فرشتہ کا کیا قصور تھا

نام فرشتہ تھا اور قصور تاحال کسی کو معلوم نہیں مگر نعش جنگل سے برامد ہوئی۔
فرشتہ کون تھی؟۔
فرشتہ پاکستانی تھی یا نہیں۔ اور اگر اس کا باپ افغان بھی نکل آئے تو کیا اس معصوم پری کا ریپ اور قتل جائز ہوگیا؟

تھوڑی دیر کے لیے اپنا ضمیر مار دیجیے اور انسانیت سے ناطہ توڑ دیجیے۔ اپنی بیٹی، بہن، بیوی اور ماں کا خیال اپنے ذہن سے نکال دیجیے۔ اس ملک کی سرحد پر کھنچی لکیر کو مزید گاڑھا کرکے سوچیے۔ ڈولتے ہوئے ایمان کو بھی چھوڑ دیجیے اور پھر سوچیے کہ فرشتہ کون تھی۔؟
وہ ۱۵ مئی کو گھر سے لاپتہ ہوئی تو پریشان باپ کو تھانے ہی اطلاع دینے جانا تھا اور وہ گیا مگر اسلام اباد کے شہزاد ٹاون تھانے کی پولیس نے ملک و قوم کی خدمت کے جذبے کے ساتھ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اوربھرپور ٹال مٹول کرتے چار دن گزار دیے۔

پولیس والے پریشان باپ سے تفتیشی انداز میں کہتے رہے کہ ہو سکتا ہے آپ کی بیٹی کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہو وغیرہ۔ (یاد رہے کہ بچی کی عمر دس سال تھی)

پھر چار دن بعد پولیس کو اطلاع ملی کہ قریبی جنگل میں ایک بچی کی نعش پڑی ہے۔ پھر تصدیق کر لی گئی کہ فرشتہ ماری گئی ہے۔

معصوم بچی کی نعش خراب حالت سے معلوم ہوا کہ تین دن جنگل میں پڑی رہی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے پتہ چلا ننھی فرشتہ کو درندے نے جنسی تشدد کے بعد قتل کیا۔

اس ظلم پر باپ احتجاج نہ کرے تو کیا کرے۔ وہ سڑک پر بیٹھ کر اسے بلاک نہ کرے تو کیا کرے۔ سر رکھ کر رونے کے لیے ملنے والا کندھا کسی کا بھی ہو تو وہ کیوں نہ اس کا سہارا لے؟
میڈیا پر آنے اور اپنی سیاست چمکانے کچھ سیاسی رہنما فرشتہ کے گھر پہنچتے ہیں۔

اور پھر یہ خبریں مخصوص چینلز پر نشر کی جاتی ہیں کہ فرشتہ کے باپ کا تعلق افغانستان سے ہے۔ شناختی کارڈ جعلی ہے۔ گل نبی (والد) کا تعلق جنوبی وزیرستان یا مہمند ایجنسی سے نہیں ہے وغیرہ وغیرہ ۔

تو کیا جو کچھ ہوا بالکل درست ہوا؟
فرشتہ پر جنسی تشدد جائز ہے کیونکہ اس کے باپ کا شناختی کارڈ جعلی ہے۔؟
فرشتہ کو بے دردی سے مارنا بلکل درست تھا کیونکہ اس کے باپ کا تعلق افغانستان سے ہے۔
فرشتہ کی نعش جنگل سے ہی ملنی چاہیے تھی کیونکہ اس کے والد کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ثابت نہیں ہوا۔
پولیس مقدمہ کیوں درج کرتی؟ بھلا فرشتہ کسی ایم این اے کی بیٹی تھی یا کسی عسکری ادارے کے افسر کی رشتہ دار؟۔

اپنے مردہ ضمیر کو جگائیے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف فرشتہ نہیں ہے جس کا قتل ہوا۔ یہ صرف فرشتہ کی عزت تو نہیں جس کی پامالی ہوئی۔ یہ صرف فرشتہ کا باپ نہیں ہے جو بے بس ہوا۔ یہ تو اس معاشرے کی کہانی ہے۔ اس کی عزت ہے۔ اس معاشرے کی ابرو ہے جو دن بدن ننگا ہوتا جا رہا ہے۔


ریاست مدینہ کے دعویدارو! مدینے کا معاشرہ تو عورت کو اس کی عزت لوٹانے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا نہ کہ زندہ درگور کرنے اور ہوس کا نشانہ بنانے کے لیے۔
خدارا !
اگر اپ سے یہ سب نہیں سنبھالا جاتا تو آپ جائیے اور میدان سجایئے۔ یہ قوم مزید اپ کے جمہوری تماشے کی خاطر اپنی بیٹیوں کی عزتوں کی بلی نہیں چڑھا سکتی۔

یہ قوم مجبور ہے یہ کہنے پر کہ

جاہل کو گر جہل کا انعام دیا جائے
اس حادثہِ وقت کو کیا نام دیا جائے
مے خانے کی توہین ہے، رندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں گر جام دیا جائے

متعلقہ مضامین