’سپریم کورٹ کے نئے جج کا سخت فیصلہ‘


پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کسی ملزم کو بری کرنے کے فیصلے کو صرف اسی صورت ختم کیا جا سکتا ہے جب وہ قانون کے منافی اور انصاف کے قتل پر مبنی ہو ۔


یہ فیصلہ عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ نے دیا ہے اور اس کو حال ہی میں تعینات ہونے والے جسٹس قاضی محمد امین نے لکھا ہے ۔


فیصلے کے ذریعے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی محمد امین نے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے دیے گئے فیصلے پر سنجیدہ قانونی سوالات اٹھائے ہیں ۔


خیال رہے کہ جسٹس قاضی محمد امین لاہور ہائیکورٹ سے ریٹائرڈ ہوگئے تھے اور ان کو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی جوڈیشل کمیشن کو دی گئی سفارش پر سپریم کورٹ کا جج بنایا گیا ہے ۔

انہوں نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ بری ہونے والے شخص کو بے گناہ ہونے کا عدالتی حکم حاصل ہوتا ہے اور صرف کسی مختلف رائے کی وجہ سے اس فیصلے کو ختم نہیں کیا جا سکتا ۔


انگریزی روزنامے ایکسپریس ٹریبیون کے حسنات ملک کی رپورٹ کے مطابق فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ’لاہور ہائیکورٹ نے اس مقدمے میں فیصلہ دیتے ہوئے قانون کے مسلمہ اصولوں سے انحراف کیا ہے ۔‘


سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے جس فیصلے کو کالعدم قرار دے کر ملزم کی بریت کو برقرار رکھا ہے اس میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے محمد شفیع نامی شخص کو فروری سنہ 2016 میں عمر قید کی سزا سنائی تھی ۔


خیال رہے کہ ملزم محمد شفیع کو ٹرائل کورٹ نے ضلع قصور کے چنیاں پولیس سٹیشن میں درج کیے گئے قتل کے مقدمے سے سنہ 2002 میں بری کیا تھا ۔


جسٹس قاضی محمد امین کے ساتھ بنچ میں جسٹس منظور احمد ملک اور جسٹس سید منصور علی شاہ بھی شامل تھے ۔


یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بنچ میں شامل تینوں جج صاحبان لاہور ہائیکورٹ سے آئے ہیں اور مؤخر الذکر دونوں ججز ہائیکورٹ میں چیف جسٹس بھی رہ چکے ہیں ۔


جسٹس قاضی محمد امین نومبر سنہ 2014 سے مارچ سنہ 2019 تک لاہور ہائیکورٹ کے جج رہے جبکہ انہوں نے 24اپریل کو سپریم کورٹ کے جج کا حلف اٹھایا ۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں جسٹس قاضی محمد امین نے لکھا ہے کہ ٹرائل کورٹ کے جج کا محمد شفیع کو بری کرنے کا فیصلہ منطقی ہے اور اس میں وجوہات دی گئی ہیں ۔ ‘دوسری طرف استغاثہ کے کیس کا تجزیہ کیا جائے تو وہ شکوک سے مبرا نہیں۔’


کیس کی سماعت کے دوران محمد شفیع کے وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکل کو نہ صرف ٹرائل کورٹ نے بری کیا بلکہ تفتیش کے دوران بھی بے گناہ قرار دیا گیا ۔


سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا ہے کہ ’یقینی طور پر ایسی کوئی صورتحال نہیں تھی کہ لاہور ہائیکورٹ ٹرائل کورٹ کی جانب سے بری کیے گئے ملزم کو قید کی سزا سناتی جبکہ اس نے خود تین میں سے دو ملزمان کے خلاف استغاثہ کے ثبوت نہ مانے ۔‘

متعلقہ مضامین