’چیئرمین نیب کو فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا‘

پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے نیب کے سربراہ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

معتبر ذرائع نے کہا ہے کہ نیب کے چیئرمین جاوید اقبال کو ہٹانے کا فیصلہ طاقتور اور فیصلہ کن افراد نے کیا ہے جس کے بعد ان کے خلاف ٹی وی چینلز پر جنسی سیکنڈل نشر کرنے کی اجازت دی گئی۔

جاوید اقبال اس سے قبل سپریم کورٹ کے جج کے طور پر بھی طاقتور حلقوں کے استعمال میں آنے کے الزامات کا شکار رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کے ایک مشیر طاہر اے خان کے ٹی وی چینل نیوز ون نے سب سے پہلے نیب کے چیئرمین جاوید اقبال کا سیکس سکینڈل نشر کیا ہے۔ احتساب بیورو کے سربراہ کی ویڈیو بھی ٹی وی چینل پر نشر کی گئی ہے جس میں وہ اپنے دفتر میں خاتون سے گلے مل رہے ہیں۔

چینل پر ایک آڈیو کو بھی مبینہ طور پر جاوید اقبال سے منسوب کیا جا رہا ہے جس میں نیب کے چیئرمین خاتون سے بیہودہ گفتگو کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بعض صارفین دعوی کر رہے ہیں کہ چیئرمین نیب سے طاقت ور ادارے کے افسران نے گذشتہ رات استعفا لے لیا ہے۔

ذرائع کا دعوی ہے کہ چیئرمین نیب کا سکیس سکینڈل نشر کرنے والے چینل کی انتظامیہ نے رات دس سے بارہ بجے تک اس موضوع پر خصوصی ٹرانسمشن کی تیاریاں کی تھیں مگر طاقتور حلقوں کی مداخلت کے بعد پہلے سے نشر کی گئی خبر پر بھی معذرت کر لی گئی۔

چینل کے ڈائریکٹر نیوز طارق محمود نے خبر روکے جانے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو خبر کے نشر کرنے کے دوران مختلف حلقوں سے فون کالز آئیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم حقائق کی مزید چھان بین کرنے کے بعد خبر کی مزید تفصیلات سے ناظرین کو آگاہ کریں گے۔

ادھر نیب کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خبر کا مقصد نیب کے چیئرمین کی ساکھ کو مجروح کرنا ہے۔ ’حقائق کے منافی، من گھڑت، بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈہ ہے۔‘

بیان کے مطابق بلیک میلرز کا ایک گروہ ہے اور اس کے دو افراد کو نیب نے گرفتار کر کے ان کے خلاف ریفرنس کی منظوری دی ہے۔

نیب کے بیان میں کہا ہے کہ اس گروپ کے خلاف ملک میں 42 ایف آئی آر درج ہیں۔

خیال رہے کہ جاوید اقبال نے کالم نگار جاوید چودھری کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کو ہٹانے کے لیے طاقت ور لوگ متحرک ہیں تاہم وہ سیاست دانوں کا احتساب جاری رکھیں گے۔

جاوید اقبال نے گذشتہ ہفتے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ کسی سے نہیں ڈرتے اور اپنا کام جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

تبصرہ

  1. ‏‎‎‎‎‎معلوم ہوتا ہے طاقت کے ستون کو ملک چلانے کےلیۓ کچھ با اثر لوگوں کا تعاون مجبوری بنتا جا رہاہے ہے۔
    اور اب انھیں "ہم تو نیوٹرل تھے” کا تاثر دینے کے لیے اس لالچی کتے کو بدنامی کا کچلہ دے کر مار رہے ہیں؟
    کہ یہ بہت بھونکتا اور کاٹتا تھا؟
    عدلیہ کی ڈانٹ ڈپٹ بھی اسی طرف اشارے تھے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے