اسے کہنا دسمبر آ رہا ہے

لاکھوں میل کے فاصلے سے ایک سیارچہ تیزی سے زمین کے مدار کی جانب بڑھ رہا ہے- ناسا کے تخمینوں کے مطابق زیادہ سے زیادہ چھ ماہ میں یہ زمین سے ٹکرا جائے گا۔ ٹریجیکٹری بتا رہی ہے کہ اس کا نشانہ اسلام آباد ہو گا۔ ممکنہ تصادم کی صورت میں جو ہولناک تباہی ہو گی اس کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں۔ باقی دنیا نے ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیا ہے- اب اس تباہی سے ہمیں بچانے کی ذمہ داری تحریک انصاف کی حکومت، فواد چوہدری کی وزارت سائنس اور سپارکو کے محکمے پر ہے- انجام کا اندازہ آپ خود لگا لیجئے۔

یہ فرضی صورتحال ہماری حقیقی معاشی صورتحال کا استعارہ ہے- "سپیڈ کی لائٹ” سے ہماری جانب بڑھتے خوفناک ترین معاشی بحران اور ہمارے درمیان صرف چھ ماہ کا وقت باقی ہے- حکومت تحریک انصاف کی ہے اور اس معاشی تباہی سے ہمیں بچانے کی ذمہ داری فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے نازک شانوں پر آن پڑی ہے- اگر جناب شبر زیدی کے وزیراعظم کو لکھے خط کو پڑھا جائے تو حضرت صاف صاف فرما رہے ہیں کہ بات اگر میرے محکمے پر ہی آ گئی ہے تو بہتر ہے ہار مان لی جائے۔

جناب حفیظ شیخ، جناب رضا باقر اور جناب شبرزیدی کی تگڈم سے کم از کم مجھے بھلے کی کوئی امید نہیں۔ پہلے دونوں حضرات خدانخواستہ ہماری ناکامی کی صورت میں پہلی دستیاب فلائٹ سے واشنگٹن پہنچ جائیں گے اور جناب شبر زیدی نے احتیاطاً کمرہ امتحان میں داخل ہونے سے پہلے ہی پرچہ آؤٹ آف سلیبس ہونے کی دہائی مچا دی ہے۔ لیکن کیوں؟

آئی ایم ایف سے ہمارا معاہدہ اس بات سے مشروط ہے کہ چین، سعودیہ اور امارات نے ہمیں فارن ریزرو بڑھانے کیلئے جو قرض دے رکھا اسے وہ تین سال تک رول اوور کرتے رہیں گے۔ جبکہ اس دوران ہمیں ورلڈ بنک اور ایشین ڈویلپمنٹ بنک سے تین سے چار ارب ڈالرز کے پراجیکٹ بیسڈ قرضے بھی لینے پڑیں گے۔ کرنسی کو مارکیٹ کے حوالے کرنے کی شرط پر عملدرامد شروع ہو چکا۔ آیا تینوں دوست ممالک نے تحریری یقین دہانی کرا دی ہے؟ ورلڈ بنک اور ایشین بنک سے مذاکرات کب شروع ہوں گے؟ آئی ایم ایف کا بورڈ معاہدے کی منظوری کب دے گا؟ ان سب سوالات کے جوابات حفیظ شیخ کو معلوم ہوں تو ہوں، کابینہ، پارلیمنٹ اور عوام تاحال لاعلم ہیں۔ جبکہ بجٹ پیش ہونے میں دو ہفتوں سے بھی کم کا وقت باقی ہے- یقیناً شیخ صاحب کوئی زبانی یا تحریری یقین دہانی لے چکے ہوں گے اور اس کے بدلے کچھ زبانی یا تحریری یقین دہانیاں کرا بھی چکے ہوں گے مگر ہم ان سے بھی بے خبر ہیں۔

آئی ایم ایف سے معاہدہ اس سال ہمیں دو ارب ڈالر دلوا دے گا۔ ڈبلیو بی اور اے ڈی بی سے ہمیں اس سال دو سے تین ارب ڈالر مل سکتے ہیں۔ تین ارب ڈالر کا تیل ہم ادائیگی کئے بغیر حاصل کر پائیں گے۔ یوں آٹھ سے نو ارب ڈالرز کے اضافی وسائل کا بندوبست ہم کر چکے جبکہ بیرونی قرضوں کی مد میں اس سال ہمیں تیرہ سے چودہ ارب ڈالر کی ادائیگی کرنا ہے۔

مالی سال 2012-13 میں ہمارا دفاعی بجٹ 545 ارب روپے تھا جسے مسلم لیگ نون 2018-19 میں 1100 ارب پر لے آئی۔ گزشتہ نو دس ماہ میں ہونے والی روپے کی بے قدری سے اس بجٹ کی حقیقی مالیت اسحاق ڈار کے 2014-15 والے بجٹ جتنی رہ گئی ہے- باجوہ صاحب سے عرض کرنا تھی کہ "ہور گھن مزے تبدیلیاں دے” اس بجٹ کے علاوہ سویلین بجٹ میں دو سے تین سو ارب روپیہ فوجی پنشنز اور دیگر اخراجات کیلئے مختص تھا۔ بھارت کے ساتھ کشیدگی کی وجہ سے اضافی اخراجات بھی ہوئے اور ہمارے اس جاتے ہوئے مالی سال کے دفاعی اخراجات سولہ سے سترہ سو ارب تک پہنچ گئے۔ آنے والے بجٹ میں ہمیں کم از کم پندرہ سو ارب دفاع کیلئے مختص کرنا ہوں گے، گوکہ یہ بھی بظاہر ناکافی لگ رہے۔ یعنی بارہ تیرہ ارب ڈالر فوج کو بھی درکار ہیں۔

ترقیاتی اخراجات اس سال بھی کٹوتیوں کی زد میں رہیں گے، مگر غیر ترقیاتی اخراجات سے مفر کسی حال میں ممکن نہیں۔ رواں برس تحریک انصاف نے بھینسیں بیچ کر کتنے پیسے بچائے اور اگلے سال کفایت شعاری کی کیا ترکیبیں لڑائی جاتی ہیں۔ یہ ہمیں سٹیٹ بنک کی رپورٹ اور بجٹ سے پتہ چلے گا۔ مگر سولہ سے سترہ ارب ڈالر ہمیں صرف گلشن کا کاروبار چلانے کیلئے ہر صورت درکار ہوں گے۔ ترقیاتی بجٹ شاید چار سے پانچ ارب ڈالر کے درمیان رہے گا۔

گویا آٹھ سے نو ارب ڈالر قرض لینے کے باوجود ہمیں ڈالر ٹرم میں کم سے کم 35 سے 36 ارب ڈالرز مزید درکار ہوں گے۔ یہ وہ ریوینیو ٹارگٹ ہے جو ایف بی آر کو اگلے مالی سال میں حاصل کرنا ہوگا۔ اس ٹارگٹ کے حصول کیلئے حکومت کو سات سے آٹھ سو ارب کے اضافی ٹیکس لگانا ہوں گے۔ معیشت اور عوام پر ان کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اسے قطع نظر سوال یہ ہے کہ جو ادارہ اس سال گیارہ ماہ میں اپنے ٹارگٹ سے 447 ارب روپیہ پیچھے ہے- وہ اگلے مالی سال میں کیا اس سے 40٪ زائد ہدف حاصل کر پائے گا؟ شبرزیدی ڈھکے چھپے لفظوں میں بتا چکے کہ ساڈے ولوں ناں ای سمجھو۔

دسمبر تک پتہ چل جائے گا کہ ایف بی آر اپنے ہدف سے کتنا قریب یا کتنا دور جا رہا ہے- دسمبر تک ہی ہم نے کچھ بڑی ادائیگیاں کرنی ہیں، دسمبر تک ہی ہمارا جیو پولیٹیکل ماحول کچھ بڑی تبدیلیوں کی زد میں آ سکتا ہے- یہ سب ذہن میں رکھیں اور حکومت کا اپوزیشن، پی ٹی ایم، نیب اور عدلیہ کو اچھل اچھل کر ٹکریں مارنا دیکھیں تو اپنے مستقبل قریب کی پیشنگوئی کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے-

مجھ سے پوچھیں تو میں سال پہلے لکھے اپنے الفاظ دہرا دیتا ہوں ” اگر عمران خان کی حکومت آ گئی تو میں اپنے کل اثاثوں یعنی دو موبائل، دو گھڑیوں (اب ایک رہ گئی) چھ کپڑوں کے اور چار جوتوں کے جوڑوں سمیت ملک سے زندہ بھاگ جاؤں گا کیونکہ جو یہاں رہے گا اس کے تن پر یہ بھی باقی نہیں رہے گا”

مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم ایسے بھاگنے کی سکت بھی نہیں رکھتے۔

متعلقہ مضامین