جے یو آئی کا غیر سنجیدہ احتجاج

یہ بات درست ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو کئی اندرونی و بیرونی قوتیں اپنے مشن کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہیں ۔
یہ بھی ممکن ہے کہ دباؤ، تنہا کرنے اور اہل مدارس کو مولانا فضل الرحمان سے دور یا اہل مذہب میں مولانا فضل الرحمان کے متبادل قوت پیدا کرنے کی ہر کوشش اور حربے کی بدترین ناکامی کے بعد ، اب شاید آخری آپشن ’’راستے سے ہٹا دو‘‘ رہ گیا ہو !
یہ بھی درست ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کے بعض حامی مولانا فضل الرحمان کو اب کسی صورت برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ سیکیورٹی ہٹانے کا مقصد خوفزدہ کرنا ہو ۔
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے سے قبل ان کی سیکیورٹی کم کردی گئی تھی ۔

یہ بھی درست ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا ذکر آتے یا نام سنتے ہی بہت سوں کو پسینہ آتا اور وہ لال سرخ ہوجاتے ہیں ۔
یہ بات بھی درست ہے کہ اس وقت مولانا فضل الرحمان پاکستان میں واحد سیاسی و مذہبی رہنماء ہیں جو بلا خوف و خطر ظالمانہ اور جابرانہ مسلط کردہ حکومت کے عوام دشمن اقدامات کے خلاف کھڑے ہیں ۔

یہ بھی درست ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو نہ صرف شدید خطرہ ہے بلکہ تین بار خود کش دھماکوں میں اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ہے۔
یہ بھی درست ہے کہ اس مایوسی کے بدترین دور میں مولانا فضل الرحمان امید کی کرن اور حکمران اس سے خوفزدہ ہیں۔
یہ بھی درست ہے کہ جمعیت علماء اسلام کے رہنمائوں کا عمل ایک احتجاج تھا اور ہے ۔
یہ بھی درست ہے کہ جمعیت علماء اسلام اور مولانا فضل الرحمان ریاست سے ٹکرائو یا مسلح تحریک یا تصادم کے خلاف رہے اور ہیں ، ان کی اس حکمت عملی یا پالیسی کی وجہ سے ایک بڑا طبقہ ان کا جانی دشمن بن گیا تھا اور آج بھی ہے ۔
یہ بھی درست ہے کہ مولانافضل الرحمان نے رد عمل ہتھیار کی نمود و نمائش یا اس کی ترغیب کے بیانیہ کو ہمیشہ مسترد کیا ہے۔
مگر مگر جے یو آئی کے ارکان پارلیمان کا حالیہ احتجاجی عمل مولانا کی سیاسی و علمی بصیرت اور نظریاتی اسلوب سے متصادم ہے۔
یہ بھی درست ہے کہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے مولانا فضل الرحمان کے پاس 20 پولیس گاڑیاں ہونے کا بیان ( جمعیت علماء اسلام سندھ کا دعویٰ ہے کہ یہ بیان دیا گیا ہے )قومی اسمبلی میں دیکر غلط بیانی اور دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔(20 سالہ صحافتی سفر کے دوران کبھی اس کا نصف تو کیا ایک چوتھائی سرکاری کانوائی نظر نہیں دیکھا)۔

مگر اس سب کچھ کے باوجود جمعیت علماء اسلام کے رہنمائوں اور ارکان پارلیمان نے بندوق اٹھاکر محافظ بننے کے احتجاج کا جو راستہ اختیار کیا ہے وہ نہ صرف غلط بلکہ خود جمعیت علماء اسلام کی پالیسی اور مولانا فضل الرحمان کے بیانیہ کے خلاف ہے ۔

جمعیت علماء اسلام کے رہنمائوں کا یہ عمل کسی صورت قابل تائید اورنہ ہیحوصلہ افزا ہے ۔ یہ عمل اب جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں کے لئے نئی مشکل پیدا کردے گا۔ اس کا آسان حل یہی ہے کہ جمعیت علماء اسلام کی قیادت بالخصوص مولانا فضل الرحمان وضاحت اور غلطی کا اعتراف کریں۔ یہ عمل جذباتی ضرور ہے مگر دیرپا نقصان کا باعث ہوگا۔اس عمل کی کوئی توجیح اور نہ دلیل ہے ۔
جمعیت علماء اسلام کی قیادت اپنے طور پر قانون کے مطابق بہتر سے بہتر سیکیورٹی کا انتظام کرے مگر اس طرح کے تماشے نہیں ۔
احتجاج کے کئی اور سنجیدہ طریقے ہیں، ان کو اختیار کیا جاسکتا ہے اور یہ فائدہ مند بھی ہونگے۔
ہر فرد کے جان و مال کا تحفظ ریاست اور حکومت کا فرض ہے اور اگر حکومت یہ فرض پورا نہیں کرتی ہے تو یہ ریاست کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ ریاست کو چیلنج کرنا کانتیجہ اور سزا آئین پاکستان میں موجود ہے۔
یہ وقت صرف جذباتی ہونے کا نہیں بلکہ تدبر کا ہے۔

متعلقہ مضامین