خلائی سرگرمیوں پر پاک روس اعلامیہ

وقاص احمد / صحافی

شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں پاکستان اور روس نے خلا میں اسلحے کی دوڑ کو روکنےاور خلائی تحقیق کو قومی سلامتی کیلئے استعمال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ بات مشترکہ جاری کیے گئے اعلامیے میں کہی گئی ہے۔

کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظم کے وزارتی سطح کا اجلاس 21 اور 22 مئی کو ہوا۔

اجلاس کے سائیڈ لائن پر پاکستانی وزیر خارجہ نے انڈین ہم منصب سشما سوراج سے ملاقات بھی کی ہے۔

اجلاس کے اختتام پر پاکستان اور روس کے مابین ‘NO First Placement of weapon in outer space’ کے نام سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور روسی وزیر خارجہ sergey lavrov نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔

خیال رہے کہ امریکہ، چین اور روس کے بعد اب انڈیا بھی خلا میں اسلحے کی دوڑ میں شامل ہو چکا ہے۔ 27 مارچ 2019 کو انڈیا نے زمین سے خلا میں سیٹیلائٹ کو نشانہ بنانے والے میزائل "Anti sattelite missile” کا کامیاب تجربہ کرنے کا دعوی کیا تھا۔

انڈیا کے دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق یہ تجربہ پاکستان کے چین کے تعاون سے 2017 میں مواصلاتی سیارے کے تجربے کے جواب میں کیا گیا۔

انڈین تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت نے دعوی کیا ہے کہ وہ ”اس میزائل تجربے سے خلا میں پاکستانی آنکھ یعنی مواصلاتی سیارے کو لمحوں میں تباہ کر سکتا ہے۔“

اس تجربے پر ردعمل میں پاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے اس کو خیالی اور مفروضوں پر مبنی تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”پاکستان ہمیشہ سے ہر قسم کے اسلحے کی دوڑ کے خلاف رہا ہے۔ اسلحے کی دوڑ سے قومی سلامتی کو خطرہ ہے۔“

پاکستان نے بھارت کے اس دعوی پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔

پاکستان اور روس کے مابین مشترکہ اعلامیے کے مطابق خلا میں ہونے والی سرگرمیاں ریاستوں کی سماجی، معاشی، سائنسی اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا اہم ذریعہ ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا عالمی اور علاقائی سلامتی برقرار رکھنے میں بھی کردارہے۔

خلا کو عالمی قانون کے مطابق ٹیکنالوجی کو اقوام کی معاشی ترقی اور بہتری کے لئے استعمال کرنا چاہیے۔

اعلامیے کے مطابق دونوں ملک ”اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 میں درج عہد کا اعادہ کرتے ہیں کہ خلا میں سرگرمیوں سمیت طاقت کے استعمال سے عالمی تعلقات سے احتراز برتا جائے اور اس تصور پر کاربند ہوں کہ ریاستیں سختی سے اس پالیسی پر عمل پیرا ہوں گی۔“

مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ خلا میں اسلحہ کی دوڑ بشمول ہتھیاروں کی تنصیب اور ان کے استعمال سے بچاؤ کا عالمی معاہدہ بین الاقوامی برادری کی ترجیح ہونا چاہئے۔
مشترکہ اعلامیے میں اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ خلا میں کسی بھی قسم کے ہتھیاروں کی تنصیب میں پہل نہیں کریں گے اور یہ کہ وہ ہر ممکن کوشش کریں گے کہ خلا فوجی تصادم کا میدان نہ بنے اور خلائی سرگرمیوں میں سلامتی کو یقینی بنایاجائے۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس اور پاکستان نے اعلامیہ تو جاری کر دیا لیکن سوال یہ ہے کہ اس پر عمل کتنا ہوتا ہے کیونکہ روس اور امریکہ دونوں پہلے ہی اس دوڑ میں شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین