’تیاننمن سکوائر میں ہزاروں کا قتل عام درست تھا‘

چین نے 30 برس قبل بیجنگ کے تیاننمن سکوائر میں جمہوریت کے لیے جمع ہونے والے سینکڑوں افراد کو فوجی طاقت کے زور پر ہلاک کرنے کی کارروائی کا دفاع کیا ہے۔

سنہ 1989 میں چینی طلبا اور مزدوروں نے بیجنگ کے معروف تیاننمن سکوائر میں جمہوری حقوق کے حصول کے لیے ایک بہت بڑا اجتماع منعقد کیا تھا۔ کمیونسٹ حکام نے اس اجتماع کو ظالمانہ انداز سے کچل دیا تھا اور اس میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

اس خبر کے ساتھ منسلک تصویر بھی 30 برس پرانی ہوگئی ہے۔

’ٹینک مین‘ کے نام سے گذشتہ صدی میں بنائی گئی چند مشہور ترین تصاویر میں چین کے ’تیاننمن سکوائر‘ میں فوٹو گرافر جیف وائڈنر کی یہ شاہکار شامل ہے ۔

30 برس گزرنے کے بعد بھی ٹینکوں کے سامنے کھڑے اس شخص کی شناخت نہیں ہوسکی کہ یہ کون تھا۔

فوٹوگرافر جیف وائڈنر کے مطابق وہ چینی فوج اور مظاہرین کے درمیان تیاننمن چوک میں پھنس کر رہ گیا تھا ۔ اس دوران وہاں سے ٹینک گزرنے لگے تو سودا سلف اٹھائے یہ شخص سڑک پار کر رہا تھا ۔

جیف کے مطابق یہ شخص ٹینکوں کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا تو سڑک پر ٹینکوں کی لائن لگ گئی اور فضا میں ان کی آوازوں کی ارتعاش کی جگہ بریکوں کی چیخوں نے لے لی ۔

فوٹو گرافر جیف نے یہ تصویر پانچ جون 1989 میں لی تھی ۔ اس بارے میں اپنی یادیں ٹٹولتے ہوئے انہوں نے اخبار آبزرور کو بتایا کہ ’یہ سب بس اتفاقی اور قسمت سے تھا‘ ۔

تیانممن سکوائر میں جمع ہونے والے شہریوں کے خلاف 3 اور 4 جون سنہ 1989 کو کی گئی تھی۔

چین کے وزیرِ دفاع ویئی فینگل نے سنگاپور میں ایک کانفرنس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے تیاننمن سکوائر میں سخت کارروائی کی تھی جو کہ ’درست‘ تھی۔

اس واقعے کی خبریں دینے پر سختی سے پابندی رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے