ادریس بختیارسے آخری ملاقات!

عبدالجبارناصر
کراچی یونین آف جرنلسٹس (کے یوجے دستور) کی 25 مئی 2019ء کو افطار پارٹی کے بعد شیلڈ تقسیم کا مرحلہ تھا کہ نماز عشاء کے لئے نکلنے کا ارادہ کیا اور کلب کے گیٹ کے پاس آئے تو سامنے استاد محترم اور شفیق رہبر و رہنماء سینئرصحافی ادریس بختیاربھائی کھڑے تھے۔
سلام کے لئے چند قدم ہی آگے بڑھائے تھے کہ ادریس بھائی کی نظر پڑی اور وہ بھی آگے بڑھے اور سلام دعا ہوئی۔
فرمایا!
علامہ!(یہ ان کی محبت تھی کہ اکثر اسی نام سے پکارتے تھے، شاید دیگر دوستوں کو بھی) کیا ہورہا ہے؟
ہم نے کہا سرجی کس حوالے سے ؟
اور ہاتھ پکڑا راستے سے ایک طرف کونے کی جانب لے گئے اور کہنے لگے آپ سے کچھ بات کرنی تھی۔
ہم کہا سرجی!
حکم کریں ؟
پھر فرمایا کیا ہورہا ہے ؟
ہم نے کہا سر کس حوالے سے ؟
فرمایا ابھی ایک دو دن قبل نیب چئیرمین کے حوالے سے آپ کی پوسٹ دیکھی تھی۔ (ہم نے اپنی وال پر جاوید چودھری کے کالم نما انٹرویو پر تنقیدی جائزہ پیش کیاتھا)
ہم نے کہا سرجی !
خیر تو ہے نا! (مطلب یہ کہ خلاف حقیقت تو نہیں)
فرمایا نہیں اسی بات نہیں۔
اسی پر کچھ بات کرنی تھی۔
ابھی جملہ مکمل نہ ہوا تھاکہ محترم حنیف اکبر صاحب اور غالبا اے کے محسن بھائی نے مرحوم استاد ادریس بھائی کو اسٹیج پر بلایا تاکہ کچھ لوگوں کو شیلڈ ادریس بھائی کے دست مبارک سے عطا کی جائیں۔
ادریس بھائی اسٹیج پر گئے اور ہمیں کہا رکو۔۔۔
تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر خان کو شیلڈ دی اور اتنے میں کچھ اور احباب بھی آگئے۔
ہم نے چند منٹ انتظار کیا مگر نماز عشاء کے لئے13 سے 15 منٹ باقی تھے اور ہم نے جماعت میں شرکت کے لئے پنجاب کالونی اقصی مسجد پہنچنا تھا۔
مزید 3سے 4 منٹ انتظار کیا اور پھر اس گمان سے کہ مزید تاخیر سے جماعت نماز نکل جائے گی۔ بعد میں ملاقات کریں گے۔
استاد محترم کو اشارے سے عرض کیا اور انہوں نے بھی اشارے سے اجازت دی، مسجد پہنچے تو پہلی رکعت ہوچکی تھی۔
اگلے دن خبر ملی کہ ادریس بھائی علیل ہوگئے ہیں اور پھر اطلاع ملی کہ تشیوشناک ہے۔
بدھ کو افطاری کے بعد اطلاع ملی کہ وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔
اللہ تعالی انہیں کروٹ کروٹ جنت، اپنا دیدار اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے۔
اس بات کا دکھ ہے کہ معلوم نے وہ کونسی نصیحت یا رہنمائی کرنا چاہتے تھے، جس سے ہم محروم رہے۔
ادریس بختیار بھائی سے یہ آخری ملاقات تھی۔
ادریس بھائی کا ہمارے ساتھ ہمشیہ رویہ ایک شفیق بڑے بھائی ، استاد ، رہنماء اور رہبر کا رہا۔
یہ ادریس بھائی کا بڑا پن اور ہم پر شفقت تھی کہ ”ہم ٹی وی“ کے ان کے پروگرام ” کہی ان کہی ” میں کئی بار بطور مہمان بلایا۔
ایک بار جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما محترم پروفیسر غفور احمد رحمہ اللہ کے ساتھ بٹھایا اور عنوان سانحہ 18 اکتوبر 2007 تھا۔ دوسری بار 2008 کے الیکشن سے چند روز قبل ہی بلایا اور الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کنور دلشاد صاحب شریک تھے۔
پروگرام میں ہم مکمل تیاری اور دستویزات کے ساتھ شریک تھے۔ کنور دلشاد صاحب نے قبل از انتخابات، دوران انتخابات اور بعد از انتخابات الیکشن کی خامیوں سے نہ صرف انکار کیا بلکہ میڈیا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
ہم ابتدا میں نرم رہے تھے اس کی وجہ یہ کہ صوبائی الیکشن کمشنر قمرزمان مرحوم ہمارے دوست تھے اور ان کو ہماری تیاری کا علم تھا، سامنے موجود بھی تھے اور ابتدا میں ہی کہاکہ "مولانا!” میرے بوس پر ہاتھ ہلکا رکھنا مگر کنور دلشاد صاحب نے جب سارا الزام میڈیا کو دیا تو ہم نے پھر اپنی فائل کھولی اور پھر سب بتادیا۔ اختتام پر اگرچہ کنور دلشاد صاحب وقتی طور پر ناراض ہویے مگر نکلتے وقت کہاکہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس طرح تیاری کے ساتھ آئے ہو(اس دن سے ہماری اور کنور دلشاد صاحب کی دوستی ہوئی) ۔
ادریس بھائی نے ہمیں گلے لگایا اور شاباش دی کہ موضوع پر اچھی گرفت ہے اور محنت جاری رکھو۔
دوسرے سیاسی ایشوز پر بھی بلاتے تھے۔
مجھے یہ سعادت بھی حاصل تھی کہ جب بھی ملاقات ہوتی وقت کے حالات کے حوالے سے رہنمائی بھی کرتے اور پوچھتے تھے بھی۔ بعض اوقات فون پر بھی۔
ایک بار فرمانے لگے آپ کے فیس بک کو مسلسل دیکھتا ہوں۔ بس تحریر میں جذباتیت کو حاوی نہ کرو تاہم اعداوشمار میں بہت اچھے جارہے ہو۔
بعض اوقات بالخصوص مذہبی اور الیکشن کی خبروں کے بارے میں پوچھتے۔
چند سینئرز نے میری بہت رہنمائی کی ان میں مرحوم ادریس بختیار بھائی ، ضرار خان بھائی ، مرحوم یوسف خان، مظہر عباس بھائی اور دیگر شامل ہیں۔
میں انکا احسان مند ہوں اور دعا ہے کہ اللہ تعالی جزائے خیر دے۔
اللہ تعالی ادریس بھائی کو کروٹ کروٹ جنت میں جگہ عطاء فرمائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے