مزید محاذ نہ کھولے جائیں

۹ ستمبر 2001 کو افغانستان میں  القاعدہ نے جنگجو کمانڈر احمد شاہ مسعود کو قتل کر دیا۔ مسعود افغانستان کے مشہور شمالی اتحاد کے سربراہ تھے۔ احمد شاہ مسعود بھی روس کے خلاف قومی جنگ کا حصہ تھے۔ اس دوران معروف امریکی مصنف پیٹر برگن نے پیشن گوئی کی کہ احمد شاہ مسعود کا قتل القاعدہ کی جانب سے ایک بڑے خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے ۔

بلاخر ایسا ہی ہوا، اس قتل کے ٹھیک تین دن کہ بعد القاعدہ کی جانب سے امریکی شہر نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر حملہ ہوا جس کو اب دنیا نائن الیون کے نام سے جانتی ہے۔
جارج ڈبلیو بش جو اس وقت امریکی صدر تھے، نے امریکی انتظامیہ اور نیٹو افواج کی باہمی مشاورت سے دنیا بھر کو فیصلہ سنایا گیا کہ امریکہ نائن الیون پر القاعدہ اور طالبان کے خلاف محاذ کھولنے جا رہا ہے۔

اس اعلان کے بعد امریکا کی جانب سے ایشیائی خطے کے لیے ایک واضح اور جارحانہ پالیسی مرتب کی گئی جس میں افغانستان، ایران، پاکستان اورعراق شامل ہیں۔


اس پالیسی کے تحت امریکا کی جانب سے وار آن ٹیرر War On Terror کے نام سے ایک جنگ شروع کی گئی جس کا پہلا مرحلہ افغانستان پر حملہ کرنا تھا ۔ اس جنگ میں پاکستان نے ہر لحاظ سے امریکا کی مدد کی ۔ وہ چاہے خفیہ معلومات کی فراہمی ہو، امریکی اسلحے کی ترسیل ہو یا ساز و سامان پہنچانا ہو۔ یعنی ہر لحاظ سے پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے امریکی جنگ کو اپنی جنگ سمجھ کر نہ صرف اپنایا بلکہ اس میں اپنا کردار بھی ادا کیا۔

افغانستان میں جاری امریکی جنگ کو پاکستان کی جانب سے بھرپور معاونت، مبینہ دہشت گردوں کی پاکستان میں پناہ گاہوں کو تباہ کرنے کے لیے اب تک پاکستان نے کئی چھوٹے بڑے اپریشن کیے ہیں۔ ان میں سے مشرف کے دور میں صرف امریکی خوشنودی اور اس کی ایما پر انجام دیئے گئے۔

اسی طرح پاکستان کی فوج نے سوات اپریشن، شمالی و جنوبی وزیرستان میں ردالفساد اور آپریشن ضرب عضب پورے ملک میں کیا۔

امریکی پالیسی ساز پاکستان کی فوج کے ان آپریشنز کو سراہتے رہے اور کبھی ڈو مور کے لیے دباؤ ڈالتے رہے۔
پاکستان اپنے اندرونی و بیرونی معاملات میں امریکی پالیسی کو اہم جزو کے طور پر لیتا ہے۔

اس صورت حال میں جب امریکا ایک دہائی سے زائد عرصہ افغانستان میں اپنی ناکامی کہ بعد طالبان سے مذاکرات کر رہا ہے اور پاکستان اس کا بھرپور ساتھ بھی دے رہا ہے تو یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے ایسے موقع پر پاکستان کی افواج اور سول قیادت پی ٹی ایم کے خلاف ایک نیا محاذ کیوں کھولنے جا رہی ہے؟

کیا یہ بھی کسی امریکی پالیسی کا حصہ تو نہیں؟

پاکستان اس وقت سیاسی اور معاشی دونوں لحاظ سے زوال کا شکار ہے، اور بیرونی خطرات میں امریکا سرفہرست ہے تو دوسری جانب بھارت کی جانب سے بھی ائے دن کوئی نہ کوئی دھمکی ملنے کا سلسلہ جاری ہے ۔
ایسے حالات میں تو اپ کو اپنے گھر میں ہر شخص کو گلے سے لگا کر رکھنا چاہیے، چاہے وہ کسی بھی قوم سے ہو ، کسی بھی صوبے سے ہو ۔
پی ٹی ایم اور دیگر پشتون جماعتوں میں موجود  لوگ وہ قوم ہے جنہوں نے ماضی کی کئی جنگوں میں اس خطے سے قابضوں کو مار بھگایا تھا۔
ذرا نظر دوڑایئے ماضی پر کہ اس خطے میں روس کے خلاف جنگ میں انہی قبائل نے بڑی تعداد میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ۔

برطانیہ سے ازادی میں ان کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ یہ ہی وہ قبائل ہیں جنہوں نے اپ کے ساتھ مل کر اس ملک میں نام نہاد دہشت گردوں کے خلاف اپ کی معاونت کی ۔
ہاں ! ہم مانتے ہیں کہ مطالبات منوانے کا ان کا طریقہ شاید درست نہ ہو، ان کی زبان شاید غلط ہوگی ، ان کی اواز شاید کرخت ہو گی مگر ان سے بات کرنا ہوگی۔

الللہ تعالیٰ کہ نزدیک خون چاہے کسی بھی مسلمان کا ہو،اس کہ بہنے پر تکلیف پو رے جسم کو ہوتی ہے ۔
افواج پاکستان میں موجود ہر ایک سپاہی اس قوم کا حصہ ہے ،اس کہ شہید ہونے پر اس قوم کو تکلیف ہوتی ہے ۔ یہ قوم خون کہ انسو روتی ہے ۔
لیکن حضور پشتونوں کہ قتل عام پر یہ قوم خوش بھی نہیں ہو گی ۔
طاقت ور کہ پاس زمہ داری بھی اپنے سے کم تر سے زیا دہ ہوتی ہے ۔

برائے مہربانی بڑے پن کا مظاہرہ یہ ہی ہو گا کہ اپ ان کی سنیں اور ان کو اپنی سمجھایئں ۔بیشک یہ کام اپ ہی کر سکتے ہیں۔اپ ہی اس قوم کی مخلص قیا دت ہیں۔

یاد رہے ماضی کہ تمام اپریشن دہشتگردی اور بیرونی دہشتگردوں کہ خلاف کیے گئے۔ان کو مار کر علاقوں کو پاک کر دیا گیا ۔ لیکن جان لیجیئے اس اپریشن کہ دیرینہ اثرات میں اپ پورے ملک میں بسنے والے پشتون بھائیوں کودشمن بنا دیں گے ۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی انے والی نسلیں اپنے اپ کو اس قوم سے الگ کر کہ اسی قوم کو اپنا دشمن سمجھیں۔اج جو پشتون بچے سکول میں پنجابی ،سندھی یا پٹھان بچوں کہ ساتھ بیٹھے تعلیم حاصل کرتے ہیں،ایسا نا ہو کہ کل کو وہ اسی کو دشمن سمجھے۔

خدارا پی ٹی ایم والوں اور دیگر پشتون تحفظ جماعتوں کو اعتماد میں لیں ،ان کو یقین دلایئے کہ تم الگ نہیں ہو! حصہ ہو اس قوم کا ،اس کی عزت کا ،اس کے تحفظ کا اور اس ملک کی سالمیت کا ۔

اور اگر ان قبائلیوں سے جنگ کا اور کوئی مقصد ہے تو برائے مہربانی اس قوم کو کھلے عام بتایئے، اس کو دھوکے میں مت رکھیئے !
ایسا نہ ہو کہ یہ قوم ڈری سہمی رہے اور اخر کار اُمید چھوڑ بیٹھے۔
اس ملک کی تاریخ کے تو بس دو ہی رُخ ہیں :

آزاد منش انسانوں کہ دنیا میں ٹھکانے دو ہی تو ہیں
یا تختہ سولی پھانسی کا یا تخت مقام آزادی کا ۔

متعلقہ مضامین