’تبدیلی نے جمع پونجی کچرا بنا دی‘

پاکستان میں امریکی ڈالر تیزی سے مقامی کرنسی روپے کو بے وقعت کرتے ہوئے اوپر جا رہا ہے اور اس کی قیمت 147 روپے تک پہنچ گئی ہے ۔

جمعرات کو پاکستان میں اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا روپے سے شرح تبادلے ملکی سطح پر نیا ریکارڈ قائم کرتا ہوا 147 سے بھی اوپر گیا جبکہ دوسری جانب پاکستان کی سٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں 300 پوائنٹس کی کمی ہوئے ہے ۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے ڈالر کی بڑھتی قدر اور روپے کی بے قدری پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

تجزیہ کار نسیم زہرہ نے ٹویٹ کیا کہ ’ڈالر 148 روپے پر ہے اور منی چینجر کہتے ہیں کہ یہ 150 کی حد عبور کرے گا ۔ وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ روپے کو بے قدر ہونے سے روکا جائے مگر دوسری جانب یہ سب مارکیٹ کی طاقتیں کر رہی ہیں اور حکومت نے خود آئی ایم ایف سے طے کر رکھا ہے کہ روپے کی قدر مارکیٹ طے کرے گی۔‘

عالمی معاشی میڈیا ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایشیا میں پاکستانی کرنسی روپیہ بدترین کارکردگی کی حامل کرنسی بن گئی ہے ۔

بلومبرگ ایشیا کی رپورٹ

اس دوران سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین عمران خان اور صدر عارف علوی کی چار اور پانچ سال قبل کی گئی ٹویٹس کے سکرین شاٹس شیئر کر رہے ہیں جن میں روپے کی بے قدری کو آئی ایم ایف سے ڈیل کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں ۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف نے ن لیگ کی حکومت کو ماضی میں ڈالر تین روپے بڑھنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔

فیس بک پر ایک صارف کامران خان نے لکھا ہے کہ جس وقت پاکستان میں ڈالر 146 کا ہوا ہے اسی وقت بنگلہ دیش کی اوپن مارکیٹ میں ڈالر 84 ٹکے کا مل رہا ہے ۔

ایک اور صارف خرم امتیاز نے فیس بک پر بٹوے کے ساتھ اپنا کارٹون بناتے ہوئے لکھا ہے کہ ’یہ کیسی منحوس تبدیلی ہے۔ زندگی بھر کی بچت ہر گزرتے دن کے ساتھ کچرا بنتی چلی جا رہی ہے ۔‘

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے