فلموں سے تزکیہ نفس کرنے والے

اکثر احباب ان ایمان افروز قصوں کے بارے میں پوچھتے ہیں تو ان میں سے کچھ آج گوش گزار کیے دیتے ہیں جو کہ سچے واقعات ہیں۔

ہمارے ایک دوست ہیں، صوم صلاۃ کے پابند، گفتگو کے دوران ماشااللّہ، سبحان اللّہ، الحمدللّہ، لاحول ولا قوۃ الّا باللّہ جیسے الفاظ اس قدر تواتر سے زبان مبارک سے نکلتے تھے کہ شمار کرنا مشکل ہوجاتا تھا- لیکن کچھ تو ایسا ہے ان میں جس کی بنا پر میرے دوست ہیں۔ وہ یہ کہ موصوف فلموں کو انشراحِ قلب اور ذہنی کشود ایک ذریعہ بھی سمجھتے ہیں۔ عموماً تو نمازیں اہلحدیث مسجد میں پڑھتے تھے لیکن جس دن آخری شو کا پلان ہوتا ہے۔ اس دن جناب کی عشاء کی سعادت حنفی مسجد کو حاصل ہوتی تھی۔ کیونکہ اہلِ حدیث مساجد میں عشاء قدرے لیٹ ہوتی ہے،،،، ان کے امام طویل سجدہ ہوتے ہیں،،، جس میں شو کا ٹائم نکل جاتا ہے۔سنیما ہال میں انٹرول کے دوران آنے والی فلموں کا ٹریلر دکھایا جاتا ہے۔ کچھ ٹریلرس کے بارے میں دوست کی رائے جاننا چاہتے تو انتہائی سنجیدگی سے جواب ملتا تھا-
"انشاءاللّہ ضرور دیکھیں گے-"

پریس سے تعلق ہونے کی بناء پر مجھے فلموں کے فری پریس شو کے ٹکٹ ملتے ہیں،، عموماً فلموں کا پریس شو ریلیز سے ایک دن قبل شام کے وقت یا ریلیز والے دن پہلے شو کا رکھا جاتا ہے،،، اکثر مصروفیات کی وجہ سے پریس شو میں جا نہیں پاتا تو ٹکٹ ایک دوست کو دے دیتا ہوں جو ٹھاٹھ سے جاکر فلم دیکھ کر اور انٹرول میں مفت کی ہڈحرامی بھی کر آتا ہے،،،، رمضان میں دو فلمیں ریلیز ہوئیں ان کا پریس شو بھی شام کے وقت تھا روٹین میں ٹکٹ پارسل کردیا اور اگلے دن وہ بندہ فلم بھی دیکھ آیا۔ حیرت سے پوچھا کہ افطار کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا کہ اندر ہی کھجور لے کر گھڑی دیکھتے بیٹھا تھا اور وقت پر افطار کرلیا،،، یقیناً انٹرول میں مغرب بھی کھڑکا دی ہوگی۔ سبحان اللہ
در کفے جام شریعت در کفے سندان عشق
ہر کس و ناکس نہ داند جام و سندان باختن

آبائی گاؤں میں فلمیں سنگل اسکرین پر بہت دھوم دھام کے ساتھ ریلیز ہوتی ہیں،، اور فلمیں خان صاحبان کی ہوں دھوم دھام کے ساتھ دھڑاکے کا بھی اضافہ ہوجاتا ہے کہ سنیما ہال میں پٹاخے چلائے جاتے ہیں، پھلجڑیاں جلائی جاتی ہیں۔ سلمان خان کی کبھی ایک فلم آئی تھی ‘تیرے نام’ جو کہ بہت بڑی ہٹ ہوئی تھی اور ہر نکڑ اور گلی میں ایک رادھے موہن پیدا ہوگیا تھا۔ ‘تیرے نام’ کے بعد سلمان نے لمبا بریک لیا اور اس کے بعد ‘گرو’ فلم سے واپسی کی تھی۔ شائقین کا جوش انتہا پر تھا اور وہ سنیما ہال کی ٹکٹ ونڈو پر ہجوم در ہجوم نزول کررہے تھے۔ ایک ریلا آتا اور کئی لوگ ٹکٹ ونڈو کے باہر لگی لوہے کی سلاخوں کی تنگ سی لائن میں سما جاتے تھے،،، وہ لائن اتنی تنگ تھی کہ متوازن صحت والا صرف ایک ہی انسان اس میں آرام سے داخل ہوسکتا تھا لیکن اس وقت صورتحال دیگر تھی،،، دھکا مکی، گالی گلوچ، اور پیچھے سے آنے والے ریلوں کے درمیان اچانک کوئی کلمہ پڑھنے لگا،،، لائن کے باہر سے اس مرد مومن کو تلاش کیا گیا تو ٹکٹ کی لائن میں ایسی دگر دوں کیفیت میں نظر آیا جس میں اسے گمان ہو گیا تھا کہ وقت آخر آچکا ہے اور اب چل چلاؤ ہے۔
چل دئیے سوئے حرم کوئے بتاں سے مومنؔ
جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا

مسلم طلبہ کا ایک حلقہ ہے جو عموماً کلین شیو ہوتا ہے، نمازوں کا اہتمام کرتا ہے، ہفتہ واری درس قرآن میں شرکت کرتا ہے، تذکیر حدیث میں موجود رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ فلموں سے تزکیہ نفس اور روحانیت کشید کرنے پر بھی یقین رکھتا ہے۔ ہم انہیں فلیکسیبل مسلمان کہہ سکتے ہیں جو تلوار مسلمان کی ضد ہوتے ہیں۔ ایسے ہی دو نوجوانوں کی اتفاقیہ ملاقات سنیما ہال کے ٹکٹ ونڈو پر ہوئی تو پہلے نے بے اختیار دوسرے سے کہا۔
"بھائی آپ کہاں غائب ہیں، اس ہفتے نہ تو درس قرآن میں نظر آئے اور نا ہی تذکیر حدیث میں،،، آؤ بھئی ایسے مت کرو۔ ”
اس دوران ہی ونڈو سے دو ٹکٹ بھی لے لیے گئے، ایک اپنے لیے ایک ساتھی کیلئے۔

اللہ رمضان المبارک میں کی گئی ہماری ٹوٹی پھوٹی عبادات کو قبول فرمائے اور سئیات کو حسنات سے تبدیل فرماتے ہوئے کہنے سننے سے زیادہ عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے