ماسٹر اور مائنڈ

مطیع اللہ جان

سارے تجزیے ایک جملے کی مار ہیں، مگر وہ جملہ کون لکھے؟ سارے جرائم کے پیچھے ایک مجرم ہے، مگر نام کون لے؟

تجزیے سونے کا وہ ایک انڈہ ہیں جس کا روزانہ ملنا ضروری ہے- کون ایک ہی جملے میں اور اصل مجرم کا نام لے کر سونے کے انڈے دینے والی مرغی کو ذبح کرنا چاہے گا؟ ججوں، جرنیلوں، سیاستدانوں، بیوروکریٹوں، سماجی کارکنوں اور صحافیوں کو سب پتہ ہے اور موجودہ سیاسی بحران ایک جملے کے فیصلے، ایک جملے کے استعفے، ایک جملے کے بیان، ایک جملے کے نوٹ، ایک جملے کی رپورٹ اور ایک جملے کی خبر کی مار ہے- مگر کیا ہے کہ اس ایک جملے کو نہ بول سکنے اور اس ایک طاقت ور مجرم کا نام نہ لے سکنے کی وجہ وہ سونے کا انڈہ ہے جو ہمیں ہر مہینے اپنی اپنی تنخواہوں، مراعات اور مفادات کی صورت مل رہا ہے۔ سونے کا انڈا دینے والی مرغی نے ہمیں اتنا بزدل بنا دیا ہے کہ سچ کا ایک جملہ نہ لکھنے اور بول سکنے کے باعث ہمیں جھوٹ، منافقت، فریب، مکاری اور عیاری کے سینکڑوں جملوں اور بیانات لکھنے اور بولنے پڑھتے ہیں-

ستم ظریفی یہ ہے کہ ایسے سینکڑوں جملوں اور بیانات کو پڑھنے والے عام عوام بھی اس ایک جملے کے سچ کو جانتے ہیں اور اس ایک مجرم کو جانتے ہیں- عوام بھی جانتے ہیں کہ سینکڑوں جملے لکھنے والے کیا کہنا چاہ رہے ہیں اور کس کا نام ڈر کے مارے نہیں لے پا رہے- وہ سوچتے ہیں کہ اگر سابق اور موجودہ منتخب وزرائے اعظم اس ایک جملے کا سچ اور ایک مجرم کا نام نہیں لے پا رہے تو بھاڑ میں جائے ہمارا ووٹ اور اس کی عزت- اگر لیڈر ہی مصلحت پسند ہے تو عوام کو پاگل کتے نے کاٹا ہے کہ ایک جملے کے سچ کا راگ الاپے۔

جب اٹھائے جاتے ہیں اور دھشت گرد قرار دے کر مارے جاتے ہیں تو بچانے والا کون ہوتا ہے- ہم وہ قوم ہیں جو شکست کھانے والے دن تک اپنے آپ سے جھوٹ بولتے رہتے ہیں۔ قوم کی شکست کے ذمے داروں کا احتساب کرنے کی بجائے ان کا کاندھا استعمال کر کے سیاست کی کامیابی کی بلندی چھوتے ہیں- اقتدار میں بار بار آنے کے لئیے بار بار اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے تاک میں رہتے ہیں- اقتدار کی خاطر باپ کے قاتلوں کے سینے پر بھی مسیحائی کے تمغے سجاتے ہیں، آزادی کا علم بلند کرنے کے بجائے زنجیر پہن کر اقتدار کا رقص کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں، قاتلوں کے آلہ کار بنتے ہیں، اپنے قاتل اور آلات قتل کا انتخاب بھی خود ہی کرتے ہیں اور اپنے ہی گھر کی کھڑکی کے راستے نکالے جانے پر دوبارہ اسی راستے گھر میں واپس آنے کے لیے چوکیدار سے ساز باز کرتے ہیں- مختصر یہ کہ ہم جیسے تھے ویسے ہیں-

حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کو سیاسی طور پر بیچ کھانے والا بھٹو ہو یا اس کی بیٹی اور پہلی مسلمان خاتون وزیراعظم بے نظیر دونوں نے سمجھا کہ عوام کے مینڈیٹ میں فوجی آمروں اور ان کی باقیات کو شراکت دار بنا کر یا انہیں غیر ضروری طور پر خوش رکھ کر وہ خود اور ان کی خود ساختہ جمہوریت بچ جائیں گے- وہ دونوں غلط تھے- نواز شریف نے سمجھا قاتل کے کاندھے سے اتر کر اس کا خنجر چھینا جا سکتا ہے- وہ بھی غلط تھا- اس شرکت داری اور آلہ کاری نے ان سیاستدانوں اور جمہوریت کو آج ایک گہری کھائی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے- افسوس اس بات کا ہے کہ ان دونوں سیاسی جماعتوں نے اپنی بزدلانہ روش نہیں چھوڑی- ایوان صدار اور وزیراعظم ہاؤس میں کئی سال اقتدار کے مزے لینے والے ان سیاستدانوں میں آج بھی ایک جملے کا سچ بولنے اور ایک مجرم کا نام لینے کی ہمت نہیں پیدا ہوئی۔

یہ ہمارے لیڈر اپنے، جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ کے قاتلوں کا نام لینے کی بجائے قاتل کا وہ نقشہ کھینچتے ہیں کہ قاتل سمجھ بھی جائے اور ناراض بھی نہ ہو۔ اب خلائی مخلوق کیسی ہوتی ہے؟ ایسے الفاظ کا سن کر عوام کو غصہ نہیں ہنسی آتی ہے- لوگ مجرم کو نفرت سے دیکھنے کی بجائے مسکرا کر دیکھتے ہیں اور مجرم بھی مسکرا دیتا ہے- اور یوں آئین سے سنگین غداری کا جرم لاہور کے کسی تھیٹر کی مشہور جگت بن کر رونے کے مقام کو ایک تفریحی مقام میں بدل دیتا ہے- یہی وہ کمزور دلی ہے جس نے ان سیاستدانوں اور جمہوریت کو پارلیمنٹ سے نکال کر میڈیا کے سرکس ماسٹروں کے سامنے لا کھڑا کیا ہے- بھئی چھوڑو یہ بزدلی اور منافقت اگر جنرل ضیا الحق ایک بدبودار منافق فوجی ڈکٹیٹر تھا، جنرل مشرف ایک مفاد پرست آئین کا غدار تھا، جنرل کیانی نے عدلیہ سے گٹھ جوڑ کر کر کے حکومت کو کمزور کیا اور ایبٹ آباد میں امریکی حملہ روکنے میں ناکام ہوا، جنرل راحیل شریف نے پی ٹی آئی دھرنے کے ذریعے حکومت گرانے کی کوشش کی اور پشاور میں آرمی پبلک سکول حملہ روکنے میں ناکام ہوا تو کیا یہ قوم ان جرائم پر خلائی مخلوق جیسے حوالوں کے پر مسکرائے یا روئے۔

اپنے اور دراصل قوم کے ساتھ اتنا کچھ ہونے کے باوجود اگر نواز شریف اور آصف زرداری عوام کو خلائی مخلوق اور محکمہ زراعت جیسے لطیفوں سے بہلا رہے ہیں تو پھر ان کے ساتھ جو بھی ہو رہا ہے وہ ٹھیک ہو رہا ہے- ایک ایبٹ آباد کمیشن کے سامنے نہ خود پیش ہوا نہ اپنے آرمی چیف کو پیش کر سکا (شاید دونوں شریک جرم تھے) اور دوسرا پشاور آرمی پبلک سکول میں بچوں کے قتل عام میں سنگین غفلت پر فوری ایکشن کی بجائے دھرنا ختم ہونے پر ہی مطمئن ہو گیا-

افسوس اس بات کا ہے کہ یہ دونوں اب بھی اپنی ایسی چند کوتاہیوں کو ماننے یا ان سے سیکھنے کو تیار نہیں- کیا یہ درست نہیں کہ آج ملک کی عدالت، سیاست اور صحافت جس آمرانہ شکنجے میں ہے ایسا شکنجہ جنرل ایوب، جنرل ضیا، جنرل مشرف کی بلاواسطہ حکومت اور جنرل کیانی اور جنرل راحیل شریف کے بلواسطہ دور میں بھی نہ تھا- ہم سب مانتے ہیں کہ یہ بات درست ہے- اور کیا ہمارے اس ماضی اور حال کے سول ملٹری عدم توازن سے ہمارے چیف جسٹس صاحبان جیسے جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس تصدق جیلانی، جسٹس ناصر الملک، جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس ثاقب نثار اور اب جسٹس آصف سعید کھوسہ واقف نہیں تھے یا ہیں-

بشکریہ ہماری سیاسی قیادت کی بزدلی ہم بطور قوم خلائی مخلوق اور محکمہ ذراعت کو مجرم سے زیادہ ایجاد کی مادر ملت سمجھنا شروع ہو گئے ہیں- جنرل ایوب خان سے لیکر آج تک کچھ نہیں بدلا بلکہ بدتر ہو گیا ہے اور ہم ہیں کہ ایک جملے کا سچ نہیں بول سکتے- کم از کم اتنا تو کہہ سکتے ہیں کہ اگر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ چاہیں تو ایک لمحے میں سب کچھ آئین کے مطابق ہو سکتا ہے اور اگر وہ چاہتے تو سب کچھ آئین کے مطابق ہو سکتا تھا۔ ہماری سیاست کی ستم ظریفی تو یہی ہے۔

سیاستدانوں کے برعکس صحافی تاریخ کا پہلا مسودہ ماضی نہیں حال کے صیغے میں لکھتا ہے۔ آج ملک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کا ماسٹر مائنڈ کون ہے؟ ہم سب جانتے ہیں- افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری قوم کی تقدیر کے ماسٹر کوئی اور ہیں اور مائنڈ کوئی اور، جو ماسٹر ہیں وہ مائنڈ نہیں اور جو مائنڈ ہیں وہ ماسٹر نہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ماسٹر کو مائنڈ کی ذمے داری دینی چاہئیے ؟ یا پھر مائنڈ کو اس قوم کی تقدیر کا ماسٹر ہونا چاہیے؟ جواب واضح ہے کہ ترقی یافتہ اور مہذب معاشروں میں ہمیشہ ”مائنڈ ماسٹر“ ہوتے ہیں نہ کہ ”ماسٹر مائنڈ۔“ بد قسمتی سے ہمارے ہاں ڈنڈے سے سبق پڑھانے والے کو ماسٹر مانا جاتا ہے۔

ستتر سال سے ہم ماسٹر جی کی لاٹھی کے آگے بھینس کی مانند چل رہے ہیں- ہم اپنا مائنڈ صرف چند باتوں اور مغالطوں پر ”مائنڈ“ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں- باوجود معاشرتی اور سیاسی کمزوریوں کے کسی بھی قوم کا مائنڈ اس کے سیاستدان، ٹیکنوکریٹ، بیوروکریٹ، سائنسدان اور یونیورسٹی کے محققین ہوتے ہیں- جن معاشروں میں ایسے مائنڈ ماسٹر بن جائیں وہ جمہوری مہذب معاشرے کہلاتے ہیں- ان معاشروں میں دوسرے طبقے ان مائنڈ ماسٹروں کو جوابدہ ہوتے ہیں-

پاکستان میں یہ سب کچھ الٹ ہے- وزیر قانون فروغ نسیم نے سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس قاضی فائض عیسی کے خلاف ریفرنس کے پیچھے اپنے ماسٹر مائنڈ ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے- بنیادی طور پر بطور وکیل وہ مائنڈ تو ہیں مگر ان کا ماسٹر وہ ہے جس نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کا حلف اٹھا رکھا ہے- اب ایسی ”ماسٹر سٹروک کا کریڈٹ“ کوئی فضائیہ یا بحریہ کے سربراہان کو دینے سے تو رہا۔

روزانہ شام کو راولپنڈی کی پرانی مری بروری کے پڑوس میں جو اجلاس ہوتے ہیں وہاں بہت سے ”مائنڈز“ (Minds) کی قیادت ایک ماسٹر کے ہاتھ میں ہوتی ہے- فروغ نسیم انہیں محفلوں کا ایک چراغ ہیں- اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انورمنصور اور فروغ نسیم موجودہ عہدے سنبھالنے سے پہلے آئین سے سنگین غداری کے اعلانیہ ملزم اور مری بروری کے پرانے پڑوسی اور سابق ماسٹر مائنڈ جنرل مشرف کے وکیل بامعاوضہ بھی رہے ہیں (اب بلا معاوضہ)-

جسٹس فائز عیسی کے خلاف ریفرنس کی وجہ بھی سب پر عیاں ہے- تینوں افواج کے سربراہان کو مشہور فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے جسٹس فائز عیسی نے حکم دیا تھا کہ سیاسی سرگرمیوں میں ملوث اپنے ماتحتوں کے خلاف حلف کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے- اس حکم کے خلاف بے چاری وزارت دفاع کے ذریعے ایک نظرثانی درخواست میں کہا گیا کہ ایسے ریمارکس اور یہ حکم واپس لیا جائے-

قانون کے مطابق نظرثانی درخواست بھی جسٹس فائز عیسی نے ہی سننی تھی- اور درخواست مسترد ہونے کا امکان زیادہ تھا جس کے بعد فوج کے ادارے کو آئین کے مطابق سیاسی محاذ سے تاریخ میں پہلی بار پسپائی اختیار کرتے ہوئے سیاست میں ملوث اپنے چند افسران کے خلاف کارروائی کرنا پڑتی- مگر شاید اس ملک میں چند فوجی افسران کو نوکری سے نکالنا سپریم کورٹ کے ججوں کو گھر بھیجنے سے زیادہ مشکل کام ہے- یوں بھی ایسا کرنا ادارے کے مستقبل کے سیاسی نوعیت کے ممکنہ منصوبوں کے لئیے دھچکا ہوتا۔

اپنی سینیارٹی کے باعث ویسے بھی جسٹس فائز عیسی نے سنہ 2023 میں چیف جسٹس کے عہدے پر فائض ہونا ہے جو ایک اور بڑا خطرہ ہے ان سیاسی منصوبوں کے لیے جن کی تکمیل کے لیے عمران خان کی قیادت پر کافی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے- جسٹس فائز عیسی کے خلاف ریفرنس کی صورت میں اب گیند پانامہ بنچ کے اہم رکن اور موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی کورٹ میں آ گئی۔ وہ چاہتے اور اب بھی چاہیں تو قانونی طور دھرنا کیس کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستیں جسٹس فائز عیسی کے سامنے لگا سکتے ہیں- مگر بظاہر ریفرنس دائر ہونے کا انتظار کیا گیا تاکہ ٹیکس قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر ریفرنس کے ہدف اور قوم کے اصل مائنڈ فارغ کیے جا سکیں اور آئین اور حلف کی سنگین خلاف ورزی کرنے والے ماسٹر نہ صرف قانونی کارروائی سے بچ جائیں بلکہ اپنے اگلے کئی سالہ منصوبے پر بھی کام جاری رکھ سکیں- اس ریفرنس کے اچانک یوں نمودار ہونے اور نظرثانی درخواست کا اس دوران سماعت کے لئیے مقرر نہ ہونے کی اور تو کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔

اِنکم ٹیکس قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر اکتیس توپیں داغنے والے یہ تو جانتے ہی ہیں کہ آئین اور قانون کے تحت سپریم کورٹ کا جج اپنے فیصلوں کے خلاف دائر کردہ نظرثانی درخواست سننے کا حق رکھتا ہے- آئین کے تحت دھرنا کیس میں فیصلے کے خلاف دائر نظر ثانی درخواستوں کی سماعت جسٹس قاضی فائز عیسی اب بھی کر سکتے ہیں- مگر دھرنے اور ہمارے اداروں کے سیاسی کردار سے متعلق یہ تاریخی فیصلہ ہی تو تھا جس باعث جسٹس فائز عیسی کو ریفرنس میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے- اگر ایسا نہیں ہے تو پھر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کل ہی دھرنا نظرثانی درخواستیں جسٹس فائز عیسی کے سامنے کیوں نہیں لگا دیتے؟ چیف جسٹس کی اس معاملے میں خاموشی ان کے پانامہ بنچ میں ڈرامائی فیصلے المعروف ”گاڈ فادر“ کے ذریعے نواز شریف کی بنا ٹرائل نااہلی کی وجہ بھی عیاں کرتی ہے۔

ایک طرف تو ماتحت ادارے کی ”چین آف کمانڈ“ ہے جس نے اپنے چند افسروں کے دفاع میں ملک کی اعلی ترین عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کا عندیہ دے دیا ہے- دوسری طرف ایک آئینی ادارے کی ”چین آف کمانڈ“ ہے جو اپنے ادارے کے ایک فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کی بجائے فیصلہ لکھنے والےمعزز جج اور اپنے ادارے کی حرمت کے دفاع میں اب تک مکمل ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

کیا اعلانیہ مارشل لاؤں کی خدمت گزاری و اطاعت بذریعہ حلف وفاداری کی عدالتی تاریخ اب بغیر کسی حلف وفاداری کے دوہرائی جا رہی ہے۔

وزیر ریلوے شیخ رشید کا مشہور قول ہے کہ ”دودھ بازار میں دستیاب ہو تو گھر میں بھینس پالنے کی کیا ضرورت ہے“ اسی طرح جب کسی نئے حلف وفاداری کے بغیر ہی ”وفا“ دستیاب ہو تو بے وفائی کا ڈر کیسا۔ یہاں بدنیتی کا عنصر اہم کردار ادا کرے گا- اسی بدنیتی کے عنصر کی بنا پر ۲۰۰۷ میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف جنرل مشرف کا ۹ مارچ ۲۰۰۷ کا ریفرنس سپریم کورٹ نے اٹھا باہر پھینکا تھا اور اصل الزامات پر بحث کی نوبت ہی نہ آئی تھی-

دھرنا فیصلہ سے لے کر آج تک اور ریفرنس سے متعلق معزز جج کا جو میڈیا ٹرائل کیا گیا ہے اس کے ثبوت جج صاحب کے صدر مملکت عارف علوی کے نام دو خطوط ہیں- جہاں تک تعلق ہے بیرون ملک اثاثے ظاہر نہ کرنے کا تو جسٹس قاضی فائز عیسی نے ابتدائی طور پر صدر کے نام ایک خط میں بتا دیا ہے کہ لندن کی چند لاکھ پونڈز کی یہ جائداد ان کی اہلیہ اور بچوں کے نام پر ہے جو کئی سال سے ان کے زیر کفالت نہیں-

ویسے بھی اعلی عدالتوں کے ضابطہ آخلاق میں سیاستدانوں کے لیے آئین کے آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ میں مذکور صادق اور آمین جیسے الفاظ درج نہیں جن کی خلاف ورزی کسی عدالت میں ثابت ہونے پر ہی سیاستدانوں کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے- اس کے باوجود بھی پہلے اہلیہ اور بچوں کو جج موصوف کے زیر کفالت ثابت کرنا ضروری ہو گا، پھرجائداد کا جج کے وسائل سے خریدا جانا، اور پھر یہ ثابت کرنا کہ متعلقہ محکمے یعنی ایف بی آر نے انہیں اس حوالے سے کوئی نوٹس بھیجا یا نہیں؟

آخر میں سب سے بڑا چیلنج ججوں کے ضابطہ اخلاق میں اثاثوں کو چھپانے سے متعلق کسی شق کی تلاش ہے جو بظاہر مشکل نظر آتا ہے- جسٹس قاضی فائز عیسی کا مسئلہ قانونی سے زیادہ سیاسی ہے اور یہ ریفرنس نیت کے اعتبار سے نو مارچ ۲۰۰۷ والے جنرل مشرف کے ریفرنس سے مختلف نہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے