خدارا ہوش، خدارا رحم

سب سے بڑا خطرہ محسن داوڑ ہیں۔ محسن پڑھا لکھا، معاملات کو سمجھنے والا، تحریک کی قیادت کی اہلیت رکھنے والا، اپنے مطالبات کو آئین اور قانون کے مطابق ڈھال کر پیش کرنے والا اور اپنے کاز سے غیرمتزلزل وابستگی رکھنے والا نوجوان ہے- یوں سمجھیں کہ محسن داوڑ ویسا ہی ہے جیسا قائد اعظم اپنی جوانی میں تھے۔ پارلیمنٹ سے باہر رہتا تو پھر بھی منظور پشتین کی طرح برداشت کیا جا سکتا تھا۔ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر، قانون سازی میں شریک ہو کر وہ ریاست کی فیصلہ سازی میں شرکت کے خواب دیکھنے لگا تھا۔ فیصلہ سازی میں شراکت پنجاب کے نواز شریف، سندھ کے زرداری اور جانے کہاں کے عمران خان کے ساتھ کرنا گوارا نہیں تو یہ کس کھیت کی مولی ہے؟ بلاول نے اپنی مسلسل حمایت سے اور متحدہ اپوزیشن نے افطاری میں ساتھ بٹھا کر محسن اور علی کو جو اہمیت دی، وہ اونٹ کی کمر پہ آخری تنکا ثابت ہوئی۔ آنے والے انتخابات کے نتیجے میں محسن اور علی جیسے دو چار اور اسمبلیوں تک نہ پہنچ پائیں، آج کا سارا کھیل اس منصوبے کی پہلی قسط ہے۔

آثار چند دن سے دکھائی دے رہے تھے، بالآخر پی ٹی ایم پر کریک ڈاؤن کا آج سے باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے- سابقہ فاٹا کے عوام کے مقدر میں اب مزید سختیاں، مزید آزمائشیں لکھ دی گئی ہیں۔ بے چینی اور احتجاج صرف فاٹا تک محدود نہیں رہے گا، بلوچستان کی پشتون بیلٹ بھی اس کی لپیٹ میں آئے گی۔ ایک جانب جیش محمد اور جماعتہ الدعوہ کے حامیوں سے مزاحمت کا ڈر ہے- دوسری جانب زینبیون کی جانب سے شام اور عراق میں لڑنے والے شیعہ فائٹرز کی واپسی اور پکڑ دھکڑ جاری ہے- تیسرے داعش اور ٹی ٹی پی کے دھڑوں کی سرگرمیاں تیز ہوتی جا رہی ہیں، چوتھے بلوچ عسکریت پسند قابو میں نہیں آ رہے۔ ان سب داخلی چیلنجز کے ساتھ خطے کے ہمسایہ ممالک سے خیر کی خبریں آنا بند ہو چکی ہیں۔ معیشت آئی سی یو میں ہے- حکومت معاشی میدان میں بمشکل چند دن سے سکھ کا سانس لینے کے قابل ہوئی تھی۔ ایف اے ٹی ایف سے گلوخلاصی اب تک نہیں ہو پائی۔ عوام بدترین افراط زر کا سامنا کرنے کی فل ڈریس ریہرسل کر رہے ہیں۔ ایسے میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور، ڈی جی آئی ایس آئی سید عاصم منیر شاہ سمیت ان سب فیصلہ سازوں کے تدبر اور معاملہ فہمی کو سات سلام جنہوں نے اب پی ٹی ایم کو کچلنے کا تہیہ کر لیا ہے-

ایسا ہرگز نہیں کہ پی ٹی ایم والے دودھ کے دھلے ہیں۔ نقیب اللہ محسود مرحوم کی خاطر ہونے والے مظاہروں کے وقت میں اس تحریک کا جس قدر حامی تھا اب اس سے نصف رہ گیا ہوں گا۔ مجھ سمیت بہت سے ان کے متعلق تحفظات رکھتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ انہیں افغانستان کی پراکسی ٹیم سمجھتی ہے۔ پی ٹی ایم کے عالمی مظاہروں میں کس ملک میں کس کس ملک کے سفارتی اہلکار اور گاڑیاں استعمال ہوئیں، یہ اگر مجھ جیسے بے خبر جانتے ہیں تو سکیورٹی کے ذمہ دار یقیناً اس سے کافی زیادہ جانتے ہوں گے۔ بہت کچھ ہے جس پر وضاحت درکار ہے، بہت کچھ منظرعام پر آنا ضروری ہوگا مگر ریاستی جبر اور تشدد ہرگز ہرگز اس مسئلے کا حل نہیں ہے- پی ٹی ایم نے آج تک آئین اور قانون سے ماورا ایک قدم نہیں اٹھایا۔ ان پر ہتھیار اٹھانے کا الزام وہ لگا رہے جو ہتھیار اٹھانے والوں میں نقد وظیفہ بانٹتے پھرتے ہیں۔ اگر وہ پراکسی بھی ہیں تو یہ سوچ کر برداشت کر لیں کہ افغانستان چالیس برس سے آپ کے پراکسی برداشت کرتا چلا آ رہا ہے-

ملک کی سیاسی قیادت کو اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لینا پڑے گا- جناب وزیراعظم نے ایک، دو معاملات میں ثابت کیا ہے کہ وہ مکمل کٹھ پتلی نہیں ہیں۔ آنجناب تھوڑی سی ہمت اور دکھائیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی لائن مت لیں، اس مسئلے کو خود ہینڈل کریں۔ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کو پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر بھرپور آواز بلند کرنا ہو گی۔ جو کچھ ہونے جا رہا اسے آج سے تین چار برس بعد انہی دو جماعتوں کو سنبھالنا پڑے گا، بہتر ہے اسے ہونے سے روک دیا جائے۔

سول سوسائٹی اور سوشل میڈیا کا اب تک کردار حوصلہ افزا ہے- بیشتر پاکستانی اب بیوقوف بننے کو تیار نہیں ہیں۔ جو بن چکے اللہ انہیں عقل سلیم عطا فرمائے۔ سوشل میڈیا کی حد تک اینٹی پی ٹی ایم پراپیگنڈا تنخواہ دار ٹیم کے ہاتھ میں ہے اور اسے بھی سخت مزاحمت کا سامنا ہے-

ہم اپنے ملک کے اندر مزید کسی عسکری مہم جوئی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ بھارتی انتخابات کے نتائج، ایران امریکا ممکنہ تصادم، افغانستان سے مجوزہ امریکی انخلا، چین اور امریکا کی معاشی سرد جنگ۔۔۔۔ ان سب کے براہ راست نتائج و اثرات ہم نے بھگتنا ہیں۔ داخلی حالات آپ سرکار ہم سے بہتر جانتے ہیں۔ ہماری معیشت سولہ سترہ سو ارب روپیہ سے زیادہ بوجھ اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتی۔ جو آپ کو سویلین بجٹ میں سے نکال نکال کر فنڈ دیا کرتے تھے، انہیں آپ نکال چکے۔

قرض پہ چلتی معیشت، دعاؤں پہ چلتے عوام، بیساکھیوں پہ چلتی حکومت اور چانس پہ چلتا ملک آپ کے مزید مس ایڈونچرز سہارنے کی تاب نہیں رکھتے۔ خدارا ہوش کیجئے، خدارا رحم کیجئے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے