اتنا پسند آیا ہے کہ انھیں یہ کام اب مستقل سونپنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

حفیظ ٹیم کے ساتھ موجود تو ہیں لیکن ان فٹ ہیں لیکن اگر ان فٹ ہیں تو نجانے ٹیم میں کیوں موجود ہیں۔ محمد عامر بھی خسرے کا شکار ہو کر ٹیم سے باہر ہوئے لیکن وہ بھی شاید اب کوچ اور مینجمنٹ کی آنکھوں کا تارا نہیں رہے اور انھیں ابھی تک گیارہ کھلاڑیوں کی فہرست سے باہر ہی رکھا گیا تھا۔

اب ذکر آتا ہے فہیم اشرف کا جن کی گزشتہ کچھ عرصے سے نہ تو باؤلنگ میں پرفارمنس ہے اور نہ ہی بیٹنگ میں لیکن وہ مسلسل ٹیم کا حصہ ہیں۔ تیسرے ون ڈے میں بھی ان کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی اور شاید وہ آئیندہ میچز میں بھی کوئی خاطرخواہ پرفارمنس نہ دکھا سکیں۔

پاکستان کے علاوہ دیگر تمام ٹیمیں ایک بہترین گیم پلان اور بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہیں لیکن نجانے پاکستان ٹیم میں ایسے مریض کھلاڑیوں کو کیوں سیلیکٹ کیا گیا ہے جن کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ صحت بھی ناقص ہے۔ انگلینڈ کی ٹیم اس ورلڈکپ کے دوران جیتنے والی ٹیموں میں فیورٹ ترین قرار دی جا رہی ہے اور اس کی وجہ ان کی حالیہ کارکردگی ہے۔ بٹلر کو ریسٹ دیکر بھی ٹیم ساڑھے تین سو کا ہدف باآسانی حاصل کرتی ہے۔ باؤلنگ میں بھی نئے کھلاڑیوں کی پرفارمنس شاندار رہی۔

دوسری جانب پاکستان میں یاسر شاہ کی جگہ جنید خان کو کھلایا گیا تو وہ بھی کوئی خاص کارکردگی نہ دکھا سکے۔ پاکستان کے یہ میچز ہارنے کی ایک اہم وجہ گیم پلان کا نہ ہونا، ناقص فیلڈنگ، ڈراپ کیچز اور اس کے علاوہ کپتان سرفراز احمد کی جانب سے کیے گئے غلط فیصلے ہیں۔ تین سو اٹھاون کا ہدف ایک بڑا ہدف ہے جسے حاصل کرنے کے لیے کوئی بھی ٹیم انڈر پریشر ہو سکتی ہے لیکن ابتدائی پانچ اوورز سے ہی ڈیفنس اپروچ کے باعث بیرسٹو اور رائے نے پاکستانی باؤلرز کی خوب پٹائی کی۔

پاکستانی باؤلرز کی جانب سے بھی بغیر کسی پلاننگ اور ویریایشن کے باؤلنگ کروائی گئی جو کہ اظہر محمود کی بحیثیت کوچ کارکردگی پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ لیکن یہاں پر ایک سوال ہے کہ آخر کب تک؟؟؟؟ ہم یونہی تجرباتی بنیادوں پر ٹورنامنٹ کھیلیں گے۔ انگلینڈ کے دورے سے قبل آسٹریلیا کے خلاف آزمائے گئے پلئیرز بھی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے یا کوچ اور مینجمنٹ ٹیم کے منظور نظر نہ بن سکے۔

دنیائے کرکٹ کی ٹیمیں فی الوقت بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہیں۔ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ دو میچ بھی انتہائی دلچسپ ہونگے کیونکہ جس چیز کے لیے کبھی پاکستان جانا جاتا تھا آج کل وہ جذبہ اگر کسی ٹیم کے پاس ہے تو وہ افغانستان ہے۔

پاکستان کی بہتر ہوتی بیٹنگ بلاشبہ فینز اور خود پاکستان ٹیم کے لیے ایک بہت اچھی خبر ہے لیکن باولنگ میں خراب کارکردگی پاکستان کو میچ کروانے میں ناکام رہی۔

پاکستان کو ایک سپیشلسٹ سپنر کی اسکواڈ میں اشد ضرورت ہے۔ شاداب خان، یاسر سے بہتر ون ڈے باؤلر ہیں لیکن ان کی کارکردگی بھی شاندار نہیں رہی تو آکر کب تک ہم یونہی تجربات کریں گے۔

تجربات کے لیے اے ٹیم، ڈومیسٹک اور دیگر ٹورنامنٹس موجود ہیں لیکن حالیہ مینجمنٹ نے پاکستان ٹیم کو اس دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں پاکستان ٹیم کا مستقبل خاصا تاریک نظر آرہا ہے۔

دورہ انگلینڈ کے دوران تمام ٹیمیں اٹیکنگ کرکٹ کھیلیں گے۔ اور موجودہ کرکٹ میں اگر کسی ٹیم نے کامیاب ہونا ہے تو اسے یہی ٹیکٹیکس اپنانی ہونگی ورنہ وہ پاکستان کی طرح ہر بار شکست سے دو چار ہوں گی۔

ٹیم مینجمنٹ کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ کامران اکمل اور وہاب ریاض کو ٹیم میں شامل کر کے اس ورلڈ کپ کو جیتنے کی کوشش کریں ورنہ پاکستان گروپ سٹیج میں ہی ورلڈ کپ سے باہر ہوجائے گا۔

متعلقہ مضامین