نیب اور احتساب

سنہ 1999 کی بات ہے کہ جب پرویز مشرف کے دور حکومت میں نیشنل اکاونٹی بلیٹی بیورو معرض وجود میں آیا۔ پاکستانی تاریخ میں نہایت اہمیت کے حامل مسئلے یعنی کرپشن جیسی لعنت کی روک تھام اور اس مقصد کے لیے ایک سرکاری ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا جو نہ صرف کرپٹ لوگوں کا احتساب کر سکے بلکہ پاکستان کو معاشی دہشتگردی سے بھی بچایا جا سکے۔

غور طلب پہلو یہ ہے کے اس ادارے کی تشکیل ایک ایسی حکومت میں ہوئی جو سینٹرلائزیشن آف پاور
(Centralization of Power)
کے تصور پر یقین رکھتی تھی۔ چیف آف آرمی سٹاف یا ملک کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر مشرف کی حکمرانی میں طاقت کا سر چشمہ نہ تو عوام تھے نہ پارلیمنٹ، بلکہ حکمرانی سے لے کر تمام تر اندرونی اور بیرونی فیصلوں کا اختیار ایک ہی شخص کے پاس تھا۔اختیارات کا محور چاہے ایک شخص ہو یا ایک ادارہ ،سینٹرالائزیشن آف پاور کا تصور اسے کہیں نہ کہیں باقی سب بھلا دیتا ہے۔

ایسے ماحول میں جب احتساب کا ایک ادارہ تشکیل دیا گیا تو اختیارات کو بھی سینٹرالائزیشن آف پاور کے رنگ میں رنگ دیا گیا ۔اور تو اور اس قانون شقوں میں کچھ ایسے جزو شامل کیے گئے جس سے اس کے اختیارات میں بے تحاشہ اضافہ کیا گیا تاکہ کوئی بااثرادارہ نہ تو دباؤ ڈال سکے اور نہ پوچھ سکے ایسا کیوں نہ کیا جاتا نیب تو خود انہی با اثراداروں کے لوگوں کی جانب سے چلایا جانا تھا۔ (لا اف پاکستان ویب سائٹ کے مطابق)

نیب چیئرمین کے عہدے پر سابق چیف جسٹس، سابق جج سپریم کورٹ ،یا چیف جسٹس ہائی کورٹ تعینات ہو سکتا ہے۔
نیب کا چیئرمین بائسویں گریڈ کا ریٹائرد وفاقی سرکاری ملازم ہو سکتا ہے۔
نیب کا چیئرمین مسلح افواج کے کسی بھی ادارے کا ریٹائرڈ افسر ہو سکتا ہے جس کا کم از کم عہدہ لیفٹیننٹ جنرل رہا ہو ۔

آئینی طوران تین ادروں کے ریٹائرڈ ملازمین میں سے نیب کا چئیرمین تعینات کیا جا سکتا ہے ۔ اس قانون کے تحت 1999 میں ریٹایئرڈ کموڈور محمد ذکاالللہ کو پہلا چیئرمین نیب مقرر کیا گیا۔

مارشل لا کے ادواراس قوم نے اپنے زہنوں میں نقش کیے ہوئے ہیں جس میں ایک شخص اور اس کے پیچھے ایک ادارے کی بدمعاشی کسی کی بھی عزت اچھالنے کہ لیے کافی تھی۔ اسی طرح جمہوری دور میں بھی نیب کے ادارے کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال کی کہانی سامنے آئی تو معلوم ہوا کہ جاوید اقبال کیا اس ادارے میں موجود ہر شخص کسی کی بھی عزت اچھالنے کو اپنا آئینی فریضہ سمجھتا ہے۔

تازہ اور زندہ مثال الفا براوو چارلی کے عاشرعزیم ہے جن کے ساتھ نیب کئی سالوں تک زیادتی کرتا رہا ۔ عاشرعزیم سے اس کرپشن کے بارے میں کئی سالوں تک پوچھا جاتا رہا جو اس نے کی بھی نہیں اور جس کی مکمل تفصیلات خود نیب کو بھی نہیں تھی۔ اس ادارے اور اس نظام سے تنگ آکر ہمارا قومی اثاثہ اپنا سارا سرمایہ ملک میں چھوڑ کر باہر چلا گیا۔

ایسے بے شمار کالے دھبے ہیں جو امرانہ ،غلیظ جمہوریت اور غیر انسانی طرض پر قائم اس ادارے کے سرسجے ہیں جو اس کی مقبولیت کو ماند نہیں پڑنے دیتے ۔ایک تمغہ نیب نے اس وقت اپنے سینے پر سجایا جب یونیورسٹی آف سرگودھا کے سابق سی ای او پروفیسر میاں جاوید کی موت نیب کی حراست میں ہوئی۔ معزرت کے ساتھ ہوا یہ تھا کہ مبینہ کرپشن ان کی روح نے کی تھی اور سہولت کار ان کا جسم تھا تو جب روح نکل گئی تو ستم ظریفی یہ کہ پھر بھی ان کی میت کو ہتھکڑیاں لگی رہیں ۔ جکڑے ہاتھوں کے ساتھ اس میت کو جب سروسز ہسپتال لاہور کی ایمرجنسی میں لایا گیا تو ڈاکٹروں نے کہا کہ بہت دیر ہوگئی! اگر ان کو پہلے لایا جاتا تو شاید ان کی جان بچ جاتی۔

کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ایٖڈشنل ڈائریکٹر ناصر شیخ اور ان کے ایک ساتھی صحت کی خرابی کے باعث ہسپتال میں نیب کی نگرانی میں سہولتوں کی عدم دستیابی کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اب نظر ڈالتے ہیں ان لوگوں پر جو ظاہری طور پر تو شاید زندہ ہیں پر اندر سے وہ مر چکے ہیں ہوں گے۔
جی ہاں ! یہ سب وہ استاد ہیں جو قوم کے معمار ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر پروفیسر کامران مجاہد ،پروفیسرراس مسود، پروفیسر ڈاکٹر لیاقت علی، ڈاکٹر اورنگزیب عالمگیر اور پروفیسر کامران عابد ان کا قصورجو بھی ہو،لیکن ایک سب سے بڑا قصور یہ تھا کے وہ اس معاشرے میں ایک استاد کی حیثیت رکھتے ہیں اور علم ان کی میراث ہے ۔ لیکن ہم کیا کریں، ہم تو ایک عسکری دور کی پیداوار ہیں ، ہمارا نام نیب ہے، ہم تو ان کو چور ڈاکو کی طرح ہتھکڑیوں میں ہی عدالت میں پیش کریں گے تا کہ آنے والی نسلوں کی یہ تربیت ضرور کرسکیں کے ،عالم ہو استاد ہو ، ڈاکٹر ہو یا پروفیسر ، اس معاشرے میں ان کی اوقات اس ہیرویئنچی کے ٹولے کی سی ہے جو نشے میں دھت ہو کر چوری کرتا ہے اور گرفتار ہونے پر زنجیروں میں باندھ کر ان کو گھسیٹتے ہوئے عدالت سے سزا دلوانے لے جایا جا تا ہے۔ قوم نے یہ تماشہ بھی دیکھا۔

ان اساتذہ کا موازنہ زرداری نواز جیسوں سے جو بلا خوف و خطر عدالتوں میں شیروں کی مانند آنے جانے ،اشعاروطنز کے ارشاد ،نیب ہی کی عدالتوں کے باہر قوم سے خطاب اور ان خطابات میں لعن طعن سے نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔

جسٹس جاوید اقبال ویڈیو سکینڈل سچ ہے یا جھوٹ۔ اب چاہے نیب کے اپنے ماتحت نہ ہونے اور اس کی شفافیت کا دعوی کرنے والے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے طاہر اے خان کو بر طرف کیا جاتا ہے یا کسی اور کو، یہ تو اوپر سے اجازت آنے کے بعد ہی پتہ چلے گا۔ عین ممکن ہے کہ اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہو اور خان صاحب کو پیغام سنا دیا جائے جو اقبال پہلے ہی بیان کر گئے

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے