نائب کپتان چیئرمین نیب؟(جاوید چودھری سے بلا معذرت)

مطیع اللہ جان

سلیکٹر نے کپتان کے مشورے کے بغیر ہی تبدیلی کی ٹیم کا نائب کپتان مقرر کر دیا ہے ۔ ویسے تو باقی کھلاڑی بھی کون سا کپتان کے مشورے سے شامل ہوئے تھے ۔ پورے سٹیڈیم کی نظریں ’ہینڈسم کپتان‘ پر ہیں مگر ٹیم کی نظریں ’کوجے‘ نائب کپتان پر لگی ہیں۔ نائب کپتان کے فیصلوں سے ٹیم ہارے گی تو کپتان کو تبدیل کر کے قوم کا غصہ ٹھنڈا کیا جائے گا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ نائب کپتان میدان سے باہر بیٹھے سٹے باز سلیکٹر کے کنٹرول میں ہے۔ سٹے باز کبھی ہارتے نہیں۔ یہ نائب کپتان کون ہے؟ یہ ہے نیب کا کپتان، چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال جن کے جاوید چودھری کو دیے گئے حالیہ انٹرویو نے تہلکہ مچا دیا ہے۔ ََ

ایک تعلقات عامہ کے ماہر کالم نویس اور ایک رپورٹر صحافی میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ایک اعلی سرکاری افسر ایسے کالم نویس کو گود میں بٹھا کر اس کے منہ کو فیڈر لگا دیتا ہے جسے وہ ماں کا دودھ سمجھ کر چسکیاں بھرتا رہتا ہے جبکہ ماں کے دودھ کی پہچان رکھنے والا صحافی رپورٹر یا اینکر ایسے فیڈر کو منہ نہیں لگاتا۔ 

نیب چیئرمین جاوید اقبال کا کالم نویس جاوید چودھری کو دیا گیا انٹرویو بھی گود کے فیڈر سے مختلف نہیں۔
جب کالم نویس خبریں بریک کرنا شروع ہو جائیں تو سمجھ لیں ایجنڈا ہے۔ رپورٹر تمام فریقین کا موقف لے کر خبروں کے صفحات پر چھپتا ہے ۔ ایڈیٹوریل صفحے پر کسی کے ایجنڈے کو اپنی رائے اور تجزیئے کی جگہ بطور کمین گاہ کرائے پر نہیں دیتا۔ جو سیاستدان اور افسران ایک نمبر نہیں ہوتے ان کا یہ پرانا حربہ ہے کہ مخصوص خبریں اور یکطرفہ معلومات کسی رپورٹر کو نہیں بلکہ شہرت اور پیسے کے بھوکے ایسے کالم نویس کو سونپی جائیں جس کا کاروبار ہی تعلقات عامہ ہو، جو سوالات نہ کرے اور جس کی تحقیق سے زیادہ تشہیر کی صلاحیت ہو۔ جسٹس جاوید اقبال اپنے ’دوست صحافیوں‘ کو دی جانے والی معلومات ’مکمل اور حرف بہ حرف چلانے‘ جیسی شرائط کیلئے پہلے ہی مشہور ہیں۔

اس طرح کے طے شدہ انٹرویوز کا بنیادی مقصد بھی کسی طے شدہ منصوبے کے لئے رائے عامہ ہموار کرنا اور اس ادارے یا افسر کی تیزی سے گرتی ساکھ کو سہارا دینا ہوتا ہے. ذرا ہمت کرکے سامنا کریں صحافیوں کے سوالات یا کسی ایسے صحافی اینکر کے سامنے ہی بیٹھ جائیں جس نے ڈاکٹری نہ کی ہو۔ جاوید چودھری اس سے پہلے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی شخصیت کی سلوٹوں پر اپنے تعلقات عامہ کی استری پھیر چکے ہیں۔ ان کی ظاہری شکل تو استری ہو گئی مگر ان کی شخصیت پر لگے داغ اور ان کی بدبو نے انہیں کسی عوامی محفل کے قابل نہیں چھوڑا۔ ایسے کچھ ججز اور سابق جج صاحبان یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی 501 ورکشاپ کی ڈانگری اور ان کے چہروں پر سیاسی انجینئیرنگ کے دوران جو داغ دھبے لگے ہیں وہ کسی دھوبی کی استری یا نائی کی شیو سے غائب ہو جائیں گے۔

گزشتہ الیکشن کے دوران سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور نیب چئیرمین جاوید اقبال نے ملکی سیاست اور آئین کے ساتھ جو کھلواڑ کیا ہے اس پر جاوید چودھری جیسے تعلقات عامہ کے ماہرین بھی پردہ نہیں ڈال سکتے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ نیب چئیرمین اپنی داغدار اور بدبودار ڈانگری کو اتار پھینکنے کیلئے بھی تیار نہیں کہ شاید ان کا کام ابھی باقی ہے۔ ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ کے اشارے پر ایک ٹہنی سے دوسری ٹہنی پر چھلانگ لگا دینے والے شخص کا ماضی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔

سنہ 2006 کے اختتام پر جسٹس بھگوان داس کے گھر اس شخص سے جب جاوید چودھری کی مبینہ طور پر پہلی ملاقات ہوئی تو اس کے چند ماہ بعد ہی اس کی اصول پسندی سامنے آ گئی تھی- بھگوان غیر ملکی دورے پر تھے اور آج کے یہ ’محتسب اعظم‘ اور اس وقت سینئر ترین جج تھے جب نو مارچ 2009 کے ایک سوچے سمجھے ریفرنس کے ذریعے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چودھری کو بندوق کے زور پر کام کرنے سے روک دیا گیا- موصوف نے یکدم قائم مقام چیف جسٹس کا عہدہ سنبھال کر اس ریفرنس پر جوڈیشل کونسل کا اجلاس طلب کیا اور افتخار چودھری کو زبردستی کام سے روکنے کی مشرفانہ حرکت کو جائز قرار دے دیا۔ بیس جولائی دو ھزار سات کو افتخار چودھری کی بحالی کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے ریفرنس اور جاوید اقبال کے قائم مقامانہ اور احمقانہ اقدامات کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ ان موصوف کو پھر بھی شرم نہ آئی- اس تمام عرصے میں نجانے جاوید چودھری صاحب کی جاوید اقبال صاحب سے ملاقاتیں بوساطت بھگوان جاری تھی یا نہیں، کچھ معلوم نہیں- اتنا زیرک کالم نویس اتنے تاریخی معاملات پر کوئی کالم کیوں نہ لکھ سکا؟ جناب جاوید اقبال نو مارچ کی داغدار اور بدبودار ڈانگری دھوئے بغیر تین نومبر دو ھزار سات کو ججوں کی برطرفی کے مشرفی فرمان (جس پر آج مشرف کیخلاف سنگین غداری کا مقدمہ ہے) آتے ہی سیاسی انجینئیرنگ کے لئیے پھر سے جیپ کے نیچے جا گھسے- وکلا اور ججز حضرات نے تاریخی وکلا تحریک (جو آخری مرحلے میں خود جیپ کے نیچےآ گئی) چلائی تو جسٹس جاوید نے اقبال بلند کرنے کی بجائے سرنگوں کر دیا اور مشرف کے فرمان کو تسلیم کرتے ہوئے جنرل مشرف سے پریس کونسل کے چئیرمین کی نوکری پکڑ لی- عدلیہ بحال ہوئی تو یہ موصوف پھر جج بن گئے- لاپتہ افراد کمیشن اور ایبٹ آباد کمیشن میں طاقت ور اداروں کو خوش رکھنے اور عوام کو اندھیرے میں رکھنے والے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال آج اپنے جاوید چودھریوں کی مدد سے زندہ جاوید ہونے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں مگر اپنے مذکورہ کارناموں کی وجہ سے یہ تاریخ میں مردہ جاوید ہی رہیں گے۔

جاوید اقبال نیب چیئرمین بنائے جانے کے بعد دفتر میں بیٹھ کر تصویر بنوا رہے ہیں

جاوید چودھری صاحب کو یاد آیا کہ چئیرمین نیب نے بطور سربراہ ایبٹ آباد کمیشن 67 لاکھ روپے کا سرکاری چیک واپس کیا تھا۔ کیونکہ موصوف جج پاکستان پر امریکی حملے اور اسے روکنے میں ہماری ناکامی کے باعث ملکی وقار کو پہنچنے والے دھچکے پر انتہائی شرمندہ تھے- جاوید چودھری نے پوچھنا مناسب نہ سمجھا کہ کیا ان کے ساتھی اراکین ایبٹ آباد کمیشن نے بھی معاوضہ لینے سے انکار کیا تھا یا وہ بے شرمی کا مظاہرہ کرتے رہے- ویسے بھی سرکاری معاوضہ نہ لیکر وہ کونسی رپورٹ تیار ہوئی جس سے ملکی دفاع میں غفلت کے ذمے داران کو سزا ملی؟ اپنی نام نہاد شرمندگی چھپانے کے لئیے کن کن لوگوں کی مجرمانہ غفلت اور گناہوں پر پردہ ڈالا کر وقار بحال کیا گیا؟ ہماری یادداشت کے مطابق آپکو بطور سربراہ ایبٹ آباد کمیشن جنرل کیانی اور صدر زرداری تک کو تو بلانے کی ہمت نہ ہوئی تھی۔ امریکی حملے کو روکنے میں ناکامی کے مرتکب حکام تو اپنی پوری تنخواہ اور پنشن کے اربوں روپوں کے ساتھ باعزت طور پر ریٹائر ہوئے- ایسے میں قوم جسٹس جاوید اقبال کے 67 لاکھ روپے کا اچار ڈالے؟ شرم تو پاکستانی عوام کو آنی چاہیے کہ ان کا اربوں ڈالر کی لوٹی رقم واپس لانے کیلیئے مقرر کردہ ’محتسب اعظم‘ اپنی دیانت اور کردار کا ثبوت دینے کیلئیے ستاسٹھ لاکھ روپے کی رقم کی واپسی جیسے قصے دوہراتا ہے۔

دوسرا بڑا شوشا اور کیا ہو سکتا ہے کہ مجھ پر دباؤ آتا ہے مگر میں برداشت کرتا ہوں- نیب کے قانون میں نیب حکام پر دباوٴ ڈالنے والوں کو گرفتار اور اس پر مقدمہ چلانے کا حکم ہے۔ مگر کیا ہے کہ دباوٴ ڈالنے والے پرانے ’واقف کار‘ ہیں جن کو برداشت کرنا مجبوری ہے۔ وہ بھی تو ان موصوف کو برداشت کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ خود کچھ بھی نہیں۔ ویسے جسٹس جاوید اقبال جیسی ’شخصیت‘ پر ملزم لوگ اتنی آسانی سے دباؤ کیسے ڈال لیتے ہیں؟ یہ دباؤ کی کہانی گھڑنے والے دراصل یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ تو کوئی بڑے بااصول شخص ہیں، کسی کا دباؤ نہیں لیتے، ادارے آزاد ہیں وغیرہ وغیرہ- مگر یہاں دعوی ہے کہ دباؤ ’برداشت کرتا ہوں۔‘ صدقے جاؤں اس برداشت کے- بات پھر وہی ہے کہ ماضی کے جسٹس جاوید اقبال سے گہری واقفیت رکھنے والے لوگ ٹرائی مارنے سے کب باز آتے ہیں- مگر پھر جو کام بغیر دباؤ کے ہو جاتا ہے اس کے لیے دباؤ کیسا؟ ایک قانونی اور نفسیاتی طور پر ماتحت شخص دباؤ پر نہیں آنکھ کے اشارے پر چلتا ہے- ٹیلی فون کی ریکارڈ کی گئی دھمکی آمیز گفتگو کے کردار شاید کوئی غیر ملکی تھے جو نہیں جانتے کہ اس ملک کا ایک صدر زرداری ہوتا تھا جو خفیہ آلات کے خوف سےاپنی پارٹی اجلاس بھی دوبئی میں طلب کرتا تھا- منسٹر کالونی میں گھس کر نیب چیئرمین کے گھر سے دستاویزات چوری کرنے کے لیئے کسی سویلین شھری کا اعتماد ہونا کافی نہیں۔ ایسے میں جاوید چودھری کو انٹرویو کسی مہرے کا نہیں دباؤ کے اصل ماخذ اس شخص کا کرنا چاہیے جو شطرنج کا اصل کھلاڑی ہے- شطرنج کے مہرے سے کسی کو کیا گلہ؟

جاوید چودھری کے انٹرویو سے شاطر کی اگلی چال کا کچھ اندازہ ضرور ہوتا ہے- وزیر اعظم عمران خان تو پہلے ہی پارلیمنٹ اور جمہوریت کے متعلق اپنے عزائم کے حوالے سے مشکوک ہیں- پھر پارلیمانی نظام (دراصل پیرا ملٹری نظام) کی ناکامی اور متبادل صدارتی نظام کا پھوکا بھی ٹیسٹ فائر کیا جا چکا ہے- اسکے ساتھ ہی لوٹی دولت کی وصولی کے لئیے نام نہاد سعودی ماڈل (جب شاہی خاندان کے افراد کو ایک ہوٹل میں قید کر کے ان سے اربوں ڈالر کی وصولی کی گئی) کی طرز پر پاکستان میں کاروائی جیسی تجاویز کو بھی ”مستند“ دفاعی تجزیہ کاروں اور چند رینکر اینکروں کے ذریعے اچھالا جا رہا ہے- اور اب یہ چئیرمین نیب کا جاوید چودھری کو دیا گیا انٹرویو ایسے نئے نظام کا پتہ دے رہے ہیں کہ لوگ کچھ دیر کے لئیے آپنے معاشی قتل عام کا ماتم بھول جائیں گے- نیب چئیرمین نے حکمران جماعت سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے اہم لیڈران کو کرپشن میں ملوث قرار دیکر ان کی گرفتاری کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ نیب چاہے تو موجودہ حکومت بھی دس منٹ میں گرا سکتی ہے- اب ایسی ذہنی کیفیت والے شخص کو مہرہ نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟ اس بات کا کیا مطلب لیا جائے؟ جنرل مشرف کے قانونی مشیر نالائق تھے جو تین نومبر کا فرمان آرمی چیف کے آفس سے جاری کیا گیا- آج کا مشرف اور آج کا شوکت عزیز یہ غلطی نہیں کرنے والے – جب لوگ وکیلوں کی بجائے جج کر لیں اور رپوٹروں کی بجائے ایڈیٹروں یا کالم نویسوں سے مک مکا کر لیں تو ”میرے عزیز ہم وطنو“ تم سب جاؤ بھاڑ میں۔

کالم نگار اور اینکر جاوید چودھری کی ایک تاریخی سیلفی

لگتا ہے کہ اب کی بار نیب نے عملی طور پر حکومت کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے- چئیرمین نیب کے ان وزیراعظمانہ یا صدارتانہ انداز بیاں کا کیا مطلب لیا جائے جب وہ جاوید چودھری سے کہتے ہیں:
’ملک میں آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے‘ یہ ملک کرپشن کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے‘ یہ ہماری ماضی کی غلطیاں اور بدعنوانیاں ہیں جن کی وجہ سے ہم آج در در بھیک مانگ رہے ہیں‘ ہم اگر اس دلدل سے نکلنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں ملک کو کرپشن سے پاک کرنا ہوگا ورنہ دوسری صورت میں ہم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے۔‘

وہی پرانا باجا اور پس منظر میں ’میرے عزیز ہموطنو!‘ کی ہلکی سی دھن۔ فرق صرف یہ کہ یہ تقریر خود عمران خان یا چئیرمین نیب فرمارہے ہیں۔ مذکورہ بیان میں آئین اور قانون کا کہیں ذکر نہیں- وہی پرانا بینڈ اور بینڈ ماسٹر جسکی ایک اور پسندیدہ دھن ہے ’ملک ہو گا تو آئین ہو گا۔‘ ملکہ برطانیہ کی سالگرہ کی تقریب میں فوج کے ایک مقبول جرنیل نے جب یہی دھن مجھے ایک سائیڈ پر لے جا کر سنائی تھی تو میں نے ایک ہی بات کی تھی ’جنرل صاحب آئین ہو گا تو ملک ہو گا۔‘ 

قصہ مختصر کہ یہ جاوید اقبال کا انٹرویو ہے یا جاوید چودھری کا کالم یہ سب باتیں باقاعدہ اجازت اور منظوری کے بغیر نہیں چھپ سکتی تھیں۔ صورت حال کچھ یوں واضح ہو رہی ہے دیگچی چولھے پر چڑھا دی گئی ہے ہردو صورت میں پانی کا استعمال ہو جائیگا۔ معاشی افراتفری کی صورت میں اپنے سیاسی تجربے کی ناکامی پر شرمندگی کی بجائے نیب کے ذریعے ”سعودی ماڈل“ کا نفاذ ہو گا۔ علیہ، پارلیمنٹ، حکومت (کچھ تبدیلی کے ساتھ) اور میڈیا کی دوکانیں بھی کھلیں رہینگی۔ جاوید اقبال کے انٹرویو سے محسوس ہوتا ہے کہ مستقبل میں تحریک انصاف، ن لیگ، اور پیپلز پارٹی کے اہم لیڈر جیل میں ہونگے تاکہ سیاسی و معاشی بحران کے اصل ذمے دار اقتدار میں رہیں اور ان پر کوئی سوال نہ اٹھا سکے۔ قید لیڈران میں سے کچھ دو نمبر سکرپٹ کیمطابق چند لاکھ ڈالر ادا کر دینگے تو لوگ تالیاں بجائیں گے، چند اینکر حضرات احتساب کے گن گائیں گے، عدالتیں کہیں گی نیب کے پاس قانونی اختیار تو ہے نا- شاید عمران خان کو اس عمر میں وزیراعظم کہلوانے کا شوق پورا کرنے دیا جائے گا- معاشی افراتفری ہوئی تو آئین کے مطابق ہنگامی حالت کا آپشن بھی موجود ہے- عمران خان کی جگہ کوئی اور عمران خان آ جائے گا اور یوں عوام کو بتایا جائے گا کہ معیشت کی تباہی کے ذمے دار جیل میں بند یہ چند سو لوگ ہیں- ڈالر کی نئی قیمت کے ذمے دار بھی یہی لوگ ہیں- ملکی سلامتی خطرے میں ہے اور یوں اس پر بجٹ میں یا اس کے بعد بھی کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا- سب کچھ آئینی طریقے سے ہو گا- جب نظام نیا آئے گا تو تب نیا پاکستان بنے گا- جب سب جماعتیں “نئے نظام” پر متفق ہونگی تو سعودی ماڈل کے نیب کے قیدی لیڈران کو آزادی ملے گی-

نیب چئیرمین کو آصف زرداری کی نیب دفتر میں پیشی کے وقت کانپتی ٹانگوں اور انکے کانپتے ہاتھوں کا منظربھی خوب یاد رہا۔ وہ شاید بھول گئے کہ ایک ملزم سے متعلق اس طرح کی منظر کشی ان کے عہدے کو زیب نہیں دیتی- ویسے تو پہلے بھی وہ بطور سپریم کورٹ جج اپنے عہدے کی شان میں بہت سے گل کھلاتے رہے جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے مگر اپنی اس عمر میں ایک دوسرے بوڑھے شخص یا ملزم کی تذہیک صرف جاوید اقبال کی شخصیت کا خاصہ ہے- جاوید اقبال کو ایک کمانڈو فوجی حکمران کی آج کل کی تصاویر سے عبرت حاصل کرنی چاہئیے- یہ وہ شخص تھا جو جاوید اقبال کی طرح سیاستدانوں کو مکے دکھاتا تھا اور جسکو نیب چئیرمین کی طرح اپنی طاقت پر بہت گھمنڈ تھا- انٹرویو میں سیاستدانوں اور عسکری ملزمان کے بیچ احتساب کے عدم توازن کا سوال اور جواب بھی ضروری تھا- بات ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں فوجی ملزمان کی ہوئی یا ڈی ایچ اے کی تو موصوف نے سانڈے کا تیل بیچنے والے چرب زبان فٹ پاتھئیے کی طرح بول دیا کہ انہیں بھی جلد گرفتار کیا جائے گا- تو بھئی ابھی تک ایسا کیوں نہیں ہوا ؟ کیا نظام لپیٹنے کے وقت چند ریٹائرڈ جرنیلوں کی گرفتاری کا ڈرامہ رچایا جائے گا؟

کالم سے معلوم ہوا کہ یب چیئرمین اپنے لاکھوں روپے تنخواہ لینے والے ڈائریکٹروں پر کتنا اعتماد کرتے ہیں۔ موصوف کا کہنا ہے کہ وہ ایک ملزم کی ملکیت عمارت دیکھنے خود ہی خفیہ طور پر ٹیکسی میں چلے گئے۔ یہ ایسی خفیہ طریقے سے ٹیکسیوں میں اور کہاں کہاں جاتے ہونگے؟ تو جناب بقول انکے ملزم نے جس عمارت کا کریہ مبینہ طور پر وصول کر لیا تھا اس عمارت کی “پانچ منزلوں کی چھتوں کے کنکریٹ کو پانی دیا جا رہا تھا۔” اندازہ کریں پانچ منزلوں کی چھتوں کی کنکریٹ، بقول چیئرمین یا چودھری کے، تازہ تھی۔ ایک ہی دن میں پانچوں منزلوں پر کنکریٹ لنٹر؟ خود چیئرمین صاحب بھی بظاہر احتساب کا کچھ ایسا ہی پلازہ تعمیر فرما رہے ہیں جسکی وصولی ملزم کی طرح وہ پہلے ہی کر چکے ہیں۔


دوسری طرف کچھ دوسرے ملزمان کے پیسے واپس کرنے کی پیشکش والے انکشاف نما دعوے کے بعد خود کو نیب کا چئیرمین کہلوانے والا یہ شخص کیا احتساب عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہو کر بطور گواہ جرح کا سامنا کرنے کو تیار ہے ؟ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے متعلق سیاستدان تو اپنے مخالفین سے متعلق ایسے دعوے تو کرتے رہتے ہیں، مگر عوام کے ٹیکس پر پلنے والا ایک قانونی ادارے کا سربراہ اپنے انٹرویو میں ایسی بیان بازی نہیں کر سکتا جس کا براہ راست اثر ٹرائل کورٹ اور آئین میں درج شق دس کے منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حق پر پڑتا ہو؟ یہ صرف جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال جیسے چند لوگ ہی کر سکتے ہیں۔- یہ سیاسی بیان بازی انکا گزشتہ الیکشن سے پہلے کا وطیرہ ہے۔ جناب ثاقب نثار اور جناب جاوید اقبال نے “بغیر کسی دباؤ” کے رضاکارانہ طور پر الیکشن سے پہلے مخصوص سیاسی جماعت اور اسکے سربراہ کو تختہ مشق بنائے رکھا- الیکشن سے پہلے نواز شریف پر پانچ ارب ڈالر انڈیا بھیجنے کی اطلاعات پر نیب کی تحقیقات شروع کرنے کا سرکاری اعلان بھی جاوید اقبال صاحب نے کیا تھا- وہ فیصلہ بھی سر سے سینگ کی مانند غائب ہو گیا- اسی قماش کے منصف افتخار چودھری نے بھی آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ۲۰۱۳ کی الیکشن سے پہلے ایسا ہی کیا تھا- اس وقت جرنل کیانی کو خوش کیا جا رہا تھا- ثاقب نثار اور جاوید اقبال نے ۲۰۱۸ کے الیکشن میں اسی حکمت عملی کو دوہرایا اور جو کمی بیشی تھی وہ گنتی میں پوری کر لی گئی- بنیادی طور پر پانامہ کیس نہ بھی سہی تو اسکی سماعت ایسی ہی آزمودہ حکمت عملی کا ایک حصہ ضرور ثابت ہوئی-

انٹرویو میں نئی بات یہ بھی سامنے آئی کہ نیب چئیرمین اپنے سابقہ چیئرمینوں کی طرح ملک ریاض کے فین ہیں- شاید ملک ریاض کے پاس سارے نیب چیئرمینوں کے پرانے کھاتے موجود ہیں اور ملک ریاض وہ “جیدار” بندہ ہے جو “وقت پڑنے پر” [ یعنی پھنسنے پر] چیف جسٹس اور انکے اہل خانہ کے خلاف بھی پریس کانفرنس کر نے سے گریز نہیں کرتا- کتنا شرمناک ہے نیب چئیرمین کا دعوہ کہ ملک ریاض بحریہ کراچی اور دیگر منصوبوں پر نیب ریفرنس کے خوف سے سپریم کورٹ میں ساڑھے چار ارب روپے ادا کرنے کو تیار ہوا- یہ سب کچھ تو سپریم کورٹ کے حکم پر ہوا وگرنہ نیب چئیرمین کا آسٹریلوی بھانجا تو شاید آسٹریلیا واپس جانے سے انکاری ہو چکا ہوتا- یہ اور بات ہے کہ سپریم کورٹ نے بحریہ کراچی کے کیس میں اپنے ساتھی ججوں کے اصلی فیصلے کی ایسی تشریح کی کہ “سعودی ماڈل” لاگو کر دیا اور نیب کے یرغمال ملک ریاض سے ساڑھے چار سو ارب وصول کرنے کے احکامات جاری کئیے- فرق یہ تھا کہ اپنے بحریہ کے شھزادے کو سرکار کی زمین جہیز میں دے دی گئی۔ اتنی بڑی رقم کا حکم دینے کے بعد نیب اورترازو والی سرکار کے ہاتھ پاؤں آصف زرداری صاحب کے ہاتھ پاؤں کی طرح ایسے لرز رہے ہیں کہ آج تک یہ فیصلہ نہ ہو سکا ہے کہ یہ رقم جائے گی کونسے حکومتی اکاؤنٹ میں- اب ججوں کو کونسی نیب پوچھے؟نیب چئیرمین نے جاوید چودھری کے سامنے یہ رونا بھی رویا کہ کرپٹ لوگ عدالتوں سے ریلیف لے لیتے ہیں اور یہ مافیا کی مانند پورے سسٹم کو کنٹرول کر لیتے ہیں- اور پھر بھی پارسائی کا دعوی ہے ؟ ویسے تو مافیا کے بھی کچھ اصول ہوتے- اور نیب بظاہرایسے ہی چند اصولوں پر کاربند ہے- وکیلوں کا مجرموں کا دفاع کرنا ایک آئینی حق ہے مگر جب کچھ قانون دان ریاست کے بیچ سرکش ریاستی عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ کے ذریعہ جرائم کی منصوبہ بندی کریں، حکومتیں گرائیں اور آئین سے بغاوت کریں اور الیکشن چوری کریں تو پھر مافیا اور ریاستی اداروں میں تفریق کرنا مشکل ہو جاتا ہے- یہ لوگ ہر بار ایک نئی بوتل میں عوام کو پرانی شراب بیچتے ہیں- اس ملک کی تاریخ قانون دانوں اور فوجی آمروں پر مشتمل ایسے مافیا کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے- افسوس اس بات کا ہے کہ اقتدار اور اس ملک کے محدود وسائل پر جاری جنگ میں اب عدلیہ بھی فریق بن چکی ہے جس کے لئے وہ آئین اور قانون کی من پسند تشریح کر کے سیاست اور جمہوریت کو عوام کی نظر میں گرا رہے ہیں- اس کام میں بہت سے جاوید پیش پیش ہیں- مگر عوام اب اتنی بھولی نہیں- اب کی بار حکومت اور نظام کی ناکامی کا حل محض حکومت بدلنا نہیں ہو گا- اب کی بار عوامی رد عمل عمران خان کی حکومت کے خلاف نہیں اس کو لانے والوں کے خلاف ہو گا– 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے