دو عیدوں کے پیچھے ایک طاقت ہے

ایک ربط ہے بے ربط سا، ایک سلسلہ ہے بلاوجہ۔ یوں تو پاکستان کی تاریخ اس حوالے سے کافی پرانی ہے جہاں سیاست دان اپنے حریفوں کی شان بڑھانے کے لیے ‘سنہری حروف’ کا استعمال کرتے رہے ہیں لیکن اس بار بات میں کچھ زیادہ ہی دم ہے۔

آخر کیا مضائقہ ہے اگر ایک کی جگہ دو عیدیں منا لی جائیں کسی کا کیا جاتا ہے؟ ایک طرف تو پوپلزئی کا کاروبار چمکتا رہے گا اور دوسری طرف اسٹیٹ بنک کی چھت پر رونق لگی رہے گی بیچاری ویسے بھی خالی پڑی رہتی ہے اب وہ رونق عوام کو اگر چالیس لاکھ میں پڑ بھی جائے تو کیا؟ یہاں کون سا کوئی غریب بھوکا مررہا ہے، یہاں کون سے گھروں میں ڈاکے پر رہے ہیں؟ یہ چالیس لاکھ میڈیا کا کتنا کاروبار چمکاتے ہیں اس امر کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے، کبھی 5 سے 7 بجے کی ٹی وی سلاٹ تو کبھی 5 سے 12 کی سلاٹ اس پررونق منظر کی نذر کر دی جاتی ہے اور یہ 40 لاکھ کروڑوں کا منافع کروا جاتے ہیں۔

اس بے ربط سلسلے میں ایک مزید کڑی تب جڑی جب فواد چوہدری سے وزارت اطلاعات چھین کر وزارت سائنس و ٹیکنالوجی سونپ دی گئی۔ اچھی خاصی دو عیدیں جو ایک عرصے سے اس ملک و قوم کی تفریح کا باعث تھی فواد چوہدری نے ایک عید میں بدلنے کی کوشیشیں تیز کر دی اور تو اور آو دیکھا نہ تاو مون سائٹنگ ایپ ہی متعارف کروا دی۔ اب یہ ایپ کیا نیا عذاب ہے جی؟۔ چلتی چلاتی سرکس کے کرداروں میں تھرتھلی مچ گئی۔ فواد چوہدری کو اس حساس معاملے سے دور رہنے کی دھمکی دے دی گئی اور دھمکی کیوں نہ دی جاتی مذہب میں سائنس کا کیا کام ؟ جو کام اسٹیٹ بنک کی چھت پر پررونق طریقے سے ہو رہا ہے اسے ایک ایپ کی حد تک محدود کرنا عقلمندی ہے؟
اورتو اورعید بھی ایک کر دیں نہ بھئی نہ !

حکومتی وزیر کی جان کو پھر بھی سکون نہ آیا اور ایپ لے کر پہنچ گیا کابینہ کے اجلاسوں تک شائد مقصد عہداداروں کو یہ یاد کروانا تھا کہ غلطی سے ‘دو نہیں ایک پاکستان’ کا نعرہ لگا بیٹھے ہیں اب باری عمل کی ہے لیکن فواد چوہدری کی ایپ بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپتی رہی اور اسے پانی یہاں بھی پانی نہ ملا۔

ایپ کو اہمیت نہ ملنا فواد چوہدری کی نااہلی تھی کابینہ کی نااہلی تھی یا کچھ اور ؟۔ معاملہ ایک صحافی نے سوشل میڈیا پر اٹھا دیا وہ سارا ضبط جو حکومتی عہدادار اپنی ہی کابینہ کے فیصلوں پر کیے بیٹھے تھے صحافی پر نکال دیا۔ اخلاقیات کا اس سے عظیم مظاہرہ شاید ہی پہلے کبھی سوشل میڈیا پر دیکھا گیا ہو۔ یوں سوشل میڈیا پر سنہری حروف کے تبادلے کا ایک سلسلہ چل نکلا جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا، فواد چوہدری خود جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام سے پڑھے لکھے ہونے کا ثبوت مانگ رہے ہیں۔ کیا جہالت سے علم بانٹا جا سکتا ہے ؟

سوال حاکم وقت سے ہے کب تک یہ ملک ملا گردی کی بھینٹ چڑھتا رہے گا ؟ وزرا دین کی حساسیت کو نہیں سمجھتے تو پھر وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں وزیر کیوں ہیں؟

اور کب تک یہ ملا دین کی حساسیت کی دھمکیاں دے کر ملک کا بٹوارا جاری رکھیں گے؟ دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ صرف اپوزیشن کی حد تک محدود کیوں؟
اگر انہیں نہ روکا گیا تو دو نہیں چار عیدیں بھی ہوسکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین