’جعلی بینک اکاؤنٹس میں رقم کا اصل ذریعہ معلوم ہو گیا‘

اسلام آباد ہائی کورٹ سے 
اویس یوسف زئی 

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کراچی کی بینکنگ کورٹ سے اسلام آباد کی احتساب عدالت منتقل ہونے والے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی عبوری ضمانت میں ایک روز کی توسیع کرتے ہوئے تفتیشی افسر سے مقدمے کا مکمل ریکارڈ کل طلب کیا ہے۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل بنچ نے ضمانت کی درخواست پر سماعت شروع کی تو تفتیشی افسر نے عدالت کے پوچھنے پر بتایا اس کیس میں ابھی تک آصف علی زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں ہوئے تاہم وارنٹ گرفتاری کے اجراء کے لیے کارروائی کا آغاز کر رکھا ہے  اور وارنٹ گرفتاری جاری کرانا چاہتے ہیں۔ 

آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے نے جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق ایف آئی آر 26 جولائی 2018 کو درج کی۔ ایف آئی آر کے بعد چالان کراچی کی بنکنگ کورٹ میں داخل ہوا۔ ’اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعات کے تحت درج کیس کو اسلام آباد منتقل کیا گیا جو احتساب عدالت میں زیر سماعت ہے مگر ابھی تک ریفرنس کی نقول فراہم نہیں کی گئیں۔‘

وکیل کا کہنا تھا کہ آصف زرداری پر منی لانڈرنگ کا الزام لگایا گیا جس میں کوئی حقیقت نہیں۔ ’کہا گیا کہ جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی۔‘

فاروق نائیک نے کہا کہ آصف زرداری پر نہیں بلکہ زرداری گروپ نامی کمپنی پر بنیفشری  ہونے کا الزام ہے۔ ’آصف زرداری اس کمپنی کے ڈائریکٹر نہیں، صرف شیئر ہولڈر ہیں البتہ  فریال تالپور اس کمپنی کی ڈائریکٹر ہیں۔‘ 

نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانہ نے سپریم کورٹ کا آرڈر پڑھ کر دلائل کا آغاز کیا اور کہا کہ سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات کا حکم دیا اور تحقیقات مکمل کر کے ریفرنسز احتساب عدالت میں داخل کرنے کا کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ جعلی بنک اکاؤنٹس کے جائزہ پر ہزاروں مشکوک ٹرانزیکشنز کا پتہ چلا۔

نیب پراسیکیوٹر کے دلائل جاری تھے کہ آصف زرداری اچانک روسٹرم پر آ گئے اور اپنے وکیل فاروق ایچ نائیک سے کچھ مشورہ کیا، پھر کان میں سرگوشی کے بعد واپس اپنی کرسی پر آ کر بیٹھ گئے۔

جہانزیب بھروانہ نے عدالت کو مزید بتایا کہ زرداری گروپ کے بینک اکاؤنٹ میں ڈیڑھ کروڑ روپے آئے جبکہ متعلقہ شخص کو اس ٹرانزیکشن اور بینک اکاؤنٹ کا ہی علم نہیں۔ ’یہ صرف ایک ٹرانزیکشن کی بات ہے ورنہ اربوں روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں۔‘

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ ڈیڑھ کروڑ کی رقم آئی تو وہ بینک اکاؤنٹ کس نے آپریٹ کیا؟ عدالت کو بتایا گیا کہ زرداری گروپ کے اکاونٹ کو مسز تالپور آپریٹ کرتی تھیں۔

عدالت نے اکاؤنٹ اور ٹرانزیکشن کی دستاویز طلب کی تو تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ وہ ریکارڈ اس وقت ان کے پاس موجود نہیں مگر فراہم کر دیا جائے گا جس پر ججز نے برہمی کا اظہار کیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ’آپ ریکارڈ کے بغیر یہاں کیا کرنے آئے ہیں؟ کیا ہم انہیں ضمانت دے دیں؟۔‘ 

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے ’ہم ڈیڑھ گھنٹے سے ضمانت کی درخواست پر دلائل سن رہے ہیں اور آپ ریکارڈ ہی ساتھ نہیں لائے، کیا اس کو فریم کرا کے اپنے پاس رکھیں گے؟ کیا آپ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں؟۔‘

ان کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کی بات درست ہے کہ آپ انہیں ہراساں کررہے ہیں۔ یہ چیزیں بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہیں، ہم اسے سمیٹنا چاہتے ہیں۔

نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ جعلی اکاونٹس ٹرانزیکشنز میں زرداری گروپ کا اہم کردار ہے جس کے شیئر ہولڈر آصف زرداری اور فریال تالپور ہیں۔ ’جعلی اکاونٹس کے ذریعے ٹرانزیکشنز میں آصف زرداری اور فریال تالپور نے معاونت کی ۔دونوں نے اعانت جرم کا ارتکاب کیا ہے۔‘

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ فریال تالپور جو بینک اکاؤنٹ آپریٹ کرتی ہیں اس میں ڈیڑھ کروڑ روپے کیوں آئے؟ جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ فریال تالپور وغیرہ کاشتکار اور لینڈ لارڈ ہیں جبکہ اومنی گروپ کی چار سے چھ شوگر ملز ہیں۔ ’ہم اومنی گروپ کو گنا سپلائی کرتے ہیں جس کا پیسہ آتا ہے۔‘

کیس کی مزید سماعت 30 مئی کو ہو گی ۔

متعلقہ مضامین