اندرونی اور بیرونی محاذوں پر خطرات

اسلام آباد میں 10 سالہ فرشتہ کے ساتھ زیادتی اور پھر معصوم بچی کو قتل کرنے کا اندوہناک سانحہ پیر کی رات پیش آیا۔ واقعہ تو ایک بچی کی عصمت دری اور قتل ہے لیکن اس کے بعد حالات بدلتے گئے ۔

اور اس ہفتے کی دو خبریں حالات بدل کو مزید بدل سکتی ہیں ۔ اندرونی اور بیرونی دونوں دشمنوں کا وفاق پر حملہ ہو رہا ہے۔

معصوم بچی کے قتل پر احتجاج شروع ہوا۔ اسلام آباد پولیس کی مذاکرات کی دعوت اور احتجاج کو بچی کے والد کے کی بات سے ساتھ مشروط کر دیا گیا ۔ والد کہتے ہیں بچی کو کتوں کے منہ سے چھڑا کر لایا ہوں انصاف تک چین سے نہیں بیٹھوں گا ۔ فرشتہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ پولیس اسٹیشن میں رات 10 بجے گئے 12 بجے پولیس والوں نے بٹھائے رکھا اور یہ بھی کہا کہ لگتا ہے 10 سالہ فرشتہ کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے ۔

پولیس کی اعلی اخلاقی اقدار سے تو معاشرہ واقف ہی ہے لیکن پولیس کے اس الزام پر ان اہلکاروں کو چوک میں سلامی دینا بنتی ہے۔

احتجاج پولیس کے رویے سے شروع ہوا، بچی کیلئے انصاف کا نعرہ لگا اور پھر کہانی بدلنے کی کوشش شروع ہو گئی ۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنان کی وفاق میں پہلی انٹری انتہائی نازک موضوع کو لے کر کی گئی۔ بچی کے والد کو کہا گیا ہمارے کہنے تک مزاکرات نہ کرنا اور احتجاج کرنے والے افراد میں ایک نے بیان دیا کہ اس احتجاج کو ہائی جیک کیا جا رہا ہے۔

بعض لوگوں کا دعوی ہے کہ احتجاج کے دوران پختون قوم پرستی کے حق میں اور پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ کیا اسلام آباد پولیس اس معاملے کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ یا اس کی نااہلی کی وجہ سے مختلف قومیتوں کے درمیان اس طرح کی غلط فہمی کا فائدہ دوسرے عناصر کو اٹھانے کا موقع ملے گا؟

دوسری جانب را کے ایک نیٹ ورک کو گلگت بلتستان سے پکڑا گیا ہے جو پاکستان کےخلاف نفرت پھیلانے میں فنڈڈ کردار ادا کر رہا تھا ۔ ملک کی اندرونی کہانی اور خطرات تو یہ ہیں۔ بیرونی خطرہ بھی خطے کے حالات سے متعلق ہے۔

امریکہ کی ایران سے بڑھتی جنگ کے آثار کا پہلا اثر پٹرول بند کرنے، دوسرا چینی موبائل کمپنی کو ٹرمپ انتطامیہ کی جانب سے بلیک لسٹ کرنے اور پھر گوگل کا اس کمپنی سے معاہدہ ختم کرنے کا واقعہ دنیا بھر کے صارفین کو متاثر کر چکا ہے۔ اور آئندہ کچھ عرصے تک ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور بند ہوتے موبائل عوام کو تنگ کرتے رہیں گے۔

ادھر امریکی بحری بیڑوں کا بحر ہند کے گہرے پانیوں میں پڑاؤ۔ ادھر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا طے پا جانا اور دیکھتے ہی دیکھتے ڈالر کی اونچی اڑان سے پاکستانی معیشت کا گھٹنوں پر آ جانا محض اتفاقیہ نہیں ہے ۔ ایک خاموش پیغام ہے کہ اگر ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ میں ہمارا ساتھ نہ دیا یا ایران کی مدد کی کوشش کی تو اس بگڑی معاشی صورتحال کے ساتھ بیرونی دشمنوں کا حملہ بعید از قیاس نہیں۔

کیا ہماری فوج اور خارجہ پالیسی کے کرتا دھرتا اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں؟

کیا اس ممکنہ جنگ میں ایران، روس اور چین کی بعد پاکستان کو بھی اپنی سرحدوں کی حفاطت کیلئے اقدامات اٹھانے پڑ سکتے ہیں؟ کیا ہم اس ساری صورتحال سے آگاہ ہیں یا بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے بیٹھے ہیں۔

یہ بیرونی محاذ انتہائی چالاکی سے بنایا گیا ہے۔ اپنی کمزور پالیسی کی بدولت امریکہ اس خطے میں اپنا اثر و رسوخ کھو چکا ہے۔ اور اپنی دھاک بٹھانے کیلئے بدمست ہاتھی کی طرح پاگل ہوا پھرتا ہے ۔ لیکن کیا امریکہ کا ہر قدم اس کے تھنک ٹینک کے زیر اثر نہیں ہوتا؟۔

متعلقہ مضامین