جنگی جرائم بے نقاب کرنے پر آسٹریلوی ٹی وی پر چھاپہ

آسٹریلیا میں پولیس نے سرکاری ٹی وی اے بی سی کے دفتر پر چھاپہ مار کی دستاویزات قبضے میں لی ہیں جس کے بعد دنیا بھر میں صحافت کی آزادی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور عالمی ذرائع ابلاغ نے سخت مذمتی پیغامات نشر کیے ہیں۔

اس سے قبل پولیس نے آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن سے منسلک صحافی تیمور لیست کے گھر پر چھاپہ مار کی تلاشی لی تھی۔

آسٹریلیا کے سرکاری ٹی وی چینل اے بی سی نے افغانستان میں آسٹریلوی فوجیوں کے جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے دستاویزی ثبوت نشر کیے تھے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اے بی سی کے دفتر پر چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے جاری کیے گئے بیان میں اس کو ’پریشان کن‘ قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بات انتہائی پریشانی کا باعث ہے کہ نشریاتی ادارے کے دفتر کی تلاشی کے لیے چھاپے مارے جائیں۔

آسٹریلوی پولیس نے ٹی وی چینل کو دستاویزات فراہم کرنے والے سابق فوجی وکیل اور دیگر گواہوں کے خلاف بھی مقدمات درج کیے ہیں۔

ٹوئٹر پر برنارڈ کین نے آسٹریلوی وزیراعظم سکاٹ موریسن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کی بہت باتیں کرتے ہیں۔ اگر آسٹریلیا میں قانون کی حکمرانی ہے تو صحافی کے گھر پر چھاپہ مارنے والوں کے خلاف مقدمہ چلایا جانا چاہیے نہ کی اس کی گواہی دینے والوں کے خلاف۔

اے بی سی ٹی وی چینل کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈیوڈ اینڈرسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’پولیس کے چھاپے نے صحافت کی آزادی پر سنجیدہ قانونی تحفظات پیدا کر دیے ہیں۔‘

بیان کے مطابق اے بی سی اپنے صحافیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور بغیر کسی خوف، دباؤ یا لالچ کے نیشنل سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں پر بھی اپنی رپورٹنگ جاری رکھے گا جب معاملہ واضح طور پر عوامی مفاد کا ہوگا۔‘

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے