دھونی کے گلووز بیج پر پابندی کا تنازع

کرکٹ کی عالمی تنظیم انٹرنیشل کرکٹ کونسل کی جانب سے انڈیا کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر ایم ایس دھونی کے کیپنگ گلووز پر بلیدان بیج کی نشاندہی کر کے ہٹانے کے لیے کہنے پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

انڈین میڈیا نے آئی سی سی کا نوٹس سامنے آنے کے بعد ہنگامہ کھڑا کر کے اس کو سب سے بڑا قومی مسئلہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

انڈیا کے ٹی وی چینل ٹائمز ناؤ نے اس پر باقاعدہ مہم شروع کی ہے۔

انڈیا کے ہزاروں سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی برسوں تک میدان میں نماز ادا کرتے رہے تو کرکٹ کونسل کو وہ کیوں نظر نہیں آئے۔

بعض صارفین نے ویسٹ انڈیز کے بولر کے فوجی سلیوٹ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا یہ قانون اور کھیل کے اصولوں کے مطابق ہے۔

ایک صارف نے آسٹریلیا کی جانب سے نو بال پر کرس گیل کو آؤٹ کرنے سے چشم پوشی اور گلووز پر نظر رکھنے کی تصویر اپلوڈ کر کے آئی سی سی پر تنقید کی ہے۔

انڈیا کے سپورٹس کے وزیر نے بھی معاملہ پر لب کشائی کی ہے۔

آئی سی سی کی ویب سائٹ کے مطابق انڈین کرکٹ بورڈ کو آئی سی سی کی جانب سے تحریری طور پر انتباہ دیا گیا ہے کہ اپنے وکٹ کیپر مہندر سنگھ دھونی کو فوج کے نشان والے گلووز پہننے سے روکا جائے۔ 
 آئی سی سی کے کسی بھی ایونٹ میں قوانین کے تحت مذہب، سیاست یا لسانیت کو ابھارنے والی حرکت یا اپنی کٹ میں ایسی کسی چیز کے استعمال کو روک دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین