’بائیکاٹ ڈالر مہم پر معاشی ماہرین کیا کہتے ہیں‘

عابد خورشید / ایڈیٹر رپورٹنگ @Sardarabidk

پاکستان میں مقامی کرنسی روپے کی گرتی ہوئی قدر اور اس کے مقابلے میں ڈالر کے مہنگے ہونے سے حکومت، کاروباری طبقہ اور عام شہری پریشانی کا شکار ہیں ۔

اس صورت حال میں عام لوگوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ڈالر کے بائیکاٹ کی مہم کا ہیش ٹیگ چلا کر حالات کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ٹوئٹر پر #بائیکاٹ ڈالر کے ہیش ٹیگ کے ساتھ اب تک 33 ہزار سے زائد ٹویٹس کی جا چکی ہیں تاہم معاشی ماہرین اس مہم کے مثبت اثرات کے بارے میں پرامید نہیں ۔

معروف تحقیقاتی صحافی انصار عباسی سوشل میڈیا پر ڈالر کے بائیکاٹ کی اس مہم میں پیش پیش ہیں ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور نے یہ جاننے کے لیے کہ کیا عام شہریوں کی جانب سے ڈالر کے بائیکاٹ کی مہم سے روپے کی قدر بحال کی جا سکتی ہے، معیشت کے ماہرین سے رائے لی ۔

سابق سیکرٹری خزانہ وقار مسعود نے پاکستان ٹوئٹی فور سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈالر کے بائیکاٹ کی ایسی کوئی تحریک جو قومی جذبے شروع کی گئی ہو تو اس کا ہر صورت خیر مقدم کرنا چاہیے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک عجیب معاملہ ہے کہ ڈالر رکھنے کی قانونی اجازت ہے اور کوئی قدغن نہیں لیکن جب آپ کسی کو کہیں کے ڈالر نہ لیں کیونکہ یہ ملکی مفاد میں نہیں تو اس کا جواب بھی سادہ ہے کہ اگر ملکی مفاد میں نہیں تو اجازت کیوں ہے ۔‘

صحافی انصار عباسی نے بائیکاٹ ڈالر مہم کی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ڈالر کے بائیکاٹ کی آگاہی مہم میں حصہ لینا چاہیے ۔‘

ماہر معاشیات قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ ڈالر بائیکاٹ مہم سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا کیونکہ اصل مسئلہ درآمدات اور برآمدات کا عدم توازن ہے جس سے ڈالر کی اڑان قابو میں نہیں رہتی ۔

انہوں نے کہا کہ ’اس وقت ہماری درآمدات 125 فیصد زیادہ ہیں جو ڈالر کی طلب اور رسد میں فرق کی اصل اور بڑی وجہ ہے۔‘

سابق سیکرٹری خزانہ وقار مسعود نے انڈیا میں ڈالر کی مثال دیتے ہوئے کہا وہاں ’کنڑولڈ رجیم‘ ہے۔ ’ہمیں بھی کحچھ اقدامات کرنا ہوں گے اور فارن ڈالر اکاؤنٹ پر پابندی لگا دینی چاہیے اور بیرون ملک علاج، تعلیم کیلئے پاکستانی روپے کا ہی استعمال کرنا چاہیے۔‘

سابق سیکرٹری خزانہ کی رائے میں اوپن مارکیٹ میں منی چینجرز کو ڈالر کی خرید و فروخت کی محدود پیمانے پر اجازت دی جائے ۔ ’کہنے کا مطلب ہے کہ ڈالرائزیشن(Dollarisation ) نہیں ہونی چاہے۔‘

قیصر بنگالی کے خیال میں ڈالر کو displace کرنا ممکن نہیں ۔ ’اگر دو ملک آپس میں اپنی کرنسی میں تجارت کریں تب ہی فرق ممکن ہے جو یہاں نظر نہیں آتا۔‘


انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران کی ایک وجہ مارکیٹ کی بے یقینی بھی ہے جس کے کچھ اثرات ڈالر پر پڑتے ہیں۔

وقار مسعود کہتے ہیں کہ سنہ 2017 میں سپریم کورٹ کو بتایا گیا تھا کہ سولہ ارب ڈالر باہر بھیجے گئے تو سوال یہ ہے اربوں ڈالر باہر جا رہے تھے تو روکا کیوں نہیں ۔

اس سوال پر کہ ڈالر بائیکاٹ مہم کیا مردے کی مونچھیں کاٹ کر ڈیڈ باڈی کا وزن کم کرنے کی کوشش کے مصداق نہیں؟ اس سے معیشت ٹھیک کی جا سکتی ہے؟ ان کا جواب تھا کہ ’بات درست ہے مگر برے حالات میں بھی چھوٹے اقدامات سے فائدہ ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’لیکن اصل مسئلہ معیشت کو درست کرنے کا ہے جس میں بنیادی پالیسی اقدامات سمیت برآمدات اور درآمدات کا توازن بہتر کرنے اور فسکل ڈیفسٹ کو کنڑول کرنے کی ضرورت ہے۔‘

خیال رہے کہ اس ہفتے پاکستانی روپے کی قدر اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں 151 تک پہنچ گئی ہے اور اب حکومت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ کرنسی ڈیلرز پر چھاپے مار کر ڈالر کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرے ۔

اس دوران #ڈالر بائیکاٹ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ یہ ٹویٹ سب سے زیادہ پسند کی جا رہی ہے کہ

’ڈالر ایجاد اے کافر دی، اے مسلمان واسطے حرام اے! #بائیکاٹ_ڈالر

متعلقہ مضامین