ایران سے جنگ نہیں چاہتے، سعودی عرب

سعودی عرب نے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر خلیجی اور عرب ملکوں کا اجلاس طلب کیا ہے ۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق اجلاس 30 مئی کو سعودی فرمانروا شاہ سلیمان کی صدارت میں ہوگا ۔

سعودی شاہ سلیمان نے اتوار کو خلیج اور عرب رہنماؤں کو مکہ میں حملے کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیےایمرجنسی سمٹ اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا ۔

سعودی عرب نے اپنے دو آئل ٹینکرز حملے کا الزام کسی پر عائد نہیں کیا اور ابھی تک کسی نے اس حملے کی ذمہ داری بھی قبول نہیں کی تاہم امریکی حکام کا خیال ہے کہ ایران نے حوثی باغیوں کو ان حملوں کی ترغیب دی ہے ۔

اس سے قبل سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر نے کہا تھا کہ ان کا ملک ایران سے جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر ان پر مسلط کی گئی تو وہ بھرپور طریقے سے دفاع کریں گے ۔

سعودی عرب نے خلیج میں اپنے بحری جہازوں پر حملے کے بعد اپنے سرحدوں شہروں پر یمن کے حوثی باغیوں کے ڈرون حملوں کے پیچھے ایرانی ہاتھ ہونے کا الزام عائد کیا ہے ۔

یاد رہے کہ دو ہفتے قبل واشنگٹن نے ایران پر معاشی پابندیاں سخت کرتے ہوئے کئی ملکوں کو ایران سے تیل خریدنے سے روک دیا تھا ۔ امرکہ نے خیلج میں اپنی عسکری طاقت مضبوط کرنے کے لیے طیارہ بردار بحری بیڑہ بھی تعینات کر رکھا ہے ۔

امریکہ کی جانب سے  یہ اقدامات ان بیانات کے تناظر میں کیے گئے ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ ایران خلیج میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔


سعودی وزارت خارجہ نے اتوار کو اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی سیکرٹری مائیک پومپیو سے ٹیلیفونک رابطے میں امن و استحکام کے لیے کیے جانے والے اقدامات سمیت  خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔

ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے جنگ کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران تنازعہ نہیں چاہتا ۔

ادھر امریکہ اور بحرین نے اپنے شہریوں کو عراق کا سفر کرنے سے روک دیا ہے ۔ دونوں ممالک نے وہاں پہلے سے موجود اپنے شہریوں کو فوری طور پر واپس آنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔

متعلقہ مضامین