گوگل کا تاریخی ڈوڈل

ممبئی سے ریحان خان

صوبہ خراسان کے نیشاپور کے ایک مکتب میں تین ہم عمر طلبہ اکٹھے بیٹھے تھے ۔ وہ دوست تھے، انہوں نے ایک معاہدہ کیا کہ ان تینوں میں سے جو بلند مرتبے پر پہنچے گا وہ اپنے بقیہ دوستوں کا خیال رکھے گا۔

نظام الملک نامی طالب علم نے ترقی کی منازل طے کیں اور سلجوقی سلطنت کے دربار تک رسائی حاصل کرلی ۔ پھر ایک دن وہ وزیراعظم بن گیا۔ وزیر اعظم بننے کے بعد اس نے اپنے بقیہ دوستوں کی سمت دیکھا تو ان حالت جوں کی توں تھی لیکن آج ان کے دونوں دوستوں کو تاریخ نظام الملک سے زیادہ یاد کرتی ہے۔


حسن نامی دوست نے نظام الملک کے توسط سے دربار تک رسائی حاصل کی اور اپنی فتنہ پرور ذہانت کی وجہ سے تاریخ کے صفحات میں خدواند الموت حسن بن صباح کے نام سے یاد کیا گیا جس کی دھاک سلطنتوں اور بادشاہوں پر قائم تھی۔

تیسرا طالب علم عمر تھا جس نے اپنے دوست نظام الملک کے ذریعے دربار میں رسائی حاصل کی اور فارسی رباعیات کے مشہور شاعر عمر خیام کے طور پر شہرت پائی ۔ وہ شاعری کے ساتھ علوم فلسفہ، نجوم اور ریاضی میں بھی یدطولیٰ رکھتا تھا۔

آج عمر خیام کے 971 ویں یوم پیدائش پر گوگل نے اپنے ڈوڈل سے اسے یاد کیا ہے ۔ یہ پذیرائی عمر کے دونوں ساتھیوں حسن بن صباح اور نظام المک طوسی کو نہیں مل سکی۔

اس زمانے کے جینئس بھی واقعی میں جینئس ہوا کرتے تھے ۔ بہ یک وقت شاعری میں کمال کرتے تھے تو طب میں بھی لوہا منواتے تھے۔ علم نجوم میں ستاروں کی طرح چمکتے تھے تو فلسفے کے رموز سے روشناس کراتے تھے۔ ان سب سے بڑھ کر وہ ایک مکمل آل راؤنڈر ہونے کے باوجود زمین سے جڑے ہوتے تھے ۔

متعلقہ مضامین