اب گھبرانا شروع کر دیا ہے

تبدیلی کی فضا ایسی چلی ہے کہ خدا کی پناہ ! سونامی نے اس ملک کے ہر شہری کو اس قدر متاثر کیا کہ عوام کی خاموش چیخیں اور اَن سنی آہیں کانوں میں ایسا ارتعاش پیدا کر رہی ہیں کہ اب اگر کچھ نہ بن پایا تو ایک طوفان شہر کے اندر سے اٹھے گا جو وزیروں، مشیروں اور بڑے بڑوں کے محلات کے در و دیوار کو ڈھا دے گا ۔ چنگاری کو ہوا ملنے لگی ہے، امیدیں دم توڑتی نظرآ رہی ہیں، جون صاحب کا ایک شعر یاد آ رہا ہے

کیوں ہمیں کر دیا گیا مجبور
خود ہی بے اختیار تھے ہم تو

جون صاحب نے تو پتہ نہیں کس صورتحال کی عکاسی کی تھی لیکن آج کل بے اختیار عوام کا بھی یہی حال ہے کہ ان کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ اٹھیں اور برسراقتدار طبقہ کی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیں۔ بغیر تیاری میدان میں اترنے والے کھلاڑی پچ پر پہنچ کر کبھی پیڈ منگوا کر باندھنا شروع کردیتے ہیں تو کبھی گلوز مانگنے کے لیے ’’پویلین‘‘ کی طرف اشارہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ تو ایسے ہیں جو صرف بلا اٹھائے ہی بیٹنگ کے لیے چلے آئے ہیں ۔


ماہ رمضان کی برکتوں کا براہ راست اثر ڈالر پر پڑا جس کے درجات ہیں کہ بلند سے بلند تر ہو رہے ہیں ۔ اگر اسی طرح ڈالرکے درجات بڑھتے رہے تو اس عید پر چاند کا جھگڑا نہیں ہوگا بلکہ عوام کو دن میں تارے بھی نظر آئیں گے ۔


وزیراعظم عمران خان صاحب کہا کرتے تھے”جب روپے کی قیمت کم ہو تو سمجھ لو حکمران چور ہیں“ ایشیا میں سری لنکا کے بعد پاکستان میں ڈالر کی قیمت سب سے زیادہ ہے۔
گیس کی قیمتوں میں بھی ہوا بھر دی گئی ہے 47 فیصد گیس کو مہنگا کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ وزارت پوسٹل سروس نے بھی ریٹ بڑھا دیئے ہیں اور ریلوے کی وزارت نے کرایے بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔ ریلوے کا کرایہ بڑھانے کی بڑی وجہ خسارے میں چلنے والی 6 ٹرینیں ہیں جن کا ذکر گذشتہ ہفتے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے میں ہوا ہے ۔ نئی حکومت کی جانب سے چلائی گئی 10 مسافر ٹرینوں میں سے 6 کو خسارے کا سامنا ہے ۔ وزارت کے حکام کی جانب سے پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق 30 اپریل تک ریلوے کو 28 ارب 62 کروڑ روپے کے خسارے کا سامنا رہا ہے۔

کالا دھن سفید کرنے کی سکیم تو دی گئی لیکن سستے رمضان کے ویران بازار میں مہنگی اشیاء خورونوش کی جانب توجہ نہیں دی گئی۔ جہاں ٹیکس لگانا بنتا ہے وہاں کوئی حرکت دکھائی نہیں دے رہی ۔ پاکستان میں دنیا بھر سے سستے سگریٹ بیچے جاتے ہیں ادھر ٹیکس نہیں لگایا جا رہا ، ادویات مہنگی ہو رہی ہیں ۔ پھل، سبزیاں دیگر اشیاء ضروریہ بھی مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔ وزیر بدلتے جا رہے ہیں ، مشیروں میں اضافہ ہو رہا ہے، خصوصی معاونت کے عہدے بھی دیئے جا رہے ہیں لیکن مہنگائی کا جن ہے کہ کسی کے قابو میں نہیں آ رہا۔

آئی ایم ایف سے بھی بھیک لے لی گئی ہے۔ لاکھوں نوکریوں کی صورتحال کچھ یوں ہے کہ ترقیاتی فنڈز کا استعمال نہ ہونے کی وجہ سے 9ماہ میں 20لاکھ نوجوان بےروزگار ہوئے ہیں ، پلاننگ کمیشن کے مطابق وفاقی ترقیاتی منصوبوں کیلئے اب تک 578 ارب سے زیادہ جاری ہو چکے ہیں لیکن 30 جون تک مزید 97 ارب روپے جاری کرنا ہوں گے، صحت اور تعلیم کے 13 منصوبے نظرانداز کیے گئے ہیں، فنڈز جاری نہ ہو سکے ۔ اس کے علاوہ نیشنل ہیلتھ سروسز کو 10.78 ارب میں سے صرف 3.18 ارب جبکہ ایچ ای سی کو 29 ارب، فیڈرل ایجوکیشن کو 2 ارب 28 کروڑ جاری کیے گئے ۔


مہنگائی کا ایک طوفان شہر کی فصیلوں تک پہنچ چکا ہے اور اس سے بچنے کیلئے نہ تو کوئی تدبیر کی جا سکی ہے نہ ہی کوئی اقدامات اٹھائے گئے تو اب بھی کھلاڑی نہ گھبرائیں تو کب گھبرائیں گے ۔

بقول سید عارف
رات بھی ویراں، فصیلِ شہر بھی ٹوٹی ہوئی
اور ستم یہ، جاگتا تُو بھی نہیں میں بھی نہیں

متعلقہ مضامین