’دو مظلوم اقلیتیں جن کو اپنے بھی نہیں پوچھتے‘

انسانی حقوق کے تحفظ اور عالم انسانیت کی تکریم کی صدی اس اکیسویں صدی میں دنیا میں صرف دو ایسی اقلیتیں ہیں جن کے حقوق کے لیے کہیں سے کوئی آواز نہیں اٹھتی بلکہ ان کے اپنے ہم مذہب بھی کوئی ان سے کوئی سروکار نہیں رکھنا چاہتے ۔

میانمار برما کے روہنگیا مسلمانوں کی حالت دنیا کے سامنے ہے مگر کوئی دلچسپی نہیں لیتا حالانکہ برما کوئی سپر پاور ہے نہ اس سے کسی ملک کے مفادات وابستہ ہیں ۔

اس کے برعکس چین کے صوبے سنکیانگ میں یغور نسل کے مسلمانوں کے لیے کوئی آواز اس لیے نہیں اٹھتی کہ چین دنیا کی معاشی طاقت ہے ۔

اب سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ چین کا حق ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی اور شدت پسندی کے خاتمے کے لیے اپنی قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کرے ۔ سعودی ولی عہد نے حالیہ دورہ چین میں اربوں ڈالر کے دو طرفہ تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں ۔

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق یغور مسلمانوں کے گروپس نے طاقتور سعودی ولی عہد سے اپیل کی تھی کہ وہ چین کے دورے میں مسلمان اقلیت کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے صدر شی جنپنگ پر زور دے ۔

برطانوی اخبار کے مطابق محمد بن سلمان نے اس موقع پر چین کے سرکاری ٹی وی پر نشر کی جانے والی ایک تقریر میں چین کی اپنے مسلمان شہریوں کے خلاف کارروائیوں کی حمایت کی ۔

دونوں ملکوں نے عالمی سطح پر شدت پسندی اور ایسی سوچ کے پروان چڑھنے کی روک تھام کے لیے مشترکہ کوشش کرنے پر اتفاق کیا ۔

چین پر الزام ہے کہ اس نے یغور نسل کے دس لاکھ مسلمانوں کو شدت پسندی روکنے کے نام پر کیمپوں میں بند کر رکھا ہے جہاں ان تبدیلی مذہب یا زبردستی از سر نو ’تعلیم‘ دی جا رہی ہے ۔

یغور نسل کے مسلمان بنیادی طور پر ترک النسل ہیں جو مغربی چین اور وسطی ایشیا میں آباد ہیں ۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں سعودی عرب کو مسلم اقلیتوں کے حقوق کے لیے سرگرم ریاست کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اخبار کے مطابق چونکہ چین گذشتہ چند برسوں میں مشرق وسطی کی ریاستوں کے ساتھ تجارتی شراکت دار کے طور پر تیزی سے آگے بڑھا ہے اس لیے یغور مسلمانوں کے حقوق کے لیے آواز بلند نہیں کی جا رہی اور اب سعودی ولی عہد کے بیان کے بعد چینی مسلمان اقلیت میں مایوسی پھیل گئی ہے ۔

گذشتہ ماہ ترکی کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے یغور نسل کے مسلمانوں کے لیے بنائے گئے چینی کیمپوں کو انسانیت کے لیے شرمناک قرار دیتے ہوئے ان کی بندش کا مطالبہ کیا تھا ۔ ترک صدر رجب طیب اردوآن نے بھی ایک بار چین کو مسلمانوں کی نسل کشی کرنے والا ملک قرار دیا تھا تاہم بعد ازاں بیجنگ کے ساتھ قریبی سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کر لیے ۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھی گذشتہ دنوں ایک غیر ملکی ٹی وی کو انٹرویو میں یغور مسلمانوں کی حالت زار کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ وہ ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے