فرشتے کی بے حرمتی اور قتل پر احتجاج

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے مزدور کی دس سالہ بیٹی کو اغوا کے بعد قتل کر کے نعش ویرانے میں پھینکی گئی جس پر قومی اسمبلی کے قبائلی ارکان نے رات گئے احتجاج کیا ہے ۔ دس سالہ فرشتہ کا پوسٹمارٹم مکمل ہونے کے بعد آئی جی اسلام آباد نے نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کے لیے دو ٹیمیں تشکیل دی ہیں ۔

ایک ٹیم ایس پی انوسٹیگیشن جبکہ دوسری ایس پی رورل ڈی ایس پی شہزاد ٹاون اور ایس ایچ او شہزاد ٹاون پر مشتمل ہے ۔

دس سالہ بچی کے قتل میں اب تک دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر کیا گیا ہے ۔ مقتولہ کے والد کے شک ظاہر کرنے پر پولیس نے دو پڑوسیوں کو گرفتار کر کے تفتیش کی ہے ۔

رات گئے احتجاج اور دھرنا

تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج کیے گئے مقدمے کے مطابق اسلام آباد کے نواحی علاقے علی پور کے رہائشی گل نبی کی دس سالہ بیٹی فرشتہ 15 مئی کی شام لاپتہ ہوئی جس کی اطلاع تھانے کو اگلی صبح دی گئی تاہم پولیس نے صرف روزنامچہ درج کیا اور ایف آئی آر چار دن بعد 19 مئی کو رات آٹھ بجے درج کی گئی ۔

معصوم فرشتے کی نعش 20 مئی کی شام گھر سے کچھ فاصلے پر انتہائی خراب حالت میں ملی جس کے بعد رات گئے پوسٹ مارٹم کے لیے اسلام آباد کے پولی کلینک ہسپتال منتقل کیا گیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق نعش بظاہر کچھ دن پرانی تھی اور بارش سے خراب ہوئی تھی جبکہ ایک ہاتھ پر جانوروں کے نوچنے کے نشانات تھے ۔

رات گئے تک ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کے لیے سٹاف دستیاب نہ ہونے پر قبائلی علاقے سے رکن قومی اسمبلی علی وزیر اور دیگر سینکڑوں افراد نے ہسپتال انتظامیہ اور پولیس کے خلاف احتجاج کیا ۔ پولی کلینک ہسپتال کے سامنے احتجاج کے بعد انتظامیہ نے جلد پوسٹ مارٹم اور ملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی کرائی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے